• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام میں مزدوروں اور محنت کشوں کے حقوق کا بے مثال تصور اور اس کی عظمت و اہمیت

ہر سال یکم مئی دنیا بھر میں لیبر ڈے (مزدوروں کا دن) کے طور پر منایا جاتا ہے۔ لوگوں کو اس روز مزدوروں کے حقوق کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے۔ محض رسمی طور پر مزدوروں کے حقوق کا ڈھنڈورا پیٹ کر اگلے روز سے ہی مزدوروں کا استحصال شروع کر دیا جاتا ہے۔ عہدِ حاضر میں احترامِ انسانیت اور انسانی حقوق کی اصطلاح کثیرالاستعمال ہے۔

مشرق و مغرب، غرض دنیا کے ہر خطّے میں احترام انسانیت، حرّیتِ فرد، شخصی آزادی اور انسانی حقوق بنیادی موضوع کی حیثیت حاصل کر چکے ہیں۔ جب کہ یہ ابدی اور ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ احترامِ انسانیت اور انسانی حقوق کا فلسفہ آج سے چودہ سو سال قبل محسنِ انسانیت، غم گسارِ دوجہاں، انسانیت کے تاج دار، حقوق انسانی کے سب سے بڑے علم بردار، رسالت مآب ﷺ نے متعارف فرمایا۔

محسنِ انسانیتﷺ نے احترام انسانیت، انسانی مساوات، غلامی کے بتدریج خاتمے اور غلاموں (آج کی اصطلاح میں محنت کشوں، خادموں، یا بہ الفاظ دیگر مزدوروں) کے حقوق کے متعلق میدانِ عرفات میں انسانی حقوق کے اولین اور عالم گیر منشور انسانیت ’’خطبۂ حجۃ الوداع‘‘ میں انقلابی اعلان فرمایا۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارے غلام، تمہارے غلام، ان سے اچھا سلوک کرو، انہیں وہی کچھ کھلائوجو تم خود کھاتے ہو، اور انہیں وہی پہنائو جیسا تم خود پہنتے ہو۔(ابن سعد/الطبقات الکبریٰ)

انسانیت کے محسنِ اعظمﷺ نے اپنی حیاتِ طیّبہ کے آخری دور میں حقوق انسانی کے اولین اور مثالی منشور ’’خطبۂ حجۃ الوداع‘‘ میں سب سے زیادہ اہمیت انسانی تاریخ کے سب سے زیادہ مظلوم طبقے غلام اور محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کو دی۔ حیاتِ طیّبہ کے آخری دور اور وصال نبویﷺ کے آخری لمحات میں آپﷺ کی تمام تر توجہ کے مرکز مظلوم و مجبور غلام قرار پائے۔ چناںچہ یہاں کہا گیا! ’’تمہارے غلام، تمہارے غلام‘‘ اور وصال کے عین آخری لمحات میں نماز اور غلام کے کلمات زبان نبویﷺ سے ادا ہوئے۔

جن سے انسانیت کے محسن اعظمﷺ کی نظر میں غلاموں (جنہیں آج کی اصطلاح میں محنت کشوں، خادموں، مزدوروں سے تعبیر کیا جاسکتا ہے) کے مقام اور ان کے حقوق کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ رسول اکرمﷺ کے یہ تاریخ ساز الفاظ انسانی تاریخ میں انقلاب عظیم سے کم نہ تھے۔ جن کے ذریعے آپ ﷺ نے تمیز غلام و آقا مٹا ڈالی۔ آپﷺ کی ان تعلیمات کا اثر عہدِ نبویؐ کے مقدس معاشرے اور آپﷺ کے بعد اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار میں رہا۔

ذیل میں مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور محنت کی عظمت کے حوالے سے محسن انسانیتﷺ کے ارشاداتِ گرامی درج کیے جاتے ہیں، جن سے رسالت مآب ﷺ کی نظر میں محنت کشوں اور مزدوروں کے مقام اور عظمتِ محنت کا پتا چلتا ہے۔

ایک حدیث میں ہے، ملازم اور مزدور تمہارے بھائی ہیں، اللہ نے انہیں تمہارا ماتحت بنایا ہے۔ تو اللہ نے جس کے تحت اس کے بھائی کو کیا ہے، اس کا فرض ہے کہ جو خود کھائے، وہی اسے کھلائے اور جو خود پہنے، وہی اسے پہنائے اور اس سے ایسا سخت کام نہ لے جو اسے نڈھال کر دے۔ اگر سخت کام لینا ہو تو خود بھی اس میں شریک ہو کر اس کی مدد کرے۔ (بخاری/ کتاب الایمان، باب امر الجاھلیۃ 3/195 مطبوعہ مصر)

