آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: سعودی حکومت کی طرف سے حج 2026 ءکے لیے جاری کردہ پالیسی کے مطابق ہر حاجی کے لیے قربانی کی رقم سعودی حکومت کو جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے، سرکاری حج اسکیم کے تحت جانے والے حجاج کی قربانی کی رقم ان کے حج پیکج میں شامل ہوگی، جب کہ پرائیویٹ حج پر جانے والے حجاج کا ویزہ اسی صورت میں جاری کیا جائے گا، جب وہ قربانی کی مقررہ فیس جمع کروائیں گے۔
قربانی کی یہ فیس سعودی عرب کے نامزد بینکوں میں جمع کروائی جائے گی اور سعودی حکومت کی جانب سے قربانی کا انتظام کیا جائے گا۔ اب تک کی ہدایات کے مطابق منتخب عاملین کے علاوہ کسی اور ذریعے سے قربانی کرنا سخت منع اور موجبِ جرمانہ و گرفتاری ہوگا، سعودی حکومت کے زیر ِاہتمام یہ قربانی ایام نحر کے تمام دنوں میں ہوگی۔
بعض ذرائع سے یہ بات علم میں آئی ہے کہ سعودی حکومت کے "شعبۂ اَضاحی" نے قربانی کی رقم کی ادائیگی کے بعد حج ٹور آپر یٹر ز کو مخصوص دورانیوں میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا تھا جن میں سے ہر منتظم نے اپنی سہولت کے اعتبار سے وقت اور دورانیہ منتخب کیا ہے۔
نیز اس کے لیے قائم کردہ پورٹل nusuk masar پر ہر قربانی کے عقد کے مقابلے میں تین افراد کو قربان گاہ جانے کی اجازت اور پرمٹ دینے کا وعدہ کیا گیا ہے، جن کا تعین حج منتظم نے کیا ہے۔
ان کے سامنے ان کے عقد کے حجاج کرام کی قربانی کی جائے گی، جو پھر اپنے گروپ کو اس قربانی کی اطلاع دے سکیں گے۔ اگر چہ اب تک کی اطلاع ہے کہ قربان گاہ میں ٹور آپریٹرز کا نمائندہ موجود ہو گا، مگر سابقہ تجربات سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مشکل امر ہوگا۔
علاوہ ازیں دیگر بعض ذرائع سے یہ بات بھی علم میں آئی ہے کہ سرکاری حج اسکیم کے حجاج کرام کی قربانی کا مکمل نظم حکومتی انتظامات کے تحت ہوگا، جس میں حج منتظم کی طرف سے منتخب حجاج کرام یا ان کے نمائندے کو قربان گاہ جاکر قربانی کی تصدیق کی اجازت بظاہر نہیں ہوگی۔
ان احوال میں قربانی کی تصدیق مشکل ہوگی کہ آیا قربانی کی بھی گئی ہے یا نہیں؟ نیز مقرہ وقت تک رمی نہ ہو اور اس سے قبل قربانی کردی گئی یا رمی تو اول وقت میں کر لی، لیکن قربانی کا وقت شام ، رات یا دوسرے دن کا کوئی وقت دیا گیا ہو تو حاجی کے لیے احرام کی پابندیوں کے ساتھ انتظار کرنا ایک مشکل امر ہوگا۔
ان تمام ممکنہ صورتوں سے نکلنے کے لیے آپ کی شرعی راہ نمائی درکار ہے کہ ایسا کیا طریقہ اختیار کیا جائے کہ تمام مناسک بہ حسن وخوبی سر انجام پائیں اور کسی بھی قسم کے شرعی قواعد کی خلاف ورزی کے موجب نہ ٹھہریں؟
مزید یہ کہ اگر کوئی حاجی اپنی طرف سے الگ قربانی بھی کرنا چاہے تو وہاں کے قوانین کے مطابق اب بظاہر یہ بہت مشکل ہے، اور خلاف ورزی کی صورت میں بھاری جرمانے کے ساتھ آئندہ کئی سال کے لیے حج اور عمرے کے ویزے سے محرومی کا خطرہ ہے۔
چوں کہ اس کے علاوہ کوئی متبادل صورت موجود نہیں،اور ہر حاجی کے لیے دوہری فیس ادا کرنا بھی مشقت کا باعث ہے، اس لیےکیاایسی صورت میں ترتیب کی مخالفت کی گنجائش ہوگی اور دم لازم نہیں ہوگا؟
جواب:صورتِ مسئولہ میں حجِ قران اور تمتع کرنے والے کو چاہیے کہ وہ حتیٰ الامکان رمی، حج کی قربانی اور حلق یا قصر کے درمیان ترتیب کی رعایت رکھے، حج کی قربانی کے متعلقہ ذمہ داران قربانی ہونے کی اطلاع دے دیں یا قربانی کا وقت پہلے سے بتادیا گیا ہو اور بعد میں اس کی یقینی تصدیق کی صورت نہ بن رہی ہو تو حاجی کے لیے قربانی کے مقررہ وقت کے بعد حلق یا قصر کرنا جائز ہوگا، اس صورت میں ترتیب کے مطابق ہی عمل ہوجائےگا۔
لیکن اگر قانونی پابندیوں کی وجہ سے ترتیب برقرار نہ رہ سکے یا ترتیب کی رعایت رکھنے میں سخت حرج ہو اور اس وجہ سے ترتیب کی رعایت نہیں رکھی گئی تو دم لازم نہیں ہوگا۔ (الحجۃ علیٰ أھل المدینۃ لمحمد بن الحسن الشيباني 2/ 372 ط: عالم الكتب – بيروت - فتح القدير، كتاب الحج، باب الجنايات 3/ 63 ط: دار الفكر، لبنان - شرح عقود رسم المفتي ص:38 إلى 41 ط:مكتبة البشری)
اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
iqra@banuri.edu.pk