• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت اشرافیہ کی، اشرافیہ کے ذریعے اور اشرافیہ کیلئے

اسلام آباد (رپورٹ: انصار عباسی) اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی جانب سے اپریل 2021ء میں پاکستان کے حوالے سے ایک تنقیدی رپورٹ جاری کی گئی تھی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ پاکستان کے اشرافیہ طبقے کو حاصل مراعات پر ملکی معیشت سے 17.4؍ ارب ڈالرز خرچ ہوتے ہیں۔ لیکن اس خرابی کو درست کرنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے تاکہ اس رقم کو غریبوں اور ملک کے ضرورت مند طبقے کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جا سکے۔

 یو این ڈی پی کی جانب سے جاری کردہ نیشنل ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ (این ایچ ڈی آر) برائے پاکستان میں 220؍ ملین عوام کے ملک میں پائی جانے والی عدم مساوات پر توجہ مرکوز رکھی گئی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کے اشرافیہ طبقے بشمول کارپوریٹ سیکٹر، جاگیرداروں، زمین داروں، سیاسی طبقے اور ملک کی سویلین اور طاقتور ملٹری بیوروکریسی کو حاصل مراعات اور سہولتوں پر ملکی معیشت کا 6؍ فیصد یعنی 17.4؍ ارب ڈالرز خرچ ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں ’’پاور، پیپل اینڈ پالیسی‘‘ (طاقت، عوام اور پالیسی) کے منشور کو استعمال کرتے ہوئے آمدن اور معاشی مواقع میں پائی جانے والی عدم مساوات کا جائزہ لیا گیا تھا۔ رپورٹ جاری ہونے کے چند ہفتوں بعد یو این ڈی پی کی عہدیدار کانی وگناراجہ نے الجزیرۃ کو بتایا تھا کہ اس رپورٹ پر پاکستانی حکام سے بات ہوئی تھی جنہوں نے وعدہ کیا تھا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے تحت اقدامات کیے جائیں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ طاقتور گروہ اپنی مراعات و سہولتوں کو استعمال کرتے ہوئے جائز سے زیادہ حصہ لے جاتے ہیں، لوگوں میں سماجی خصوصیات کی بنیاد پر دوسروں کیخلاف تعصب کے ذریعے ساختی امتیاز کو برقرار رکھا جاتا ہے اور نتیجے میں پیدا ہونے والی پالیسیاں عدم مساوات کو دور کرنے میں ناکام رہتی ہیں یا پھر اس میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔ کانی وگنا راجہ اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل اور یو این ڈی پی کی ریجنل چیف تھیں۔

اس رپورٹ میں کیے گئے انکشافات کے حوالے سے بات چیت کیلئے وہ دو روزہ ورچوئل ٹوئر پر پاکستان آئی تھیں، اور اس وقت کے وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کے سینئر ممبران سے بات چیت کی تھی جن میں خارجہ امور اور پلاننگ کے وزیر بھی شامل تھے۔

انہوں نے کہا تھا کہ پاکستانی عہدیداروں نے اس رپورٹ سے اتفاق کیا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ تجاویز پر عمل کیا جائے گا۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کہتے ہیں کہ یو این ڈی پی رپورٹ عمران خان حکومت میں جاری کی گئی تھی لیکن پی ٹی آئی حکومت اور نہ ہی موجودہ حکومت نے ملکی اشرافیہ کی مراعات و سہولتوں کو ختم کرنے کیلئے کوئی اقدامات کیے ہیں۔

موجودہ حکومت نے حال ہی میں کفایت شعاری کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کر دی ہے لیکن سفارشات و تجاویز پر عمل کے حوالے سے اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ملک کی سنگین معاشی صورتحال کے پیش نظر، یہ مطالبہ روز بہ روز بڑھ رہا ہے کہ ملکی اشرافیہ بشمول حکمرانوں، ارکان پارلیمنٹ، ججوں، سویلین اور ملٹری بیوروکریسی کو حاصل مراعات و سہولتیں نمایاں حد تک کم کی جائیں اور ٹیکس دہندگان کا پیسہ بچایا جا سکے۔ تاہم، اب تک صرف چند ارکان کابینہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ تنخواہیں نہیں لیں گے جبکہ ایک وزیر احسن اقبال نے بڑی سرکاری گاڑی (ایس یو وی) واپس کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن ان چند اعلانات کے سوا حکمران اشرافیہ نے کوئی بڑا اقدام نہیں کیا جس کی ملک کو اشد ضرورت ہے۔

