• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نوجوان طبقے کا کردار اور ذمے داریاں (اسلامی تعلیمات کی روشنی میں)

ڈاکٹر نعمان نعیم

نوجوانی و شباب انسان کی عمر کا وہ حصہ ہے جو سن بلوغت سے شروع ہوتا ہے اور عمر کے چالیس برس تک جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسانی زندگی کے تین مراحل ذکر فرمائے ہیں: ’’اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہاری پیدائش کی ابتداء کمزوری سے کی، پھر کمزوری کے بعد طاقت(جوانی) عطا فرمائی، پھر طاقت کے بعد( دوبارہ ) کمزوری اور بڑھاپا طاری کر دیا وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہی وہ ذات ہے جس کا علم اور قدرت کامل ہیں‘‘۔ ( سورۃ الروم)

انسان کی زندگی جن تین حصوں میں تقسیم ہے، ان میں جوانی کا زمانہ درمیان میں آتا ہے۔ جس سے اعتدال کا اشارہ ملتا ہے کیونکہ بچپن میں شعور نہیں ہوتا اور بڑھاپے میں قوت نہیں ہوتی جبکہ جوانی ان دونوں وصفوں کا حسین امتزاج ہوتی ہے، شعور اور قوت مل کر ہی علم و عمل کی راہیں ہموار کرتی ہیں۔

قرآن کریم نے نو جوانوں کے لیے ایسے لفظ کا انتخاب فرمایا ہے جس میں عقل و شعور کی پختگی کے ساتھ جسم و جان کی مضبوطی کا معنی بھی پایا جاتا ہے چنانچہ قرآن کریم میں ہے جس کا مفہوم یہ ہے : اور یتیموں کو جانچتے رہو یہاں تک کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں اس کے بعد اگر تم یہ محسوس کرو کہ ان میں عقل و شعور کی پختگی آچکی ہے تو ان کے مال انہی کے حوالے کردو۔ (سورۃ النساء) 

جوانی کا زمانہ چونکہ ہر اعتبار سے اپنے اندر پختگی اور اعتدال رکھتا ہے جس سے نوجوانوں کو اس بات کی تعلیم ملتی ہے کہ وہ عقائد و نظریات میں پختگی جبکہ اعمال و معاملات میں اعتدال سے کام لیں۔

نوجوان نسل ملک وملّت کے مستقبل کا ایک بیش قیمت سرمایہ ہے، جس پر ملک وملّت کی تعمیر وترقی موقوف ہے، یہی اپنی قوم اور دین وملت کے لیے ناقابلِ فراموش کارنامے انجام دے سکتے ہیں، یہ ایک حقیقت ہے کہ نوجوان کی تباہی، قوم کی تباہی ہے، اگر نوجوان بے راہ روی کا شکار ہوجائے تو قوم سے راہِ راست پر رہنے کی توقع بے سود ہے، جوانی کی عبادت کو پیغمبروں کا شیوہ بتایا گیا ہے۔رسول اکرم ﷺکی رحمت کابڑا حصہ نوجوانوں کے نصیب میں آیا ہے کیونکہ ہر قوم کا سرمایہ نوجوان ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم ﷺنے جب اللہ کے حکم کے مطابق دین اسلام کی دعوت دینا شروع کی تو جوان طبقے کو اس طرف بلایا اور نوجوانوں کی ایک بڑی جماعت نے اس پر لبیک کہا۔ جوانی، اتنا قیمتی زمانہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اس کی اہمیت کے پیش نظر اسے’’غنیمت‘‘ قرار دیا ہے، گناہوں سے حفاظت کی تدابیر اختیار کرنے کا حکم دیا ہے، قیامت کے دن اس زمانے کی اہمیت کی وجہ سے اس کا سوال ہوگا کہ اسے کیسے خرچ کیا اور جو بندہ اس زمانے میں اللہ کی عبادت کرتا ہے اللہ کریم قیامت والے سخت دن میں اسے’’سایۂ رحمت‘‘ نصیب فرمائیں گے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو!نوجوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، مال داری کو فقر وتنگدستی سے پہلے، فراغت کو مصروفیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے۔ (مستدرک حاکم)

