• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

(گزشتہ سے پیوستہ)

تفہیم المسائل

صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی لکھتے ہیں: ’’ جو شخص تہائی رات سونا چاہے اور ایک تہائی عبادت کرنا، اُس کے لیے افضل یہ ہے کہ پہلی اور پچھلی تہائی میں سوئے اوردرمیان کی تہائی میں عبادت کرے اور اگر نصف شب میں سونا چاہتا ہے اور نصف جاگنا، تو پچھلی نصف میں عبادت افضل ہے، حدیث پاک میں ہے: ترجمہ: ’’ رات کے پچھلے پہر جب ایک تہائی رات باقی رہ جاتی ہے، تو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر خاص تجلّی فرماتا ہے اور ندا فرماتا ہے :’’ہے کوئی دعا کرنے والا کہ میں اُس کی دعا قبول کروں، ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اُسے عطا کروں، ہے کوئی مغفرت چاہنے والا کہ میں اسے بخش دوں، (صحیح مسلم: 758) ، (بہارِ شریعت، جلد اول،ص:678) ‘‘ ۔

خلاصۂ کلام یہ کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم کا تعامل یہی رہا ہے کہ نمازِ تہجد رات کے اخیر حصے میں بیدارہوکر پڑھتے تھے، اس لیے اس کی افضل صورت یہی ہوگی، کیونکہ رات بھر یا رات کا بعض یا اکثر حصہ جاگ کر عبادت میں مشغول رہنا بھی بلاشبہ عزیمت کی بات ہے اور اسے قرآن وسنّت میں قیام اللّیل یا صلاۃُ اللّیل سے تعبیر فرمایا گیا ہے، لیکن رات کو سونے کے بعد تہجُّد کے لیے جاگنا نسبتاً زیادہ مشکل ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے سورۃ المزّمّل میں ایک سے زائد مرتبہ ’’قیام ُ اللّیل ‘‘ کا ذکر مقامِ مدح میں فرمایا ہے، نیز فرمایا:

ترجمہ:’’ بے شک رات کو اٹھنا نفس پر بڑا بھاری معلوم ہوتا ہے اور (ایسے ماحول میں) بات بہت سیدھی نکلتی ہے، (سورۃ المزمل:6)‘‘۔ لیکن چونکہ رات کو سو کر نفلی عبادت کے لیے اٹھنا نفس پر اور بھی زیادہ بھاری ہوتا ہے، لہٰذا اس کا اجر سب سے زیادہ ہے۔

تاہم اگر کوئی خوش نصیب ساری رات عبادت میں گزارتا ہے تو وہ یقیناً تہجُّد کے اجر سے محروم نہیں رہے گا، لیکن تہجُّد کا کامل اجر اسی کا حصہ رہے گا، جو رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرامؓ کی سنّت مبارکہ کے مطابق رات کے پچھلے پہر نیند سے بیدار ہوکر نماز پڑھے۔

سوال میں مذکور امام صاحب کی شدّت ناقابلِ فہم ہے کہ سوکر اٹھنا تہجُّد کے لیے ضروری نہیں ہے، مندرجہ بالا حوالوں سے نیند سے جاگ کر تہجد پڑھنے کی فضیلت بیّن اور واضح ہے اور اَجِلّۂ فقہائے کرام نے اصطلاحی تہجد اسی نفلی نماز کو قرار دیا ہے، جو عشاء کی فرض نماز پڑھنے کے بعد رات کو کچھ دیر سوکر دوبارہ اٹھ کر پڑھی جائے اور ترجیحی طور پر رات کے ثُلُثِ آخر میں پڑھی جائے۔

اقراء سے مزید