لندن (مرتضیٰ علی شاہ) امریکی حکومت پاکستانی تاجر محمد آصف حفیظ کو برطانیہ کی اعلیٰ ترین سیکورٹی والی جیل بیلمارش سے نیویارک کی ایک جیل کے حوالے کرنے کے لئے جدوجہد کر رہی ہے۔ عدالتی کاغذات سے ظاہر ہوتا ہے کہ قبل ازیں امریکی حکومت کینیا کی مقامی عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آصف حفیظ کے کیس سے جڑے ہوئے کینیا کے دو حقیقی بھائیوں بکتاش آکاشا عبداللہ، ابراہیم عکاشا عبداللہ، بالی ووڈ اداکارہ ممتا کلکرنی کے شوہر وکی گوسوامی اور غلام حسین کو حراست میں لینے کے بعد چاروں افراد میں سے ایک کو آصف حفیظ کے خلاف گواہ بنانا چاہتی ہے۔ پاکستانی شہری آصف حفیظ کا کیس کوئی معمولی کیس نہیں ہے، یہ ہالی ووڈ کی ایک سنسنی خیز فلم کی طرح ہے، جس میں ڈرامہ، ایکشن، سازش، مجرمانہ گروہپنگ، منشیات کی تجارت، بالی ووڈ، امریکی خفیہ ایجنٹس، جبری اعترافات، ایک پراسرار موت، یونانی سانحہ اور اعلیٰ ترین سطح کی دھوکہ دہی شامل ہے۔ یہ کیس بہت دلچسپ ہو گیا ہے کیونکہ 2004میں اس کے کم از کم چار اہم کردار یونانی منشیات کی سازش سے منسلک تھے، جس میں پاکستان سے 650ٹن حشیش اسمگل کی گئی تھی، 2014میں کینیا میں منشیات کی اسمگلنگ، جس میں بھارت، بالی ووڈ اور پاکستان سے بھی لوگ شامل تھے، وہ یہ کہنے کے لئے سامنے آئے کہ حفیظ یونان اور امریکہ کو منشیات کی کھیپ بھیجنے میں ملوث نہیں تھا اور یہ کہ امریکی ایجنٹ اسے کئی سال تک ہر منصفانہ اور غیر منصفانہ طریقے سے نشانہ بناتے رہے، جس میں اسے منشیات کی تیاری اور امریکی سرزمین پر درآمد کرنے پر اکسانا بھی شامل تھا۔ یہ کیس بھی فلمی سکرپٹ سے باہر ہے کیونکہ آصف حفیظ نے حقیقی زندگی میں ایک مرحلے پر امریکہ، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، پاکستان اور پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کو معلومات فراہم کیں جبکہ قابل اعتماد اطلاعات فراہم کرنے پر اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے تعریفی خط بھی دیا گیا۔ ایسی معلومات، جس نے ٹنوں منشیات کی برطانیہ میں ترسیل روکنے میں مدد کی۔ یونائیٹڈ سٹیٹس ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن (ڈی ای اے) نے الزام لگایا ہے کہ 2014 اور 2017 کے درمیان اس نے کینیا سے ریاست ہائے متحدہ میں منشیات کی مجوزہ درآمد کی تحقیقات کیں۔ خود کو منشیات کے کولمبیین اسمگلروں کے طور پر ظاہر کرنے والے امریکی ذرائع نے آکاشا تنظیم کے رہنماؤں بکتاش آکاشا عبداللہ، ابراہیم آکاشا عبداللہ، وجے گیری آنندگیری گوسوامی (جو کہ وکی گوسوامی کے نام سے جانا جاتا ہے) اور غلام حسین سے رابطہ کیا کہ وہ امریکہ میں درآمد اور سپلائی کے لئے ہیروئن حاصل کرنا چاہتے ہیں۔امریکی فرد جرم کے مطابق بکتاش عکاشہ نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی کہ وہ امریکہ کو سپلائی کے لئے ہیروئن حاصل کر سکتا ہے اور ذرائع کو بتایا کہ اس کے سپلائر کا تعلق پاکستان سے ہے۔ وہ مختلف تخلص کے ساتھ جانا جاتا تھا، جن میں سے ایک سلطان تھا، جو بعد میں آصف حفیظ نکلا۔ اکتوبر 2014 میں 98 کلو ہیروئن امریکی ذرائع کو پہنچائی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ترسیل ان چاروں افراد نے سلطان (آصف حفیظ) کے ساتھ مل کر کی تھی۔ امریکی حکومت کا معاملہ یہ ہے کہ اس کے بعد تحقیقات کے دوران سلطان کی شناخت محمد آصف حفیظ کے طور پر ہوئی، خاص طور پر جب آکاشا برادران، گوسوامی اور کئی دیگر خفیہ ذرائع کی ڈیوائسز کی تلاشی لی گئی، جن پر مبینہ طور پر آصف حفیظ کے استعمال کردہ نمبروں سے پیغامات موصول ہوئے تھے۔ کینیا کے ایک زمانے کے طاقتور آکاشا بھائیوں، وجے گوسوامی اور غلام حسین کو پہلی بار کینیا کے انسداد منشیات یونٹ نے 9 نومبر 2014 کو ممباسا میں امریکی حکومت کی درخواست پر گرفتار کیا تھا، جس میں منشیات کو امریکہ میں درآمد کرنے کی سازش کا الزام لگایا گیا تھا لیکن جلد ہی انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔ تین برسوں سے چاروں افراد نے امریکی حوالگی کی کوشش کے خلاف مضبوط دفاع کیا اور ایسا نہیں لگتا تھا کہ مقامی عدالتیں انہیں جلد ہی کسی بھی وقت امریکہ کے حوالے کر دیں گی۔23 جنوری 2017کو چاروں کو کینیا کے حکام نے اچانک ایک آپریشن میں گرفتار کر لیا اور ایک ہفتے کے اندر کسی مقامی عدالت سے حوالگی کی اجازت لئے بغیرچاروں ملزمان کو کینیا سے باہر نکال دیا گیا اور نیویارک کی سدرن ڈسٹرکٹ کورٹ میں پیش کیا گیا، جہاں ان کے خلاف الزامات پڑھ کر سنائے گئے اور ایک نیا سپرسیڈنگ چارج شامل کیا گیا، جس میں الزام لگایا گیا کہ کینیا میں ان چاروں نے مقامی اہلکاروں کو اپنی حوالگی روکنے کے لئے رشوت دی۔ ان کے وکلاء اور اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ امریکہ نے کینیا کی حکومت کی مدد سے انہیں اغوا کیا اور غیر معمولی طور پر پیش کیا۔ عدالتی کاغذات اور گواہوں کے مطابق کینیا کی سرزمین پر غیر معمولی آپریشن امریکی ڈی ای اے ایجنٹس اور سینٹرل انفارمیشن ایجنسی (سی آئی اے) نے کیا تھا۔ جب مقامی عدالت سماعت کر رہی تھی تو آکاشا بھائیوں، گوسوامی اور حسین کو منشیات کی درآمد کے الزام پر اغواکر لیا گیا۔ امریکی حکومت نے عدالتی کاغذات میں غیر قانونی طور پر کام کرنے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ کینیا کی حکومت تھی، جس نے چاروں افراد کو ملک سے نکالنے کا فیصلہ کیا تھا اور ان چاروں افراد کو کینیا کی عدالت کے سامنے پیش کرنے کا عدالتی فیصلہ کینیا کے حکام کا معاملہ تھا۔ ایک بار جب کینیا سے لا کر چاروں افراد کو امریکی جیل میں منتقل کر لیا گیا تو امریکی ایجنٹوں نے اپنی توجہ اپنے اصل ہدف آصف حفیظ کو پھنسانے پر مرکوز کر دی۔ لاہور میں پیدا ہونے والے سابق پائلٹ سے تاجر بننے والے حفیظ شہزادہ چارلس کے ساتھ گھل مل گئے۔ پولو ایونٹس میں انگریز شاہی خاندان کے افراد اور شوکت خانم ہسپتال سمیت شاہی خیراتی اداروں کے لئے عطیات جمع کئے۔ آصف حفیظ کو 25 اگست 2017 کو اسکاٹ لینڈ یارڈ کے افسران اور امریکی ایجنٹوں نے امریکی حکومت کی جانب سے حوالگی کے وارنٹ پر عملدرآمد کرتے ہوئے لندن میں ان کے ریجنٹ پارک فلیٹ سے گرفتار کیا تھا۔ آصف حفیظ نے اپنے حوالگی کے کیس کو فوری طور پر چیلنج کیا اور اب تقریباً چھ سال ہو چکے ہیں کہ وہ بیلمارش جیل میں سخت حالات میں قید ہیں جبکہ برطانیہ کی عدالتوں میں حوالگی روکنے کی تمام کوششیں ناکام ہونے کے بعد یورپی عدالت ان کے امریکا منتقلی کے خلاف کیس کی سماعت کر رہی ہے۔ اس نمائندے نے ہائی سیکورٹی بیلمارش جیل کے دورے میں آصف حفیظ سے ملاقات کی، جہاں وکی لیکس کے بانی اور فری اسپیچ کمپین چلانے والے جولین اسانج بھی قید ہیں، ساتھ ہی سیکڑوں قیدی دہشت گردی اور متعدد ہلاکتوں سمیت سنگین ترین جرائم میں قید کاٹ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آصف حفیظ کے خلاف کیا مقدمہ ہے اور امریکی حکومت انہیں عمر قید کی سزا کے مقدمے کی سماعت کے لئے پیرول کا حق دیئے بغیر امریکی سرزمین پر لے جانے میں اتنی دلچسپی کیوں رکھتی تھی، جس کا مطلب جیل میں تقریباً ایک یقینی موت ہے؟ امریکہ آصف حفیظ پر تین الزامات کے تحت مقدمہ چلانا چاہتا ہے۔ پہلا الزام یہ ہے کہ مسٹر آصف حفیظ نے ہیروئن، میتھم فیٹامائن اور چرس امریکہ میں درآمد کرنے کی سازش کی۔ ہیروئن کی تیاری یا تقسیم میں مدد اور حوصلہ افزائی کی، یہ جانتے ہوئے اس جرم کا ارادہ کیا کہ اسے ریاستہائے متحدہ میں درآمد کیا جائے گا۔ امریکہ کا الزام ہے کہ حفیظ نے ایک ساتھی سازش کار برطانوی شہری افضل خان کو کینیا کے چار افراد سے ہیروئن کے لین دین کے سلسلے میں ملاقات کے لئے بھیجا اور بالآخر تقریباً 98 کلو گرام ہیروئن دو نامعلوم خریداروں کو فراہم کی گئی۔ دوسرا الزام یہ لگایا گیا ہے کہ دسمبر 2004میں مسٹر حفیظ اور ان کے ساتھیوں نے مبینہ طور پر ایک تجارتی شپنگ کنٹینر یونان پہنچایا، جس میں چھ ٹن سے زیادہ حشیش تھی، جسے امریکہ ترسیل کرنا تھا۔ اور اسی الزام میں امریکہ مزید الزام لگاتا ہے کہ 2015 میں یا اس کے آس پاس آصف حفیظ اور ایک ساتھی سازش کار نے موزمبیق میں میتھیمفیٹامائن کی فیکٹری قائم کی تھی لیکن قانون نافذ کرنے والے حکام کی جانب سے اجزاء کی ضبطی کی وجہ سے میتھیمفیٹامائن کبھی تیار نہیں کی گئی۔ تیسراالزام یہ لگایا گیا کہ مارچ سے نومبر 2014تک مسٹر حفیظ نے یہ جانتے ہوئے ہیروئن کی تیاری اور تقسیم میں مدد کی کہ اسے امریکہ درآمد کیا جائے گا۔ امریکہ نے آصف حفیظ کے خلاف کئی معلوم اور نامعلوم گواہوں کی شہادتیں استعمال کرنے کی امید ظاہر کی اور یہ سمجھا گیا کہ کینیا سے آکاشا برادران کی جبری حوالگی اسی مقصد کے لئے تھی۔ تاہم، پلاٹ میں ایک بڑا موڑ اس وقت آیا، جب حال ہی میں کئی لوگوں نے عدالت میں جمع کروائے گئے اپنے بیانات میں آصف حفیظ کے خلاف امریکی الزامات کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا ہے اور اپنے ہی سابق امریکی ہینڈلرز اور باسز کے خلاف سخت بیانات دیے ہیں۔ یہ لوگ منشیات کے کاروبار میں ملوث ہیں یا امریکی حکام کے لئے خفیہ ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ قابل اعتماد ذرائع کے مطابق صرف وکی گوسوامی ہی آصف حفیظ کے خلاف گواہ کے طور پربیان دیں گے۔ بھارتی شہری کو امریکی حکومت کی جانب سے مراعات اور استثنیٰ کے بدلے امریکی مخبر اور گواہ بننے کی پیشکش کی گئی تھی۔ عکاشہ کے دونوں بھائی، جنہیں امریکہ میں سزا سنائی گئی ہے اور قید کیا گیا ہے، انہوں نے آصف حفیظ پر الزام عائد کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آصف حفیظ نے ان کے ساتھ منشیات کا کوئی کاروبار نہیں کیا اور ان پر لگائے گئے الزامات جھوٹے اور من گھڑت ہیں۔ ایف بی آئی ڈی ای اے کے ایک سابق ایجنٹ کامران فریدی نے حفیظ کے وکلاء کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ایف بی آئی جب کراچی کے تاجر جابر موتی والا اور داؤد ابراہیم کو نشانہ بنانے کے مشن پر کام کر رہی تھی تو ان کے ہینڈلرز نے ان سے کئی بار آصف حفیظ کو پھنسانے کے لئے کہا۔ امریکی اور آسٹریلوی ایجنسیوں کے لئے کام کرنے والے تجربہ کار جاسوس ملیش تاریجا نے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ ان کے امریکی ہینڈلرز نے ان سے آصف حفیظ اور داؤد ابراہیم کے بارے میں بات کی۔ عدالتی کاغذات سے پتہ چلتا ہے کہ آصف حفیظ کم از کم 2004 سے امریکی تحقیقات کی زد میں تھے۔ لیسٹر سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی نژاد برطانوی شہری عمر فاروق کولیا نے 2004 میں یونانی چرس کی درآمد میں اپنے ملوث ہونے پر یونان میں سزا اور چرس کے ڈبوں کی گنتی کے لئے یونان جانے کے احکامات کے بارے میں بتایا تھا۔ انہوں نے 19 فروری 2018 کو لندن میں آصف حفیظ کے وکلاء کو بھیجے گئے تحریری گواہ کے بیان میں اپنی کہانی کی تفصیل دی۔ عمر فاروق کولیا 4 ماہ بعد 21 جون 2018 کو انتہائی پراسرار حالات میں انتقال کر گئے۔ برطانیہ میں منشیات کے جرم میں جیل کی سزا مکمل کرنے والے عمر فاروق کولیا نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نے 2004 میں لاہور کا سفر کیا اور ایک کامل بھٹ سے ملاقات کی، جس نے اسے یونان میں اپنی طرف سے 10000 پونڈز کے عوض نوکری کرنے اور پورے اخراجات ادا کرنے کی پیشکش کی۔ اسائنمنٹ کو یونان جانے کے لئے چرس کی ایک کھیپ کا معائنہ کرنا تھا، جو پاکستان سے درآمد کی گئی تھی اور اسے ایتھنز کے ایک گودام میں رکھا گیا تھا۔ عمر فاروق کولیا سے کہا گیا کہ وہ چرس کے ڈبوں کی گنتی کریں، ان کے وزن کا تعین کریں، سیریل نمبر لکھیں اور کامل بھٹ کو رپورٹ کریں۔ 10جنوری 2005کو کولیا یونان میں اترا اور اسے رومانیہ کے ایک شہری جارج بنیسکو اور دو دوسرے آدمی پیریوس کی بندرگاہ کے گودام میں لے گئے۔ بکسوں کی گنتی کے تقریباً چالیس منٹ بعد جارج اور دوسرے آدمی بھاگ گئے، گودام کے شٹر بند کر دیئے اور لائٹس بند کر دیں۔ چند ہی منٹوں میں درجنوں مسلح یونانی پولیس اہلکار گودام میں داخل ہوئے، کولیا کو ہتھکڑیاں لگائیں اور اسے پولیس اسٹیشن لے گئے، جہاں کئی دنوں تک دو امریکی ڈی ای اے ایجنٹوں نے اس کا انٹرویو کیا جبکہ کولیا کو اپنے چار فون استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تاکہ ایجنٹ دیکھ سکیں کہ اسے کون سوالات اور اپڈیٹس کے ساتھ کال کرے گا۔ ایک تفتیش کے دوران آصف حفیظ نے کولیا کو فون کر کے ان کی خیریت پوچھی۔ جب ڈی ای اے کے ایجنٹوں کی طرف سے پوچھا گیا کہ محمد آصف حفیظ کون ہیں تو ان کے اپنے بیان کے مطابق کولیا نے انہیں بتایا کہ وہ ایک فیملی فرینڈ ہیں اور دونوں کئی دہائیوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ کولیا نے اپنے بیان میں لکھا: مسٹر حفیظ کا یونان میں چرس کی کھیپ سے کوئی تعلق نہیں تھا اور انہیں یہ علم نہیں تھا کہ ان کی کال کے وقت میں بھی یونان میں تھا۔ اس کی کال بالکل اتفاقی تھی۔ پوری تفتیش اور کارروائی میں حفیظ کا ذکر نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس کا اس معاہدے میں کوئی دخل تھا۔کولیا کو پاکستان سے یونان میں 6.5ٹن حشیش کی درآمد کے الزام میں 16 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ایتھنز کی ایک جیل میں 6 سال اور 5 ماہ قید گزارنے کے بعد اسے رہا کیا گیا۔ اپنی پراسرار موت سے پہلے کولیا نے اصرار کیا کہ آصف حفیظ نے درحقیقت ان سے کئی بار منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے سے باز رہنے کے لئے کہا اور یونان کی کھیپ کے منصوبے سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ ڈی ای اے نے تصدیق کی کہ اس نے 2004 میں حفیظ سے تفتیش کی تھی جب حفیظ نے مبینہ طور پر کنٹینر کی کھیپ میں منشیات چھپانے کی سازش کی تھی تاکہ منشیات کو امریکہ بھیجا جا سکے لیکن یہ کھیپ یونانی حکام نے ضبط کر لی۔ عدالتی کاغذات کے مطابق ڈی ای اے نے ذرائع کو ہدایت کی کہ وہ مسٹر حفیظ کو مطلع کریں کہ کنٹینر پیریوس کے ایک گودام میں رکھا گیا تھا اور اس کے بعد عمر کولیا کنٹینر کا معائنہ کرنے گودام پہنچے۔ڈی ای اے نے تسلیم کیا کہ مسٹر کولیا کو مکمل طور پر مسٹر حفیظ اور کھیپ سے منسلک نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ہانگ کانگ کے خصوصی انتظامی علاقے سے تعلق رکھنے والے ڈی ای اے کے ایک سابق ایجنٹ ملیش تلریجا نے آصف حفیظ کی حمایت میں ایک بیان دیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی ایجنٹ آصف حفیظ اور داؤد ابراہیم دونوں کو پھنسانا چاہتے تھے۔ ملیش تلریجا نے تفصیلات بتائی ہیں کہ انہیں اپریل 2019 میں اسٹاک ہوم، سویڈن میں امریکی ڈی ای اے ایجنٹوں نے کیسے ہائرکیا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ یو ایس ٹیررازم اینڈ انٹرنیشنل نارکوٹکس یونٹ نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے اسے غیر قانونی طور پر متعدد غیر ملکی دائرہ اختیار میں شواہد کو قانونی اختیار کے بغیر ریکارڈ کرنے کی ہدایت کی، ہمارے لئے امریکی عدالتیں یہ جانتی ہیں کہ ثبوت قانونی اختیار کے بغیر ریکارڈ کئے گئے۔ ملیش تلریجا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اپریل 2019 کے وسط میں انہیں ایک غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی نے سٹاک ہوم سویڈن میں امریکی ڈی ای اے کے دو خصوصی ایجنٹوں سے ملنے کی درخواست کی تھی اور امریکی ڈی ای اے کے ایجنٹس ایرک سٹوچ اور سٹیفن کیسی سے ملاقاتوں کے بعد اسے وہیں خفیہ ذریعہ کے طور پر ہائر کیا گیا تھا۔ ملیش تلریجا نے امریکی ایجنٹوں سے کہا کہ وہ آسٹریلیا اور امریکہ میں ان کے مسائل کے بدلے میں ان کی مدد کریں، جس پر انہوں نے اتفاق کیا۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے بتایا گیا کہ وہ متعدد سافٹ ویئر انسٹال کئے ہوئے ایک خاص فون کا استعمال کرے جو آڈیواور ویڈیو ریکارڈ کرے گا اور جی پی ایس ان معلومات کو براہ راست چینٹلے میں ڈی ای اے ہیڈ کوارٹرز اوراسٹوچ کے زیر کنٹرول لیپ ٹاپ کو ارسال کرے گا۔ ملیش تلریجا کا کہنا ہے کہ وہ اہداف پر کام کرنے کے لئے اسٹوچ کے ساتھ روزانہ رابطے میں رہتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسٹوچ نے مجھے محمد آصف حفیظ کے بارے میں تحقیقات کے بارے میں بتانا شروع کیا، جس کا حوالہ وہ ایم اے ایچ کے طور پر دیتے ہیں۔ سٹوچ نے باقاعدہ طور پر میرے ساتھ خفیہ معلومات کا اشتراک کرنا شروع کیا۔ سٹوچ نے مجھے بتایا کہ ان کی ٹیم کام کر رہی ہے اور داؤد ابراہیم کے خلاف فرد جرم حاصل کرنے کے لئے ایف بی آئی کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ سٹوچ کا دعویٰ تھا کہ وہ نیویارک کے جنوبی ضلع (ایس ڈی این وائی) میں دو افراد کو فرد جرم میں پھنسانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اس نے مجھے بتایا کہ اس نے حفیظ کے خلاف فرد جرم سے فائدہ اٹھانے کی منصوبہ بندی کی ہے تاکہ وہ حوالگی کے لئے رضامندی حاصل اور تعاون کا معاہدہ کر سکے، جہاں اسے داؤد ابراہیم کے خلاف ثبوت دینے پر مجبور کیا جائے گا۔ کامران فریدی جو کہ دو دہائیوں تک امریکی حکام کے لئے جاسوس کے طور پر کام کرتے رہے، آصف حفیظ کے وکلا کو بھی بیان دے چکے ہیں۔ اس نے بیان میں کہا ہے کہ ایف بی آئی اور ڈی ای اے میں ان کے باس اکثر اسے آصف حفیظ کو پھنسانے کیلئے کہتے تھے لیکن ان کی توجہ داؤد ابراہیم اور کراچی کے تاجر جابر موتی والا پر تھی، جنہیں اسکاٹ لینڈ یارڈ نے اگست 2018میں گرفتار کیا تھا اور تین سال بعد پاکستان واپس آنے کیلئے رہا کیا گیا تھا۔ بعد میں جب کامران فریدی اپنے امریکی مالکان کیخلاف ہو گئے اور انکشاف کیا کہ اس نے مسٹر موتی والا کو پھنسانے کے لئے اپنے گواہوں کے بیانات میں جھوٹ بولا تھا اور موتی والا کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں تھا۔ فریدی نے کہا کہ اس نے موتی والا کے خلاف ثبوت اپنے اعلیٰ افسران کی ہدایت پر گھڑے جو کسی بھی قیمت پر داؤد ابراہیم تک پہنچنا چاہتے تھے۔ فریدی اب ادائیگیوں کے تنازعہ پر اپنے ایف بی آئی باس کو دھمکی دینے کے الزام میں سات سال کی سزا کاٹنے کے لئے امریکہ کی ایک جیل میں ہے۔ کامران فریدی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایف بی آئی/ڈی ای اے ایجنٹ کے طور پر کل وقتی کام کرتے ہوئے انہوں نے جنوری 2017 میں رپورٹ پیش کی تھی کہ آصف حفیظ کا ڈی کمپنی یا داؤد ابراہیم کے ساتھ کسی کاروبار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مجھے آصف حفیظ کی ڈی کمپنی کے ساتھ رقم کی کوئی لین دین نہیں ملی اور نہ ہی میرا ڈیل کرنے والےسے کوئی رابطہ تھا۔ یہ رپورٹ نیو یارک سٹی کے جنوبی ضلع کو پیش کی گئی تھی اور اس کی ایک کاپی ایف بی آئی کے ایجنٹوں کو بھیجی گئی تھی۔ یہ 7 صفحات پر مشتمل رپورٹ تھی اور اس کی ایک کاپی ایف بی آئی کے ذریعے ڈی ای اے کو بھیجی گئی لیکن ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے رپورٹ کو نظر انداز کیا اور ہندوستان کی جانب سے اپنے پاس موجود معلومات کی بنیاد پر کیس کو جاری رکھا۔ امریکہ آصف حفیظ پر دہشت گردی (نارکو دہشت گردی) کا الزام لگانا چاہتا ہے تاکہ وہ اسے جیل میں سڑا سکیں۔ فریدی نے کہا کہ امریکی ایجنٹ آصف حفیظ کے ذریعے پاکستان کا پیچھا کرنا چاہتے ہیں۔ آصف حفیظ کی گرفتاری کے فوراً بعد برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کے تعاون سے ڈی ای اے کے ایجنٹوں نے مسٹر افضل خان کو ملاقات کے لئے بلایا، جنہوں نے آصف حفیظ کے لئے لندن میں ان کے خاندان کیلئے ملازمتیں فراہم کیں اور ان کے کاروبار میں ان کی مدد کی۔ افضل خان نے عدالت میں اپنی گواہی میں الزام لگایا ہے کہ ڈی ای اے اور این سی اے کے ایجنٹوں نے ان پر ڈی ای اے کے ساتھ تعاون کرنے اور لندن میں ہونے والی کئی ملاقاتوں کے دوران آصف حفیظ کے خلاف گواہ بننے کے لئے شدید دباؤ ڈالا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اس کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی تھیں، جن میں انہیں مسٹر حفیظ کے خلاف مقدمے میں پھنسانے کی دھمکی بھی شامل تھی۔ انٹرویوز کے دوران مسٹر سٹوچ اور دیگر ایجنٹوں نے افضل خان سے آصف حفیظ کے داؤد ابراہیم اور پاکستانی فوج کے ارکان کے ساتھ ممکنہ تعلقات کے بارے میں پوچھا۔ ڈی ای اے اور این سی اے نے مسٹر خان سے پوچھا کہ حفیظ پاکستانی فوج کے کن جرنیلوں کو جانتے ہیں۔ اگرچہ مسٹر خان کو کوئی خاص نام معلوم نہیں تھا لیکن انہوں نے تصدیق کی کہ کچھ جرنیلوں نے پاکستان میں حفیظ کے گھر پر ملاقات کی تھی۔ افضل خان نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرک اسٹوچ نے مسٹر خان سے پاکستانی فوجی اہلکاروں کی تقریباً 30 سے 40 تصاویر کا جائزہ لینے کو کہا۔ افضل خان کے مطابق امریکی ایجنٹ پاکستانی فوج کو اپنے ہیڈ کوارٹرز میں نصب کرنے کے لئے ایک ویڈیو وال کی فروخت کے بارے میں مزید جاننے میں بہت دلچسپی رکھتے تھے۔ مسٹر خان نے ڈی ای اے کو بتایا کہ وہ فوجی استعمال کے لئے ماہر ہائی ویژن چشموں کی فراہمی میں ملوث رہے ہیں۔ خان دسمبر 2017 میں زیر زمین چلا گیا کیونکہ اسے بھی گرفتار کئے جانے کا خدشہ تھا، اس کے بعد سے وہ برطانیہ میں عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا اور اس رپورٹر سے پاکستان میں کسی نامعلوم مقام سے فون پر بات کی۔ خان نے کہا کہ وہ گرفتاری یا مارے جانے کے خوف سے لندن چلے گئے ہیں حالانکہ ان کے خلاف کوئی الزام نہیں ہے۔ امریکی حکومت نے عکاشہ برادران کو اس امید پر کینیا سے نکالا کہ یہ سب اپنے لئے رعایت حاصل کرنے کیلئے آصف حفیظ کے خلاف گواہی دیں گے لیکن عکاشہ برادران نے آصف حفیظ کیخلاف امریکی الزامات کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اگست 2019 میں امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا کہ ابراہیم عکاشا کو دیگر جرائم کے علاوہ ہیروئن اور میتھیمفیٹامائن امریکہ اسمگل کرنے کا جرم قبول کرنے کے بعد 23 سال کیلئے جیل بھیج دیا گیا ہے اور بکتاش کو نیویارک کی ریاستہائے متحدہ کی ڈسٹرکٹ کورٹ نے منشیات اور ہتھیاروں کے انہی جرائم میں 25 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ آصف حفیظ کے بھتیجے فواد حفیظ کے ساتھ حال ہی میں ریکارڈ کی گئی گفتگو میں ابراہیم عکاشہ نے اپنے جیل سیل سے کہا ہے کہ ڈی ای اے نےابراہیم اور بکتاش کو داؤد ابراہیم کے خلاف ثبوت دینے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ ڈی ای اے مسٹر حفیظ کو منشیات کی سمگلنگ کی سازش میں غلط طور پر پھنسانا چاہتا تھا۔ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے خفیہ طور پر بکتاش آکاشا، گوسوامی اور حسین کے بیانات ریکارڈ کئے ہیں، جن میں ہیروئن کے سودے میں حفیظ کی شرکت کی تصدیق کی گئی ہے اور حفیظ کو 2015 میں گوسوامی کو بھیجے گئے ٹیکسٹ پیغام میں دکھایا گیا ہے کہ حفیظ گرفتاری کے بعد اس لین دین میں شرکت کی بنیاد پر امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کے بارے میں فکر مند تھے۔ ابراہیم عکاشہ نے امریکی دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ حفیظ کسی قسم کے منشیات کے سودے میں ملوث نہیں تھا۔ ابراہیم عکاشہ کا کہنا ہے کہ امریکی ایجنٹوں نے ان سے کئی بار بات کی کہ وہ اور ان کے بھائی بکتاش کو آصف حفیظ کے خلاف گواہ بننے اور بدلے میں رہا کر کے گھر جانے کی پیشکش ہے۔ بکتاش عکاشہ کے مطابق وہ کہتے ہیں کہ ہمیں صرف حفیظ چاہئے۔ اگر آپ ہم سے بات کریں گے تو ہم آپ کو اور آپ کے بھائی کو گھر جانے دیں گے۔ وہ چاہتے ہیں کہ حفیظ یہاں آئے۔ ابراہیم عکاشہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکی تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ آصف حفیظ منشیات کی درآمد کی سازش میں ملوث نہیں اور وہ جھوٹ نہیں بولیں گے۔ حفیظ ملوث نہیں ہے۔ یہ سچ ہے.میں جھوٹ کیوں بولوں؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ ہماری مدد نہیں کرتے تو آپ کو زندگی بھر جیل میں رہنا پڑے گا۔ ابراہیم عکاشہ کا کہنا ہے کہ میں جھوٹ نہیں بولوں گا۔ واحد شخص اور شریک مدعا علیہ، جس نے مسٹر حفیظ کے خلاف مقدمے میں گواہ بننے پر رضامندی ظاہر کی ہے تو وہ وکی گوسوامی ہے۔ اس نے امریکی حکام کے ساتھ تعاون کی درخواست کے معاہدے میں جرم قبول کیا ہے اور جب مقدمہ چلایا جائے گا تو اسے مسٹر حفیظ کے خلاف بطور گواہ بلایا جائے گا۔ امریکہ نے اس پر فرد جرم عائد نہیں کی تھی۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ اثاثہ بن گیا ہے۔ امریکی حکام نے گوسوامی کی موجودہ حیثیت پر بات کرنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا ہے کہ ان کی موجودہ حیثیت سے متعلق کوئی بھی معلومات گواہوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گوسوامی اب عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں اور امریکی حکومت کی طرف سے تحفظ حاصل کر رہے ہیں۔ وکی گوسوامی احمد آباد کی سڑکوں پر پلے بڑھے، بوٹلیگر کے طور پر اپنی زندگی گزار رہے تھے۔ وہ ممبئی آیا اور انڈر ورلڈ میں کام کیا۔ انہوں نے اپنی بالی ووڈ سوئیٹ ہارٹ ممتا کلکرنی سے ممبئی میں ملاقات کی جب وہ اپنے کیریئر کے عروج پر تھیں۔ اس کے بعد وہ کل وقتی دبئی چلا گیا اور بالی ووڈ کی تقریبات کا انعقاد کیا اور منشیات کا کاروبار کرنے لگا۔ اسے 1997میں دبئی میں منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ کے جرم میں 10 سال کے لئے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ممتا باقاعدگی سے جیل میں ان سے ملنے جاتی تھیں۔ ان کی شادی اس وقت ہوئی جب وکی جیل میں تھا۔ رہا ہونے کے بعد یہ جوڑا کینیا چلا گیا جہاں گوسوامی منشیات کے میدان میں ایک بار پھر بڑا بن گیا۔ اپریل 2016 میں ممتا کلکرنی اور گوسوامی پر بھارتی پولیس نے تھانے میں 2000 کروڑ روپے کی منشیات اسمگلنگ کا پردہ فاش ہونے پر ان کے تعلق کا الزام عائد کیا تھا۔ پولس نے سولاپور کی ایک دوا ساز فیکٹری اور تھانے اور ممبئی کے دیگر مقامات سے 18.50 ٹن ایفیڈرین اور 2.50 ٹن ایسٹک اینہائیڈرائیڈ، ممنوعہ پارٹی ڈرگز ضبط کیں، جن کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت 2,000 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ یہ فیکٹریاں مبینہ طور پر گوسوامی کی تھیں۔ امریکہ نے الزام لگایا تھا کہ گوسوامی نے شریک مدعا علیہان کے ساتھ مل کر ہندوستان میں ایک فیکٹری لگانے پر رضامندی ظاہر کی تھی، جہاں سے بھاری منافع کیلئے منشیات کو امریکہ بھیج دیا جاتا۔ اکتوبر 2020 میں نیویارک کی فیڈرل کورٹ میں، گوسوامی نے گواہ کا موقف اختیار کیا اور دو دن کے دوران اس نے عدالت کو بتایا کہ وہ ذاتی طور پر آکاشا بھائیوں کے ساتھ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے اور وہ ان کے کئے گئے کچھ جرائم کا گواہ ہے۔ اس نے آکاشا کا تعلق جنوبی افریقہ کے منشیات فروش کے قتل کے ساتھ ساتھ رشوت، دھمکیاں، ڈرانے دھمکانے اور بڑے پیمانے پر منشیات کا کاروبار کرنے سے بھی جوڑا۔اس نے یہ بھی قبول کیا کہ اس کے جاپان کے سب سے بڑے مجرم گروہ یاکوزا کے ساتھ تعلقات تھے۔ گوسوامی نے اس وقت کمرہ عدالت کو دنگ کر دیا جب انہوں نے بتایا کہ ان سے ہندوستانی حکومت کے انٹیلی جنس ایجنٹوں نے اس کام کے لئے کہا تھا۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (آر اے ڈبلیو) کے لئے کام کر رہے ہیں، یاکوزا کے اراکین کو تھائی لینڈ جانے کا انتظام کرنے کیلئے وہاں ایک دہشت گرد کے طور پر بیان کئے گئے شخص کو قتل کرنے کیلئے کہا گیا تھا۔ گوسوامی نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ہندوستانی انٹیلی جنس نے ان سے کہا تھا کہ وہ یاکوزا کا استعمال کرکے دو یا تین دیگر افراد کو مارنے کیلئے پاکستان جانے کیلئے کہا تھا، جنہیں اسی طرح دہشت گرد کہا گیا۔ اس نے یہ نہیں بتایا کہ وہ دو تین افراد کون تھے۔ آکاشا برادران اور حسین کی سزا کے بعد گوسوامی اب امریکی اثاثہ ہے اور امریکہ امید کرتا ہے کہ حفیظ کے خلاف اپنی گواہی کا استعمال کرے گا۔ اگست 2017 سے ساؤتھ ویسٹ لندن کی بیلمارش جیل میں آصف حفیظ نے اس بنیاد پر اپنی حوالگی کے خلاف مزاحمت کی ہے کہ دیگر چیزوں کے علاوہ حوالگی سے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کے کنونشن کے آرٹیکل 3 کے تحت ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔ اسے غیر انسانی حالات میں حراست میں لیا جائے گا اور اگر جرم ثابت ہو جاتا ہے تو اسے پیرول کے بغیر عمر قید کی سزا سنائے جانے کا امکان تھا اور اس سزا کے تحت اس کی مسلسل نظربندی پر نظرثانی کے لئے کوئی خاطر خواہ طریقہ کار موجود نہیں تھا۔ اس نے تمام الزامات کی تردید کی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ ایک بڑی سازش کا شکار ہے اور امریکی اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کے لئے کسی بھی قیمت پر اس کی گرفتاری چاہتے ہیں۔ ہائی سیکورٹی بیلمارش جیل میں اس رپورٹر سے گفتگو کے دوران حفیظ نے کہا کہ دبئی میں امریکی سینئر ایجنٹوں کے ساتھ کئی برسوں میں ملاقاتوں کے دوران امریکی ایجنٹوں کی دلچسپی پاکستان کی فوج کے بارے میں تھی۔ اس نے کہا کہ امریکی ایجنٹ اسے داؤد ابراہیم نیٹ ورک تک لے جانے کا ذریعہ بننے کے لئے کہتے رہے۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں داؤد ابراہیم سے آخری بار دبئی میں ملا تھا، جب وہ وہاں قانونی طور پر مقیم تھے۔ وہ ایک اچھے آدمی تھے اور مجھے ہندوستان اور دوسروں کی طرف سے ان پر لگائے گئے کسی بھی الزامات کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ میں صرف اپنی حفاظت یا امریکہ کو خوش کرنے کے لئے کسی کے بارے میں جھوٹ نہیں بول سکتا۔میں نے بہت سے معاملات پر امریکا، برطانیہ اور دیگر ایجنسیوں سے تعاون کیا لیکن میں نے پاکستان کے مفادات کے خلاف کام کرنے سے انکار کیا اور پاکستان کے خلاف جاسوس بننے سے انکار کردیا۔ اپنی گرفتاری سے قبل آصف حفیظ دبئی اور لندن میں ہندوستانی اور پاکستانی اشرافیہ کے ساتھ گھل مل گئے اور شاہی خاندان کی طرف سے منعقدہ پولو پروگراموں میں بھی شرکت کی۔ ان کے پاس برطانیہ میں کم از کم دو جائیدادیں ہیں، جن کی مالیت 7 ملین پاؤنڈ سے زیادہ ہے، جن میں سے ایک کو اس کی گرفتاری کے بعد سے رہن والے بینکوں نے دوبارہ اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ ان کی اہلیہ اور دو بیٹے، جو اکثر برطانیہ میں رہتے تھے، انہوں نے اس خوف سے برطانیہ میں قدم نہیں رکھا کہ کہیں امریکہ انہیں بھی کسی قسم کے الزام میں گرفتار کر لے۔ حفیظ نے برطانیہ میں کئی وکلاء کو تبدیل کیا ہے اور امریکی حوالگی کی قانونی جنگ لڑنے کے لئے بھاری رقم ادا کی ہے۔ گرفتاری کے بعد سے وہ دبئی، لندن اور پاکستان میں تقریباً تمام اثاثے اور کاروبار کھو چکے ہیں۔ پچھلے سات برسوں سے انہوں نے اپنے چھوٹے سے سیل کے اندر روزانہ 23 گھنٹے گزارے ہیں اور اپنے سیل سے انہیں صرف ایک گھنٹہ یا اس سے کم کے لئے باہر نکلنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ انہوں نے اس نمائندے کو بتایا کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر قرآن و حدیث کی مقدس کتاب پڑھ کر زندہ رہنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ ایک بہت ہی تنہا جگہ ہے۔ یہ بہت خطرناک ہے۔ میں نے اپنے آپ کو خالق سے جوڑ کر اور زندگی میں ایک مقصد تلاش کر کے خود کو بچایا ہے۔ مجھے اب کسی چیز سے ڈر نہیں لگتا۔ ایک بات یقینی ہے کہ میں امریکی مطالبات تسلیم نہیں کروں گا۔ اگست 2017 میں لندن میں گرفتاری کے بعد آصف حفیظ نے اپنی حوالگی کو ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کورٹ کے جج کے سامنے چیلنج کیا۔ 11 جنوری 2019 کو، ویسٹ منسٹر ڈسٹرکٹ جج نے کیس کو سیکرٹری آف اسٹیٹ (اس وقت کی ہوم سیکرٹری پریتی پٹیل) کو یہ فیصلہ کرنے کے لئے ریفر کیا کہ آیا حوالگی مناسب ہے۔ 5 مارچ 2019 کو سیکرٹری آف اسٹیٹ نے حفیظ کی حوالگی کا حکم دیا۔ دسمبر 2019 میں حفیظ کے وکلاء نے نظر بندی کی شرائط پر جیل کے مشیر کی گواہی جمع کراتے ہوئے ویسٹ منسٹر کے ڈسٹرکٹ جج کے فیصلے کے خلاف برطانوی ہائی کورٹ میں اپیل کی۔ 