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’قیامت کے دن کوئی بندہ اس وقت تک اپنا پاؤں نہیں اٹھا سکے گا جب تک اس سے پانچ چیزوں کے بارے سوال نہ کر لیا جائے، اس کی عمر کے بارے میں کہ کہاں خرچ کی، اس کی جوانی کے بارے میں کہ اسے کہاں ختم کیا، اس کے مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا اور علم کے بارے میں کہ اس پر کتنی حد تک عمل کیا‘‘۔ (جامع ترمذی)

قیامت کے دن بطور خاص جوانی کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اگر جوانی کو گناہوں کے بجائے نیکیوں میں خرچ کیا ہوگا اور جوانی میں خوب اللہ کی عبادت کی ہو گی تو اللہ رب العزت ایسے نوجوان کو قیامت والے دن جب ہر طرف گرمی اور تپش ہوگی ایسے وقت میں سایہ نصیب فرمائیں گے۔

حضرت ابو ہریر ہ ؓسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:’’سات خوش نصیب ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنی طرف سے سایہ عطا فرمائے گا جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی دوسرا سایہ نہیں ہو گا: انصاف کرنے والا حکمران، ایسا نوجوان جس نے اپنی جوانی اللہ کی عبادت میں گزاری ہو، وہ آدمی جس کا دل مسجد میں ہی لگا رہتا ہو، وہ دو آدمی جو اللہ تعالیٰ کی خاطر آپس میں محبت کریں، اسی کی خاطر ملیں اور اسی کی خاطر جدا ہوں، وہ آدمی جسے کوئی بڑے خاندان والی خوبصورت عورت گناہ کی طرف بلائے مگر وہ اس سے کہے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں، وہ آدمی جو اپنے دائیں ہاتھ سے اس طرح صدقہ کرتا ہے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی اس کے صدقے کا علم نہیں ہوتا۔ یعنی چھپا کر دے اور وہ آدمی جو تنہائی میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہوں‘‘۔ (صحیح بخاری)

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’ تمام مخلوق میں اللہ کے ہاں سب سے محبوب وہ نوجوان ہے جو سیرت کے اعتبار سے بھی خوبصورت ہو۔ اپنی جوانی اور خوب صورتی کو اللہ کی عبادت میں خرچ کرے ایسے نوجوان پر اللہ تعالیٰ ملائکہ کے سامنے فخر فرماتے ہیں اور انہیں فرماتے ہیں کہ یہ میرا سچا بندہ ہے‘‘۔(الترغیب فی فضائل الاعمال لابن شاہین)

اسلام کی پاکیزہ تعلیمات نوجوان نسل کو اچھے اخلاق وکردار کا خوگر بنانا چاہتی ہیں۔ اسلام کی پاکیزہ تعلیمات نوجوان نسل کواخلاقِ حسنہ کا درس دیتی ہیں، بزرگوں کا ادب واحترام، چھوٹوں پر شفقت، علماء کی قدر ومنزلت، محتاجوں اور بے کسوں کی دادرسی ہم عمروں کے ساتھ محبت والفت اور جذبہٴ ایثار وہمدردی کا سبق دیتی ہیں۔

نسل نو کے حوالے سے بے راہ روی کا مسئلہ ہمیشہ سامنے رہتا ہے۔ نسل نو بے راہ روی کی جانب مائل کیوں نظر آتی ہے؟ بے راہ روی کا اہم ترین سبب قرآنی تعلیمات سے دوری ہے۔ یہ طبقہ عموماً اجر و ثواب اور زیادہ سے زیادہ تلاوت کی حد تک قرآن حکیم کو ایک مذہبی کتاب سمجھتا ہے۔

