• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسٹیٹ بینک حکومت کے اکاؤنٹ سے کیسے پیسے لے سکتا ہے؟، مفتاح اسماعیل

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیوکے پروگرام ”نیا پاکستان شہزاد اقبال کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہےکہ الیکشن کیلئے حکومت کا 21ارب روپے دینا کوئی بڑی بات نہیں ہے، اسٹیٹ بینک قانون کے تحت کنسولیڈیٹڈ فنڈز اکاؤنٹ نمبر ایک سے رقم نہیں نکال سکتا، اسٹیٹ بینک حکومت کے اکاؤنٹ سے کیسے پیسے لے سکتا ہے، مجھے نہیں لگتا رقم جاری ہو، فنانس ڈویژن کو ای سی سی اور اب کابینہ سے بھی اجازت لینا ہوتی ہے، ایڈیشنل سیکرٹری فائنانس سیکرٹری سے اجازت لیے بغیر 21ارب روپے الیکشن کمیشن کو نہیں دے سکتا،سینئر صحافی و تجزیہ کار محمد مالک نے کہا کہ سنگین سیاسی بحران کے باوجود سیاسی جماعتوں کا ساتھ بیٹھنا بہت مشکل نظر آرہا ہے،میزبان شہزاد اقبال نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ اس وقت حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ الیکشن کے معاملہ پر ایک پیج پر ہیں،سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ الیکشن کیلئے 21ارب روپے مختص کرنے کا معاملہ پارلیمنٹ بھیجنے کی ضرورت نہیں تھی، کابینہ اور ای سی سی بھی 21ارب روپے الیکشن کیلئے مختص کرسکتی تھی، اس سپلمنٹری گرانٹ کی پارلیمنٹ سے منظوری سال کے آخر میں بھی لی جاسکتی تھی، الیکشن کیلئے حکومت کا 21ارب روپے دینا کوئی بڑی بات نہیں ہے، حکومت روزانہ 18 ارب روپے سود کی مد میں دیتی ہے، حکومت چاہتی تو کہیں اور سے 21ارب روپے کم کرلیتی یا کوئی ٹیکس لگادیتی، آئی ایم ایف کا ٹارگٹ 162ارب روپے کا پرائمری سرپلس ہے، حکومت نے پچھلے دنوں منی بجٹ میں 162ارب روپے کا نیا ٹیکس بھی لگایا ہے۔مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ الیکشن کے معاملہ پر لاہور ہائیکورٹ کا کیس چلنے دیا جاتا تو بہتر ہوتا، سپریم کورٹ میں تنازع اٹھ گیا ہے کچھ ججز چار تین کا جبکہ کچھ ججز تین دو کا فیصلہ کہہ رہے ہیں، اسٹیٹ بینک قانون کے تحت کنسولیڈیٹڈ فنڈز اکاؤنٹ نمبر ایک سے رقم نہیں نکال سکتا، اسٹیٹ بینک حکومت کے اکاؤنٹ سے کیسے پیسے لے سکتا ہے، مجھے نہیں لگتا رقم جاری ہو، فنانس ڈویژن کو ای سی سی اور اب کابینہ سے بھی اجازت لینا ہوتی ہے، ایڈیشنل سیکرٹری فائنانس سیکرٹری سے اجازت لیے بغیر 21ارب روپے الیکشن کمیشن کو نہیں دے سکتا۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ الیکشن کا معاملہ اکتوبر سے آگے جانے کا کوئی چانس نظر نہیں آتا، الیکشن کا معاملہ اکتوبر سے آگے جائے گا تو پھر کوئی ماورائے آئین چیز ہوگی، سویلین حکومت کا مینڈیٹ اگست میں ختم ہوجائے گا اس کے بعد رہنے کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا، پاکستان کے معاشی حالات اگلے دوسال بہتر ہونے کی امید نہیں ہے، عمران خان الیکشن جیت جائیں وہ بھی معاشی مسائل حل نہیں کرسکیں گے، پاکستان کٹھن مقام پر کھڑا ہے بہت زیادہ اسٹرکچرل چینجز کرنا ہوں گی۔ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف چاہتا ہے پاکستان اس کی مرضی کے مطابق بجٹ دے، آئی ایم ایف اپنے پروگرام سے ہٹ کر عوام دوست بجٹ کا مخالف ہے، حکومت نے الیکشن بجٹ دیا تو پاکستان سنگین مشکلات میں پھنس جائے گا، آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کیلئے عجلت میں نظر نہیں آرہا، حکومت کے اقدامات کے باوجود پروگرام بحال نہ کر کے آئی ایم ایف زیادتی کررہا ہے، لگتا ہے آئی ایم ایف نائن ریویو کیلئے بجٹ کا ڈرافٹ دیکھنا چاہتا ہے، آئی ایم ایف کے اعلامیہ سے نہیں لگتا کہ بورڈ میٹنگ اپریل میں ہوگی شاید یہ مئی تک جائے گی۔

اہم خبریں سے مزید