• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جہری نماز میں سورۂ فاتحہ سراً پڑھنے کے بعد جہرا ًپڑھنا

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: جہری نماز میں سورۂ فاتحہ مکمل سرّاً پڑھنے کے بعد دو بارہ اسے جہراً پڑھنے سے نماز پر کیا اثر پڑتا ہے جب سجدۂ سہوہ بھی نہ کیا جائے؟

جواب: جہری نمازوں (مغرب، عشاء، فجر، جمعہ، عیدین، تراویح اور رمضان المبارک میں نمازِ وتر) کی جن رکعتوں میں باجماعت نماز ادا کرتے ہوئے امام کے لیے جہراً تلاوت کرنا ضروری ہے، ان میں اگر تین مختصر آیتوں یا ایک طویل آیت کے بقدر آہستہ آواز سے تلاوت کرلی جائے تو سجدۂ سہو واجب ہوگا، تین مختصر آیات کی مقدار 10کلمات یا 30 حروف ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جہری نماز میں سورۂ فاتحہ مکمل سرّاً پڑھنے کی وجہ سے سجدۂ سہو لازم ہوا تھا، لیکن جب سجدۂ سہو نہیں کیا تو نماز کراہت کے ساتھ ادا ہوگئی، اس صورت میں اسی نماز کے وقت کے اندر، نماز لوٹانا واجب تھا، لیکن وقت کے اندر نماز نہیں دہرائی تو نماز کا وقت گزرنے کے بعد وہ نماز ناقص ادا ہوئی، اب اس نماز کو لوٹانا واجب نہیں ہے، البتہ اعادہ کرلیں تو بہتر ہے، لیکن تحقیقی قول کے مطابق نماز وہی ہوگی جو پہلے ادا ہوچکی، اعادے سے اس کا نقص پورا کردیا جائےگا۔( فتاویٰ شامی ج:2،ص:82،81،ط:سعید)

اقراء سے مزید