آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: اگر کسی شادی شدہ مرد اور عورت سے زنا ہو جائے اور اس کے نتیجے میں ان کا ناحق بچہ پیدا ہو جائے تو یہ کتنا بڑا گناہ ہے اور اس گناہ کی میرے اللہ کے ہاں معافی کی گنجائش بھی ہے یا نہیں؟
جواب: زنا کبیرہ گناہ ہے، اور شادی شدہ مرد وعورت کا یہ فعل اور بھی زیادہ قبیح ہے، قرآن و حدیث میں زنا کی سخت مذمت اور اس پر سخت وعید بیان کی گئی ہے، اگر کسی سے یہ گناہ سرزد ہوجائے تو اسے چاہیے کہ صدقِ دل سے سچی توبہ کرے، سچی توبہ کرنے سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور سچی توبہ کا مطلب یہ ہے کہ اس گناہ پر دل سے ندامت اور پشیمانی ہو، اس گناہ کو فوراً ترک کردے اور آئندہ نہ کرنے کا پختہ عزم ہو، لہٰذا جس سے یہ گناہ سرزد ہوگیا ہو اور وہ سچی توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ وہ اسے معاف فرمائیں گے، اب اسے چاہیے کہ آئندہ گناہوں سے بچنے کا اہتمام کرے، اور کسی متبعِ سنّت اللہ والے سے اصلاحی تعلق قائم کرے اور جتنا ہوسکے اپنی نشست وبرخاست نیک لوگوں کے ساتھ رکھے، عبادات و طاعات میں اہتمام کے ساتھ مشغول رہے، حسبِ توفیق صدقہ بھی ادا کرتا رہے۔
باقی شادی شدہ عورت کا اگر زنا سے بچہ پیدا ہوگیا تو اس کا نسب زانی سے ثابت نہیں ہوگا، بلکہ بچے کا نسب شوہر سے ثابت ہوگا، اور وہ اس کا بچہ شمار ہوگا، الا یہ کہ شوہر اس بچے کے نسب سے انکار کردے، اور عدالت میں "لعان" کے ذریعہ نسب کی نفی کرے، اور قاضی/ جج لعان کی شرائط کے مطابق نسب کی نفی کا فیصلہ کردے، اس صورت میں بچے کی نسبت اس کی ماں کی طرف ہوگی۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ بواسطہ نبی کریم ﷺ اپنے گناہ گار بندوں سے ارشاد فرماتے ہیں: ترجمہ: ’’آپ کہہ دیجیے کہ اے میرے بندو! جنہوں نے (کفر و شرک کرکے) اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں کہ تم اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو، بالیقین اللہ تعالیٰ تمام (گزشتہ) گناہوں کو معاف فرمائے گا، واقعی وہ بڑا بخشنے والا، بڑی رحمت کرنے والا ہے۔‘‘ (بیان القرآن -سورۃ الزمر:53)
دوسری جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ترجمہ: ’’یقینًا اللہ تعالیٰ محبت رکھتے ہیں توبہ کرنے والوں سے اور محبت رکھتے ہیں پاک صاف رہنے والوں سے۔‘‘ (بیان القرآن- سورۃالبقرہ:222)حدیث شریف میں ہے:’’گناہ سے (صدقِ دل سے) توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح (پاک و صاف ہوجاتا) ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔‘‘ (سنن ابن ماجہ، باب ذکر التوبۃ، 5/ 320 و 321 ط: دار الرسالۃ العالميۃ) نیز دوسری حدیث میں ہے: ’’ہر بنی آدم (انسان) بہت زیادہ خطا کار ہے، اور (لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک) بہترین خطاکار وہ ہیں جو کثرت سے توبہ کرنے والے ہوں۔‘‘ (سنن ابن ماجہ، باب ذکر التوبۃ، 5/ 321 ط: دار الرسالۃ العالميۃ)