31 جنوری 2020 کو، برطانوی ہائی کورٹ نے ہوم سیکرٹری کے فیصلے کے خلاف آصف حفیظ کی درخواست کو اس بنیاد پر مسترد کر دیا کہ حفیظ امریکہ میں عمر قید کی سزا پانے کی صورت میں ہمدردانہ رہائی کی درخواست یا ایگزیکٹو معافی کے لئے درخواست دے سکیں گے۔ 12 مارچ 2020 کو، برطانوی ہائی کورٹ نے کیس کو مفاد عامہ میں ہونے کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا اور برطانیہ میں درخواست گزار کے تمام علاج کو ختم کرتے ہوئے کیس کو برطانیہ کی سپریم کورٹ میں بھیجنے کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا۔ 19 مارچ 2020 کو ای سی ایچ آر کے آرٹیکل 39 کے تحت حفیظ نے یورپی عدالت برائے انسانی حقوق (ای سی ایچ آر) کو عبوری اقدام کیلئے درخواست دی۔ 24 مارچ 2020 کو ای سی ایچ آرنے آرٹیکل 39 عبوری اقدام کے حوالے سے حفیظ کے حق میں فیصلہ دیا۔ ای سی ایچ آرنے برطانیہ کو اشارہ کیا کہ چونکہ درخواست گزار نے ای سی ایچ آر کے آرٹیکل 39 کے تحت عدالت میں درخواست دائر کی تھی، اس لئے اسے کارروائی کے دوران حوالے نہیں کیا جانا چاہئے۔ حفیظ نے ای سی ایچ آر کے آرٹیکل 3 کے تحت ایک ممکنہ سزا کے نفاذ کے بارے میں دعویٰ کیا، جس کے نتیجے میں امریکہ کو حوالگی کی صورت میں عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے اور ای سی ایچ آر کے آرٹیکل 3 کے تحت اپنی قید کی شرائط کے ساتھ ساتھ ای سی ایچ آر کے آرٹیکل 6 کے بارے میں دعویٰ کیا۔ جون 2020 میں نئے شواہد متعارف کرائے گئے اور حوالگی کی واپسی کے لئے کراؤن پراسیکیوشن سروسز یونائیٹڈ کنگڈم کو جمع کرائے گئے۔ 2022 میں درخواستوں کی ایک سیریز میں حفیظ نے سابق امریکی جاسوسوں اور زیر حراست افراد کے شواہد جمع کرائے، جنہوں نے اس کی حمایت میں ثبوت پیش کرتے ہوئے اسے منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے سے بری کر دیا تھا لیکن عدالتوں نے کہا ہے کہ اس کے لئے صحیح فورم امریکہ میں ہوگا نہ کہ برطانیہ اور برطانوی عدالتیں الزامات کا ٹرائل نہیں کر سکتیں۔ 6 مئی 2022 کو حفیظ کو اپیل کو دوبارہ کرنے یاکوزا کے اراکین کو تھائی لینڈ جانے کا انتظام کرنے کے لئے وہاں ایک دہشت گرد کے طور پر بیان کئے گئے شخص کو قتل کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ گوسوامی نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ہندوستانی انٹیلی جنس نے ان سے کہا تھا کہ وہ یاکوزا کا استعمال کرکے دو یا تین دیگر افراد کو مارنے کے لئے پاکستان جانے کیلئے کہا تھا، جنہیں اسی طرح دہشت گرد کہا گیا۔ اس نے یہ نہیں بتایا کہ وہ دو تین افراد کون تھے۔ آکاشا برادران اور حسین کی سزا کے بعد گوسوامی اب امریکی اثاثہ ہے اور امریکہ امید کرتا ہے کہ حفیظ کے خلاف اپنی گواہی کا استعمال کرے گا۔ اگست 2017 سے ساؤتھ ویسٹ لندن کی بیلمارش جیل میں، آصف حفیظ نے اس بنیاد پر اپنی حوالگی کے خلاف مزاحمت کی ہے کہ دیگر چیزوں کے علاوہ حوالگی سے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کے کنونشن کے آرٹیکل 3 کے تحت ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔ اسے غیر انسانی حالات میں حراست میں لیا جائے گا اور اگر جرم ثابت ہو جاتا ہے تو اسے پیرول کے بغیر عمر قید کی سزا سنائے جانے کا امکان تھا اور اس سزا کے تحت اس کی مسلسل نظربندی پر نظرثانی کے لئے کوئی خاطر خواہ طریقہ کار موجود نہیں تھا۔اس نے تمام الزامات کی تردید کی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ ایک بڑی سازش کا شکار ہے اور امریکی اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کے لئے کسی بھی قیمت پر اس کی گرفتاری چاہتے ہیں۔ آصف حفیظ کو آج الزامات کا سامنا کرنے کے لئے نیویارک جانے کا خطرہ ہے۔ بیلمارش جیل کے اندر سونے کا سابق پاکستانی تاجر پرامید اور منحرف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک کے بعد ایک گواہ مجھے کلین چٹ دینے کے لئے سامنے آ رہے ہیں اور امریکہ جانتا ہے کہ میں ملوث نہیں ہوں لیکن مجھے توڑنے کا ایک بڑا ایجنڈا ہے۔ امریکہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے مجھے گرفتار کرنے پر تلا ہوا ہے لیکن میرا اللہ پر بھروسہ ہے۔ آصف حفیظ اس بات پر مایوس ہیں کہ پاکستان کی حکومتوں نے عمران خان اور اب پی ڈی ایم کے تحت انہیں نظر انداز کیا اور جان بوجھ کر ان کی مدد نہیں کی۔ میں نے منشیات کی اسمگلنگ کی سب سے بڑی کوششوں کا مقابلہ کرنے میں پاکستانی اداروں کی مدد کی لیکن مشکل کی گھڑی میں مجھے چھوڑ دیا گیا اور بطور پاکستانی شہری مجھے کوئی مدد کی پیشکش نہیں کی گئی۔ یہ افسوسناک ہے۔ ڈی ای اےاور این سی اے نے سوالات کا جواب نہیں دیا۔