حال ہی میں کسی اور نے نہیں بلکہ ملک کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ تقریباًٍ 200؍ ایسے گالف کلب ہیں جو ایک مخصوص طبقے کیلئے سرکاری زمینوں پر تعمیر کیے گئے ہیں اور اگر یہ زمینیں سرکاری تحویل میں واپس لے کر ان کی نیلامی کی جائے تو پاکستان اپنے غیر ملکی قرضہ جات کا ایک بڑا حصہ ادا کر سکتا ہے۔

 انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ لاہور میں 1500؍ کنال سرکاری زمین پر قائم کردہ ان کلبز کا کرایہ صرف پانچ ہزار روپے ادا کیا جاتا ہے۔

یہ بات پاکستان کیلئے انتہائی حد تک باعث ہزیمت ہے کہ مختلف غیر ملکی حکومتیں اور ان کے نمائندوں نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ دیگر ملکوں سے امداد مانگنے کی بجائے پاکستان کو اپنے معاشی نظام میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے اور امیر اور اشرافیہ طبقے پر ٹیکس عائد کرنے، امیر طبقے کو دی گئی سبسڈیاں ختم کرنے اور ٹیکس دہندگان کا پیسہ غریبوں پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔

 دلچسپ بات ہے کہ یو این ڈی پی کی ریجنل چیف نے بھی اپریل 2021ء میں اپنی رپورٹ میں یہی توقعات پیش کی تھیں اور کہا تھا کہ ’’مجھے امید ہے کہ اس بات کی شدید خواہش پائی جاتی ہے کہ موجودہ ٹیکس اور سبسڈی پالیسیوں پر نظرثانی کی جائے گی۔‘‘ تاہم، ایسا نہیں کیا گیا۔

یو این ڈی پی نے نشاندہی کی تھی کہ ٹیکس میں چھوٹ، سستی ان پٹ قیمتوں، زیادہ پیداواری قیمتوں یا سرمایے، زمین اور خدمات تک ترجیحی رسائی کی صورت میں سب سے زیادہ مراعات اٹھانے والا طبقہ کارپوریٹ سیکٹر ہے اور اسے حاصل مراعات کی قیمت 4.7؍ ارب ڈالرز بتائی گئی تھی۔

دوسرے اور تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ مراعات سے لطف اندوز ہونے والا طبقہ ملک کا ایک فیصد امیر ترین طبقہ ہے جن کے پاس ملک کی مجموعی آمدنی کا 9؍ فیصد حصہ ہے، اور جاگیردار طبقہ ہے جو آبادی کا صرف 1.1؍ فیصد حصہ ہیں لیکن ان کے پاس ملک کے تمام تر قابل کاشت رقبے کا 22؍ فیصد حصہ ہے۔

 یو این ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق، ان دونوں طبقوں کی پاکستان کی پارلیمنٹ میں بھاری نمائندگی ہے اور بڑی سیاسی جماعتوں کے ارکان کا بیشتر حصہ یا تو جاگیردار ہیں یا پھر ملک کے کاروباری اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے افراد۔ یو این ڈی پی کی وگنا راجہ نے اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ یو این ڈی پی کی وگنا راجہ نے اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ اس صورتحال کے نتیجے میں ایک تضاد پیدا ہوتا ہے جہاں مراعات ختم کرنے کا کام ان کے ذمہ ہے جو ان مراعات سے خود لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

 یہ بھی کہا گیا تھا کہ ملک کی طاقتور فوج نے ملک کی 74؍ سالہ تاریخ کے نصف عرصہ تک براہِ راست حکومت کی ہے اور اس ادارے نے زمینوں تک ترجیحی رسائی، کیپیٹل اور انفرا اسٹرکچر او ساتھ ہی ٹیکسوں میں استثنیٰ سمیت مراعات و سہولتوں کی صورت میں میں 1.7؍ ارب ڈالرز وصول کیے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید