تفہیم المسائل
سوال: اگر کوئی نمازِ عشاء کے بعد فجر تک ساری رات جاگتا رہے اور نوافل پڑھتا رہے، تو کیا اس قیامُ اللّیل پر تہجّد کا اطلاق ہوگا یا اُسے تہجد کا ثواب ملے گا، بعض حضرات کہتے ہیں: عشاء کے بعد کسی بھی وقت سوکر جب اٹھیں گے تو اس وقت کے نوافل تہجد کہلائیں گے، نیز اگر کوئی عشاء کے بعد رات بھر جاگتا رہے اورصبح صادق تک حسبِ توفیق نوافل پڑھتا رہے تو اسے تہجد کا ثواب ملے گا۔
نیز ایک امام صاحب نہایت شدّت کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ تہجد کے لیے سوکر اٹھنا ضروری نہیں ہے، کوئی رات بھر جاگ کر نوافل پڑھتا رہے، اُسے بھی تہجد کا ثواب ملے گا، دلائل کی روشنی میں اس کی وضاحت فرمائیں؟( حافظ فیضان قادری، بکراچی)
جواب: علّامہ سید محمد مرتضی زبیدی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ہَجَدَ القَومُ ہُجُوْدًا‘‘کے معنی ہیں:وہ لوگ سوئے اور ’’الہاجِد‘‘کے معنی ہیں: جیسا کہ تہجد ،’’الصحاح‘‘ میں ہے: ’’ہَجَدَ، وتَہَجَّدَ‘‘کے معنی ہیں:’’رات کوسویا‘‘اور’’ہَجَدَ وتَہَجَّدَ‘‘کے معنی ہیں:’’وہ جاگتا رہا‘‘، یہ اسمائے اضداد میں سے ہے اور اس کا اطلاق نیند اور بیداری دونوں پر ہوتا ہے اور ’’تَہَجَّدَللصلاۃِ أَو غیرِہَا ‘‘کے معنی ہیں:’’نماز کے لیے یا کسی اور کام کے لیے جاگا، (تاج العروس،ج:9،ص:334)‘‘۔
علّامہ ابوطاہر محمد یعقوب فیروزآبادی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ہُجُوْدنیند کو کہتے ہیں، جیسا کہ تَّہَجُّد اور اگر ھاء کے فتحہ کے ساتھ ’’ہَجُوْد‘‘ہو تواس کے معنی ہوں گے:’’مُصَلِّی باللَّیل‘‘ یعنی رات کو نماز پڑھنے والا اور اس کی جمع ’’ہُجَّدٌ‘‘ہے، ’’تَہَجَّدَ وَھَجَّدَ‘‘کا معنی ہے: ’’بیدار ہوا‘‘ اوربابِ افعال سے (جبکہ ہمزہ کو سلب ماخَذ کے لیے ہو) ’’أہْجَد‘‘کے معنی ہیں: ’’وہ سویا ‘‘،’’أنامَ الرَّجُلَ‘‘کا معنی ہے:’’اسے سویا ہوا پایا‘‘،(القاموس المحیط،ص:327-328)‘‘۔
غرض تہجد اسمائے اضداد میں سے ہے اور اس کے معنی ہیں: سونا یا جاگنا،علامہ ابوعبداللہ قرطبی مالکی لکھتے ہیں:ترجمہ:’’تَّہَجُّد، ہُجود سے ہے اور یہ اَضداد میں سے ہے ،’’ہَجَدَ‘‘کے معنی ہیں: وہ سویا، وہ بیدار ہوا، یعنی یہ لفظ متضاد معنی کا حامل ہے اور ’’ہَجَدَ‘‘اور’’تَھَجََّد‘‘کے معنی ایک ہی ہیں اور ’’ہَجَّدْتُّہٗ‘‘کے معنی ہیں: میں نے اسے سلایا یا میں نے اسے جگایا ا ور ’’تہجد‘‘ سونے کے بعد جاگنے کو کہتے ہیں۔ پس یہ نماز کا نام قرار پایا ،کیونکہ سونے والا نماز کے لیے جاگتا ہے، پس تہجد کے معنی ہیں: نماز کے لیے نیند سے بیدار ہونا ، (تفسیر القرطبی، ج:10،ص:308)‘‘۔