ایک موقع پر صحابی رسول، حضرت ابوذر غفاریؓ ایک عمدہ چادر اوڑھے ہوئے تھے اور اپنے غلام کو بھی ایسی ہی چادر اوڑھائی ہوئی تھی، لوگوں نے دیکھا تو کہا کہ آپ اس غلام کو دوسرا کپڑا پہنا کر اس سے چادر لے لیجیے، تاکہ آپ کا جوڑا پورا ہوجائے۔ اس پر حضرت ابوذر غفاریؓ گویا ہوئے! میں نے ایک بار اپنے غلام کو بُرا بھلا کہا، اس نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں شکایت کی، اس پر آپﷺ نے فرمایا، ابوذر! تم میں جاہلیت کا اثر باقی ہے۔

یاد رکھو، یہ لوگ تمہارے بھائی ہیں۔ (بخاری کتاب الایمان، باب امرالجاہلیۃ) انسانیت کے محسنِ اعظمﷺ کی اس زیردست طبقے کے حقوق کی بحالی اور محنت و مزدور کی عظمت کے حوالے سے ان تعلیمات کی اہمیت و عظمت کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ عہدِ نبویؐ کے مقدس مذاہب اور مہذب تہذیبوں کی خادموں اور مزدوروں کے حوالے سے تعلیمات ملاحظہ کی جائیں۔

موجودہ دور میں مزدوروں کی حق تلفی ان پر ظلم و زیادتی کی جو عام شکایت ہے، اس کا سلسلہ بہت قدیم ہے۔ اگر اسلام سے قبل کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو محنت کش طبقے اور مزدوروں کی حالت جانوروں سے بھی بدتر نظر آئے گی۔ بعثتِ نبویؐ کے وقت دنیا میں انسانیت دوست مذاہب اور متمدن تہذیبیں اور سلطنتیں موجود تھیں، مگر اس طبقے کو کسی نے ان کا حق دلانے کی کوشش نہیں کی۔

رسالت مآب ﷺ نے عالمِ انسانیت کے سب سے بالا و ارفع اور احترام و عظمت کے سب سے زیادہ مستحق انبیائے کرامؑ کی مزدوری اور محنت کش ہونے کا ذکر کر کے گویا انسانوں کے انسانیت کے خلاف باطل تصورات، طبقاتی تقسیم اور بالادست و زیردست کے تصور پر کاری ضرب لگا کر بندہ و آقا اور آقا و غلام کی تمیز مٹا ڈالی، آپﷺ نے انسانی عظمت و مساوات کا عملی درس دے کر محنت اور محنت کش طبقے کی شخصی عظمت و وقار کا اظہار فرمایا اور محنت کش طبقے کے بارے میں مذاہب عالم اور مفکرین کے فلسفے کو اپنے قدموں تلے روند ڈالا کہ

عبد مسلم کم تر از احرار نیست

خون شہ رنگیں تر از معمار نیست

(اقبال/ اسرارو رموز 124)

محنت کی عظمت کا اظہار کرتے ہوئے رسول اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: ’’اس سے بہتر کوئی کھانا نہیں ہے، جو آدمی اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتا ہے، اللہ کے نبی حضرت دائود علیہ السلام اپنے ہاتھوں سے اپنی روزی کماتے تھے۔‘‘ (مشکٰوۃ، 241 ایچ ایم سعید کمپنی کراچی) ایک صحابیؓ نے ہادی عالم ﷺسے سوال کیا کہ یا رسول اللہﷺ! کون سی کمائی سب سے زیادہ افضل ہے؟

آپﷺ نے فرمایا، اپنے ہاتھ کی محنت کی کمائی۔ (مشکٰوۃ 242) ایک موقع پر آپﷺ نے فرمایا! تم میں سے کسی شخص کا اپنی پشت پر لکڑیوں کا گٹھا لادنا اور اسے فروخت کر کے اپنے اہل و عیال کی کفالت کرنا، اس سے بہتر ہے کہ کسی کے آگے دستِ سوال دراز کرے۔ پھر وہ چاہے تو اسے دے، یا نہ دے۔ (صحیح بخاری 2/11,10)

