• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: چند دھوکے بازوں نے میرے ساتھ 404800 روپوں کا دھوکا اور فراڈ کیا، لیکن انہوں نے مجھے صرف 62000 روپے دیے۔ براہِ مہربانی مجھے باقی رقم کی وصولی کا طریقہ بتادیں؟ نیز اس کے متعلق شریعت کا حکم بھی واضح فرمادیں؟

جواب: کسی کا حق مارنا یا کسی کے حق پر قبضہ کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، اور جو شخص کسی کا واجب حق ادا کرنے پر قادر ہوکر بھی ادا نہ کرے وہ ظالم، غاصب اور سخت گناہ گار ہے، لہٰذا صاحبِ حق شرعی حدود میں رہتے ہوئے اپنے حق کی واپسی کا مطالبہ کرسکتا ہے۔

اگر غاصب زبانی مطالبے سے ادا نہ کرے تو سماجی اثر و رسوخ استعمال کرے، اگر کسی بھی طرح حق واپس دینے پر راضی نہ ہو تو صاحبِ حق کو قانونی چارہ جوئی کی شرعاً اجازت ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں آپ مذکورہ بالا طریقہ اپنا کر اپنا حق وصول کرسکتے ہیں اور ساتھ ساتھ اپنے حق کی وصول یابی کے لیے ‌"رَبِّ أَنِّي ‌مَغْلُوبٌ ‌فَانْتَصِرْ " ، "حَسْبُنَا الله وَ نِعْمَ الْوَكِيْل نِعْمَ الْمَوْلَي و نِعْمَ النَّصِيْر"، اور چلتے پھرتے ’’یَا بَاسطُ‘‘ پڑھتے رہیں۔

اقراء سے مزید