علامہ محمود بن عمر زمخشری لکھتے ہیں: ترجمہ:’’تہجد کے معنی ہیں: نماز کے لیے نیند کو ترک کرنا ،جیساکہ تاثّم کے معنی ہیں:گناہ کو ترک کرنا،(الکشاف، ج:2،ص:687)‘‘۔ قاضی محمد علی شوکانی لکھتے ہیں: ترجمہ: ’’تَّہَجُّد‘‘ھُجُودسے مشتق ہے، ابوعبیدہ اور ابن الاعرابی نے کہا: یہ اسمائے اَضداد میں سے ہے ،کہاجاتا ہے: ’’ہَجَدَ الرَّجُلُ‘‘ کے معنی ہیں: ’’وہ شخص سویا یا بیدار ہوا،(فتح القدیر، ج:3،ص:298)‘‘۔
قاضی محمد ثناء اللہ عثمانی پانی پتی لکھتے ہیں:’’میں کہتا ہوں: جب تہجد سے مراد ہے نماز کے لیے نیند کو تر ک کرنا تو اس کی تینوں صورتیں ہوسکتی ہیں:(۱) بالکل رات کو نہ سونا اور نماز پڑھتے رہنا، (۲)شروع رات میں بیدار رہ کر نماز پڑھنا، (۳)سوجانا اور پھر بیدار ہوکر نماز پڑھنا،(تفسیر مظہری، ج:7،ص:71)‘‘۔
علامہ پیر محمدکرم شاہ الازہری لکھتے ہیں:’’ہُجُوْد، اضداد سے ہے، سونے اور بیدار ہونے دونوں معنوں میں مستعمل ہوتا ہے، لغت کے امام الازہری نے اس لفظ کی تحقیق کرتے ہوئے لکھا ہے: تَھَجُّدْ: تَرْکِ ھُجُود(یعنی نیند کو ترک کرنا) کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جیسے تَأَثُّم گناہ کے ترک کرنے کو کہتے ہیں، (بحوالہ امام رازی)،(تفسیر ضیاء القرآن، ج:2، ص: 1349)‘‘۔
حدیث پاک میں ہے: ترجمہ:’’صحابی رسول حضرت حجاج بن عمر بن غَزِیَّہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: آپ فرماتے ہیں: تہجد یہ ہے کہ بندہ یکے بعد دیگرے قدرے سو نے کے بعد (بیدار ہوکر) نماز ادا کرے ، (المعجم الکبیر للطبرانی: 3216)‘‘۔
عشاء کے بعد سو کر اٹھیں اور نوافل پڑھیں، یہ تہجد ہے۔ تہجد کی نماز کے لیے عشاء کے بعد سونا شرط ہے، کیونکہ تہجد اس نفل نماز کا نام ہے، جو رات میں نمازِ عشاء کے بعد نیند سے اٹھ کر پڑھی جائے۔ البتہ عشاء کی نماز کے بعد اور سونے سے پہلے جو نوافل پڑھے جائیں، وہ رات کی نماز میں شامل ہوں گے، اُسے شریعت میں ’’ صلاۃُ اللّیل ‘‘یا قیامُ اللّیل ‘‘ کہا جاتا ہے۔
حدیث مبارک میں ہے: ترجمہ:’’ حضرت ایاس بن معاویہ مُزَنِیؓ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: رات میں کچھ نماز ضروری ہے ، اگرچہ اتنی ہی دیر جتنی دیر میں اونٹنی یا بکری کا دودھ دوہ لیتے ہیں اور فرضِ عشا کے بعد جو نماز پڑھی، وہ صلاۃُ اللّیل ہے،(المعجم الکبیرللطبرانی : 787)‘‘۔