پھاؤڑا چلاتے چلاتے ایک صحابی کے ہاتھوں میں گٹھے پڑ گئے تھے، رسول اکرم ﷺنے دیکھا تو پوچھا تمہارے ہاتھوں پر کچھ لکھا ہوا ہے؟ صحابی نے عرض کیا، نہیں یا رسول اللہﷺ، پتھر پر پھاوڑا چلاتا ہوں اور اس سے اپنے اہل و عیال کی روزی کماتا ہوں، آپﷺ نے یہ سن کر اس کے ہاتھ چوم لیے۔

مندرجہ بالا واقعات اور ارشادات محنت اور مزدور کی عظمت پر تاریخ کی ابدی صداقت کے طور پر اسلام کی روشن اور اثر انگیز تعلیمات آج بھی محنت کشوں کے لیے راہ نمائی کا سامان فراہم کر رہی ہیں۔ اسلام محنت کش اور مزدور کی عظمت کا علم بردار ہے، اس کے لیے یہ بات ہی فخر و مباہات سے کم نہیں کہ اولادِ آدم کی رشد و ہدایت کے تمام پیغامبر اور خود ہادی آخر و اعظم حضرت محمدﷺ محنت کی عظمت کے قائل اور محنت کش تھے۔ آپﷺ اپنے تمام کام خود انجام دیا کرتے تھے۔ محسنِ انسانیتﷺ کی مثالی تعلیمات نے مالک اور مزدور کے ہر مصنوعی امتیاز کو اکھاڑ پھینکا، مزدور اور محنت کش کو اسلامی معاشرے میں عزت و وقار سے سرفراز کیا گیا۔

تاہم اسلام انسانی معاشرے میں اعتدال اور توازن کے قیام کا داعی ہے، وہ معاشی نظام میں بھی عدل و اعتدال اور توازن کا علم بردار ہے، وہ مالک اور مزدور دونوں کے مساوی حقوق اور تحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے، وہ کسی ایک کے بھی استحصال کو ناپسندیدہ نظر سے دیکھتا ہے، وہ دونوں کے حقوق کا محافظ و نگراں ہے۔

چناںچہ جہاں محنت کش اور مزدور طبقے کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت فراہم کی گئی ہے، ان کے استحصال اور ظلم پر وعیدیں ہیں، وہیں دوسری جانب محنت کش، مزدور کو بھی دیانت داری، خلوص اور وفا شعاری کی تلقین کی گئی۔ رسول اکرمﷺ کا ارشاد گرامی ملاحظہ ہو، آپﷺ نے فرمایا:’’سب سے بہترین کمائی وہ ہے جو ایک کارکن/محنت کش، مزدور کے دونوں ہاتھوں کے ذریعے حاصل ہو، جب کہ وہ (مالک کی) خیر خواہی کرے۔‘‘ (احمد بن حنبل/المسند 2/33)

ایک اور موقع پر آپﷺ نے ارشاد فرمایا! جنّت میں پہلے جانے والوں میں ایسے مزدور بھی شامل ہیں، جو اللہ کی عبادت بھی کرتے ہوں اور اپنے مالک کے وفادار بھی ہوں۔ (بخاری/الجامع الصحیح) اس طرح گویا اسلام آجر اور اجیر کے بہتر تعلقات اور ایک دوسرے کے مفادات کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے معاشی استحکام کی ہر ممکن ضمانت فراہم کرتا ہے، دونوں کے حقوق و فرائض کی نشان دہی کرتے ہوئے استحصال کی مخالفت کرتا ہے۔

رسول اکرم ﷺ نے محنت کش طبقے اور مزدوروں کی عزتِ نفس اور ان کے تحفظ کے حوالے سے ارشاد فرمایا: ’’محنت کشوں کی عزت کرو، جتنی اپنی اولاد کی کرتے ہو، اور ان کو وہی کھلائو جو تم خود کھاتے ہو، ایک اور موقع پر آپﷺ نے ارشاد فرمایا! ’’اپنے ماتحتوں سے بدخلقی اور بد معاملگی کرنے والے جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔

آخرت میں جو لوگ رسول اللہﷺ کے سایۂ عاطفت سے محروم ہوں گے، ان میں ایک وہ شخص بھی ہے جس نے کسی مزدور کو مزدوری پر رکھا، پھر اس سے پورا پورا کام لیا اور اس کی مزدوری مار بیٹھا۔ (مشکٰوۃ ص 25)احترامِ انسانیت اور انسانی حقوق کی علم برداری کے آج کے دور میں انسانیت کے محسن اعظمﷺ کا آج سے چودہ سو سال قبل فرمایا گیا، یہ ارشاد آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے، اس سے بڑھ کر محنت کش کی ترجمانی اور اس کے حقوق کے تحفظ کے لیے کوئی فرمان اور قانون نہیں ملتا۔ آپﷺ نے فرمایا:’’مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو۔‘‘(مشکٰوۃ)

مزدور کی عظمت اور اس کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے یہ ارشاد عام اس وقت فرمایا گیا جب مذاہب اور مہذب تہذیبیں سب محنت کش اور مزدور کی عزت نفس کی بحالی تو دور کی بات احترام انسانیت کی بھی قائل نہ تھیں۔ انسانی حقوق کے ادارے، اقوام متحدہ کا عالمی منشور انسانی حقوق مجریہ دسمبر 1948ء اور اقوام متحدہ کی زیر نگرانی عالمی ادارہ محنت (INTERNATIONAL LABOUR ORGANIZATION) کا قیام آج کی پیداوار ہے۔

یکم مئی 1886ء تک آج کی مہذب دنیا محنت کش اور مزدور کو دائرۂ انسانیت سے بھی باہر سمجھتی رہی۔ شکاگو کے مزدوروں پر ہونے والے بدترین مظالم اور استحصال نے دنیائے انسانیت کی آنکھیں کھولیں۔ انسانی استحصال اور ظلم، جبر کے اس تاریک ماحول میں یہ اعلان کسی انقلاب سے کم نہ تھا۔

محنت کی عظمت اور محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے انسانیت کے محسن اعظمﷺ کے اس فرمان کی اثر انگیزی اسلام اور اسلامی تاریخ پر جس طرح اثر انداز ہوئی، وہ الگ موضوع ہے۔ رسول اکرمﷺ کے اس فرمان نے دنیا کے ہر طبقے بلا تفریق مسلم و غیر مسلم ہر ایک کو متاثر کیا۔ چناںچہ مغرب کا مصنف جارج پی ہڈسن محسنِ انسانیتؐ کے اس فرمان کی اثر انگیزی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے: ’’آج کی دنیا آجر اور اجیر کی کش مکش کی دنیا ہے، محنت کشوں کی تنظیمیں پوری دنیا میں موجود ہیں۔

منظم، مؤثر اور طاقت ور، اس کے باوجود سرمایہ و محنت کے مسائل حل نہیں ہو پاسکے، آجر اور اجیر میں فاصلوں اور نفرتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور جو لوگ محنت کشوں کے لیے دنیا ہی میں جنّت بنانے کے دعوے دار تھے، ان کے ملکوں میں مزدوروں کو ہر جائز حق سے محروم کر کے محض مشین بنا دیا گیا ہے۔

محنت و سرمائے کی ان طویل بحثوں اور مسائل اور بے زاریوں کی عالمی فضا میں ایک آواز ابھرتی ہے۔’’کسی مزدور سے کام لینے سے پہلے اس کی اجرت طے کر لو۔‘‘ یہ آواز محمد عربیﷺ کی ہے، آجر اور اجیر کے درمیان آج کی اصطلاح میں جس معاہدے کا ذکر بڑی بڑی دستاویزات اور قانون کی کتابوں میں کیا جاتا ہے، ان تمام معاہدوں میں ایک چیز کی کمی ہوتی ہے، وہ کمی ہے اخلاقی قدر کی… محمدﷺ نے جو اصول متعین کیے، اس میں یہ اخلاقی قدر بدرجۂ اتم موجود ہے۔

اس ابتدائی معاہدے کے بعد آجر اور اجیر میں اخلاقی قدر کی بنیادوں پر معاہدہ طے پاتا ہے، ہمیں محمد عربیﷺ کی آواز پھر سنائی دیتی ہے: ’’مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کر دو۔‘‘ آجر کو پھر اخلاقی قدر کے تحت جو دنیا کے کسی بھی قانون سے زیادہ مؤثر، زیادہ حقیقی اور زیادہ منصفانہ ہوتی ہے، تلقین کی جاتی ہے کہ وہ معاہدے کے مطابق مزدور کی اجرت مزدور کے کام کی تکمیل کے فوراً بعد ادا کرے۔

اقراء سے مزید