• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمران کو سازش کے شواہد دینا ہونگے ورنہ قانونی کارروائی لازمی، عامر میر

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیوکے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ صوبوں کے انتخابات الگ ہوں تو وفاقی حکومت اثرانداز ہوسکتی ہے، اسی طرح قومی اسمبلی کے انتخابات پر صوبے اثرانداز ہوسکتے ہیں، سپریم کورٹ کے حکمنامے میں بھی انتخابات میں تاخیر کی گنجائش ہےنگراں وزیراطلاعات پنجاب عامر میر نے کہا ہے کہ عمران خان کی گرفتاری کیلئے زمان پار ک میں آپریشن کا کوئی ارادہ نہیں ہے، عمران خان کی سیاست الزامات اور جھوٹ کے گرد گھومتی ہے،عمران خان کو شواہد فراہم کرنا ہوں گے ورنہ قانونی کارروائی لازمی ہے،عدلیہ اپنی حدود سے تجاوز کررہی ہے۔ عامر میر نے کہا کہ عمران خان کا دعویٰ فلم ڈائریکٹر کی کہانی لگتی ہے، عمران خان ایسی کہانیاں بنانے کے ماہر ہیں، سینئر پولیس افسران پر قتل کی سازش کا الزام لگانا سنگین جرم ہے،آئی جی پنجاب اورآئی جی اسلام آباد کو عمران خان کیخلاف قانونی کارروائی کرنی چاہئےعمران خان کی باتوں پر یقین کیا جائے تو ہر دوسرا آدمی انہیں مروانا چاہتا ہے،عمران خان خود کو شدید خطرات لاحق ہونے کا تاثر دے کر عدالتوں سے استثنیٰ چاہتے ہیں،سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پنجاب اسمبلی کے الیکشن ملتوی کرنے سے بڑا آئینی بحران پیدا ہوگیا ہے، وزیراعظم کے معاون خصوصی عطاء تارڑ نے کہا کہ حکومت نے الیکشن کمیشن کو شفاف انتخابات کیلئے سہولت دینا ہوتی ہے، اس وقت معاشی حالت ایسی ہے کہ فنڈز دستیاب نہیں ہیں، معاشی بدحالی میں حکومت دو بارا لیکشن کا خرچہ کیسے کرے گی؟ ، آئی ایم ایف کے پاس عمران نیازی کی حکومت گئی تھی، اسمبلیاں توڑتے وقت عمران خان کو پتا ہونا چاہئے تھا وہ کیسی معاشی بدحالی چھوڑ کر گئے ہیں،وزارت خزانہ نے موجودہ معاشی صورتحال سے الیکشن کمیشن کو آگاہ کیا ہے۔ عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ ملک میں آئے روز دہشتگردی کے واقعات ہورہے ہیں، کل ہی آئی ایس آئی کے ایک بریگیڈیئر سمیت فوج کے جوانوں کی شہادت ہوئی ہے،وزارت دفاع نے الیکشن کمیشن کو بتایا ہے فوج کی بنیادی ڈیوٹی دہشتگردی کے واقعات کی روک تھام ہے ، امن وا مان کی موجودہ صورتحال میں الیکشن کیلئے اہلکار فراہم نہیں کیا جاسکتے، سپریم کورٹ کے حکمنامے میں بھی انتخابات میں تاخیر کی گنجائش ہے۔ عطاء تارڑ نے کہا کہ چاروں صوبوں اور قومی اسمبلی کے انتخابات اکٹھے ہوں تو مالی حالات پر زیادہ اثر نہیں ہوتا، الیکشن کمیشن کی طرف سے آٹھ اکتوبر کی تاریخ تمام انتخابات ایک وقت میں کروانے کیلئے دی گئی ہے۔

اہم خبریں سے مزید