علامہ ابنِ امیر حاج ؒ تہجد کے متعلق لکھتے ہیں: ترجمہ:’’رات کی نماز کی تہجد میں ترغیب دی گئی ہے اور شوافع میں سے قاضی حسین رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اصطلاح میں یہ (یعنی تہجد)رات میں سونے کے بعد کی نفل نماز ہے، (حلبۃ المجلی شرح منیۃ المصلی ، جلد:2، ص: 565)‘‘۔
صلاۃ ُاللّیل اور نمازِ تہجد کی تحقیق کے متعلق امام اہلسنّت امام احمد رضا خان قادریؒ لکھتے ہیں :’’حقِ تحقیق یہ ہے کہ یہاں دو چیزیں ہیں: صلوٰۃُاللّیل و نمازِ تہجد ۔ صلوٰۃُ اللّیل: ہر وہ نمازِنفل کہ بعد فرضِ عشاء رات میں پڑھی جائے ، حُضُورِ اقدس ﷺفرماتے ہیں :ترجمہ:’’عشاء کے بعد جو نماز پڑھی جائے، وہ سب نمازِ شب یعنی ’’صلوٰۃُ اللّیل‘‘ ہے‘‘۔ اور نمازِ تہجد وہ نفل کہ بعد فرضِ عشاء قدرے سوکر طلوعِ فجر سے پہلے پڑھے جائیں، طبرانی حجاج بن عمروؓ سے راوی ہیں: ترجمہ: ’’قدرے سو کر آدمی جو نماز ادا کرے، اسے تہجد کہا جاتا ہے‘‘۔ مَعالِم میں ہے: ترجمہ: ’’تہجد سونے کے بعد ہی ہوتی ہے‘‘۔ حلیہ میں قاضی حسین سے منقول ہے: ترجمہ:’’اصطلاح میں رات کو سونے کے بعد نوافل کی ادائیگی کوتہجد کہا جاتا ہے‘‘۔
و لہٰذا ردالمحتار میں فرمایا : ترجمہ:’’رات کی نماز اور قیامُ اللّیل تہجد سے عام ہے‘‘،(فتاویٰ رضویہ ، جلد7، ص:408-10)‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تہجُّد بھی ایک معنی میں صلوٰۃُ اللّیل ہے، لیکن یہ بایں معنیٰ صلاۃُ اللّیل سے خاص ہے کہ رات کو کچھ دیر سونے کے بعد جاگ کر نفل پڑھنے کا نام ہے۔
عشاء کے بعد سونے سے پہلے پڑھے جانے والے نوافل صلاۃُ اللّیل اور سونے کے بعد پڑھے جانے والے نوافل تہجُّد میں شامل ہوتے ہیں، امام اہلسنّت امام احمد رضا خان قادریؒ لکھتے ہیں:’’ جسے اپنے اُٹھنے پراطمینان ہو، اُس کے لیے افضل یہ ہے کہ وتر تہجُّد کے بعد پڑھے، پھر وتر کے بعد نفل نہ پڑھے، جتنے نوافل پڑھنا ہوں، وترسے پہلے پڑھ لے کہ وہ سب قیامُ اللّیل میں داخل ہوں گے اور اگر سونے کے بعد ہیں، تو تہجُّد میں داخل ہوں گے،(فتاویٰ رضویہ، جلد7،ص:446)‘‘۔
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی ؒ لکھتے ہیں:’’ایک رات میں بعد نمازِ عشا جو نوافل پڑھے جائیں، ان کو صلاۃُ اللّیل کہتے ہیں ، اسی صلاۃُ اللّیل کی ایک قسم تہجُّد ہے کہ عشاء کے بعد رات میں سو کر اُٹھیں اور نوافل پڑھیں، سونے سے قبل جو کچھ پڑھیں ، وہ تہجد نہیں ، (بہارِ شریعت ،جلد1، ص:677) ‘‘ ۔ بلکہ وہ صلوٰۃُ اللّیل ہے۔ (جاری ہے)
اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
darululoomnaeemia508@gmail.com