سری نگر(نیوز ایجنسیاں، جنگ نیوز)مقبوضہ کشمیر کے سابق گورنر ستیا پال ملک نے پلوامہ حملے کو مودی کا ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مودی حکومت کو پلوامہ حملے کا پہلے سے علم تھا، مودی نے بھارتی فوجیوں کو بچانے کے بجائے مروا دیا اور ملبہ پاکستان پر ڈال دیا، پلوامہ ڈرامے کا مقصد بی جے پی کو انتخابات میں فائدہ پہنچانا تھا، ستیاپال کے الزامات نے بھارت میں ہنگامہ برپا کردیا ہے ، بھارتی حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے ستیا پال کے الزامات کی تحقیقات نہ کروانے پر مودی حکومت اور خفیہ ایجنسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے ، کانگریس کے رہنما جے رام رامیش نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ستیا پال کے انٹرویو کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ حقیقت کو دبایا نہیں جاسکتا، قومی سلامتی سے متعلق معاملہ انتہائی سنگین ہے، بی جے پی کے رہنما آئی ٹی سیل کے انچارج مالویا کا کہنا ہے کہ ستیا پال کے بدلتے ہوئے بیانات سے ان کی ساکھ پر سوالات اٹھ گئے ہیں، انہوں نے ستیا پال کے الزامات مسترد کردیئے۔ ستیہ پال ملک نے انکشاف کیاکہ پلوامہ میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے قافلے پر حملہ بھارتی نظام بالخصوص سی آر پی ایف اور وزارت داخلہ کی نااہلی اور لاپرواہی کا نتیجہ تھا۔انہوں نے اس بارے میں تفصیلات بتائیں کہ کس طرح سی آر پی ایف نے اپنے اہلکاروں کو لے جانے کے لئے ہوائی جہاز مانگا تھا لیکن وزارت داخلہ نے اس سے انکار کر دیا تھا۔بھارتی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ستیہ پال ملک نے کہا کہ میں نے معاملہ اٹھایا تو مودی نے مجھے کوربٹ پارک سے باہر بلا لیا، انہوں نے مجھے پلوامہ حملے پر خاموش رہنے اور اس بات کا کسی سے ذکر نہ کرنے کا کہا۔سابق گورنر جموں و کشمیر کا کہنا تھا کہ اجیت دوول نے بھی مجھے پلوامہ معاملے پر بات کرنے سے منع کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے احساس ہو گیا تھا پلوامہ ڈرامے کا مقصد بی جے پی کو انتخابات میں فائدہ پہنچانا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ کھل کر کہہ سکتا ہوں کہ بھارتی وزیرِ اعظم مودی کو کرپشن سے کوئی مسئلہ نہیں، وہ جموں و کشمیر کے بارے میں لاعلمی اور جہالت کی انتہا پر ہیں۔ستیہ پال ملک نے کہا کہ وزارتِ داخلہ کی کوتاہی کے سبب فروری 2019 میں پلوامہ میں بھارتی فوجیوں پر تباہ کن حملہ ہوا۔ان کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں کبھی بھی شفاف انتخابات نہیں کروائے، ہمیشہ انتخابی نتائج کو تبدیل کیا ،انتخابی نتائج میں رد وبدل کے باعث کشمیری دہلی پر بھروسہ نہیں کرتے جو کشمیر میں کئی مسائل کے ذمہ دار ہے۔