• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں آئینی بحران کی تاریخ 70؍ سال پرانی ہے

لاہور (صابر شاہ) پاکستان میں ایک اور آئینی بحران کاخدشہ ہے، کہیں طوفان کی شکل اختیار نہ کرلے جبکہ ملک کو پہلے ہی سے سیاسی اور اقتصادی بحرانوں نے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان کو اپریل 2022ء میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد یکے بعد دیگرے بحران ہیں کہ ٹلتے ہی نہیں۔

پاکستان کوایسے ہنگاموں، خرابیوں اور بداعمالی کا سامنا اپریل 1953ء ہی سے رہاہے۔ جب اس وقت کے گورنرجنرل غلام محمد نے آرمی چیف جنرل ایوب خان کی مدد سے خواجہ ناظم الدین کی حکومت برطرف کردی تھی۔ وہ مہینہ بھی اپریل کا تھا جبکہ ماہ اپریل کو پاکستان کی تاریخ میں نمایاںا ہمیت حاصل ہوگئی ہے۔

خواجہ ناظم الدین کو آئین ساز اسمبلی کی حمایت کے باوجود وزارت عظمیٰ سے ہٹایا گیاحالانکہ برطرف حکومت نے 15؍ روز قبل ہی اعتماد کا ووٹ حاصل کیاتھا۔

غلام محمد نے تب 24؍ اکتوبر 1954ء ہی کواس آئین ساز اسمبلی ہی کو تحلیل کردیا حالانکہ اس ایوان نے ملک کے نئے پہلے آئین کو تقریباً حتمی شکل دے دی تھی  تاہم اس وقت کے وزیراعظم محمد علی بوگرا کوفارغ نہیں کیا گیا۔

اس وقت متحدہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر مولوی تمیز الدین نے اسمبلی کی تحلیل کوسندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا اورکیس جیت لیا۔جس پر حکومت نے فیڈرل کورٹ سےرجوع کیا  جہاں چیف جسٹس محمد منیر نے بدنام زمانہ ’’نظریہ ضرورت‘‘ کے تحت حکومت کے حق میں فیصلہ دے ڈالا۔

مولوی تمیز الدین 1948ء سے 1954ء تک پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کے اسپیکر رہے۔ بعد ازاں 1962ء اور 1963ء میں بھی اسپیکر کےفرائض انجام دیئے۔

اہم خبریں سے مزید