اسے شعور ہی نہیں کہ قرآن حکیم کتابِ انقلاب ہے۔ یہ عصر حاضر کے چیلنجوں کا نہ صرف مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتی ہے بلکہ قیامت تک آنے والے تمام مسائل کاحل بھی فراہم کرتی ہے۔ دنیا و آخرت میں نجات اور اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرنے کے لئے نسل نو کا قرآن کے ساتھ تعلق قائم کرنا اس دور کا سب سے اہم تقاضا ہے۔

دورِ حاضر میں نوجوان نسل اولاً اسلام کے بارے میں بطریق احسن آگاہی نہیں رکھتی اور اگر رکھے تو وہ بھی ناقص اور کم علمی پر مبنی ہوتی ہے۔ اغیار نے اسی ہتھیار کو استعمال کرکے نوجوان طبقے کو فکری طور پر اسلام کے بارے میں بہت سی بدگمانیوں کا شکار کر دیا ہے۔ دین کے بارے میں کئی طرح کے خدشات اور اعتراضات ہیں جو نوجوان نسل کے قلوب و اذہان پر طاری ہیں۔ اس کی وجہ سے وہ دین سے دور اور شکوک و شبہات میں مبتلا ہیں۔

نوجوان نسل کی بے راہ روی کا ایک سبب اسلامی تاریخ اور علمی ورثہ سے بے خبری ہے۔ جو قوم اپنے علمی ورثہ سے غفلت برتتی ہے، وہ صفحۂ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹ جاتی ہے یا مٹا دی جاتی ہے۔ آج نوجوان طبقے کی اکثریت کا یہ حال ہے کہ وہ حضور نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ، خلفائے راشدینؓ کے کارناموں، صحابہ کرامؓ کی ان تھک جد و جہد سے ناآشنا ہے۔

صحبت ان عوامل میں سے مؤثر ترین عامل ہے جس سے نوجوان مثبت یا منفی طور پر متاثر ہوتے ہیں ۔ نسلِ نو کی بے راہ روی کا ایک اہم سبب صحبت صلحاء سے دوری ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ انسان جس طرح کی صحبت اختیار کرتا ہے، اسی طرح کے مزاج، طبیعت اور رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے: اچھے اور برے مصاحب کی مثال مشک والے اور بھٹی دھونکنے والے جیسی ہے کیونکہ مشک والا یا تو تحفتاً تمہیں تھوڑی بہت مشک دے گا یا تم اس سے خرید لوگے ، اگر یہ بھی نہیں تو عمدہ خوشبو تو تمہیں پہنچ ہی جائے گی۔ رہی بھٹی والے (لوہار) کی بات تو وہ تمہارے کپڑے جلادے گا ورنہ تمہیں (بھٹی کی) بدبو تو پہنچ ہی جائے گی۔(صحیح بخاری)

نوجوان نسل کی تربیت ِ نفس کے لئے محاسبہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ جس طرح وہ زندگی کے مختلف مادی اور ظاہری حالات کے بارے میں حساب کیا کرتے ہیں اسی طرح معنوی اور روحانی اُمور میں بھی انہیں اپنے نفس سے حساب لینا چاہئے۔ انہیں اعلیٰ تعلیم، اخلاقی تربیت اور ملک و ملّت کی ترقی و بہبود و استحکام کے اہداف کا پاسبان بنانے کی کوشش و جستجو کریں۔

جب ہی عروج و ترقی کا سفر شروع ہوسکتا ہے، کیوں کہ نئی نسل کو راہ نمائی بھی درکار ہے اور حوصلہ افزائی بھی۔ ذہنی طور پر انہیں توانا رکھنے کے لیے ناگزیر ہے کہ اُن کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کیا جائے۔ کچھ کرنے کے معقول مواقع فراہم کیے جائیں۔ نوجوان نسل کی اولین ذمہ داری یہی ہے کہ وہ اسلام کی تعلیم اخلاقیات سے آراستہ وپیراستہ ہوکر معاشرے میں اس کاعملی نمونہ پیش کرے۔

اقراء سے مزید