اسلام آباد(عاطف شیرازی،مہتاب حیدر ) پاکستان نویں جائزے کے تحت سٹاف لیول معاہدے پرآئی ایم ایف کو تاحال مطمئن نہ کرسکا،آئی ایم ایف نے معاہدے کو ضروری مالی یقین دہانیوں کے حصول سے مشروط کردیا،معاہدہ کب تک ہوگا ؟تاریخ کا تعین نہ ہوسکا،پاکستان کیلئے آئی ایم ایف مشن چیف کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف جلد ازجلد ضروری مالی یقین دہانیوں کا منتظر ہے،وزیر اعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف کی تمام پیشگی شرائط پر عملدرآمد کا دعویٰ کیا ہے تاہم آئی ایم ایف ابھی تک اسٹاف سطح معاہدے کیلئے آمادہ نہیں ہوا،آئی ایم ایف کے مشن چیف نیتھن پورٹر نےمیڈیا کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ "ہم اہم دو طرفہ شراکت داروں کی جانب سے پاکستان کو اہم مالی امداد کے حالیہ اعلان کا خیرمقدم کرتے ہیں ، "آئی ایم ایف ان کوششوں کی حمایت کر رہا ہے اور 9ویں جائزے کی کامیاب تکمیل کی راہ ہموار کرنے کے لیے جلد از جلد "ضروری مالیاتی یقین دہانیاں" حاصل کرنے کا منتظر ہے، آئی ایم ایف کے مشن چیف کا بیان مبہم ہے کیونکہ اس میں واضح طور پر یہ نہیں بتایا گیا کہ فنانسنگ کے فرق کو پر کرنے کے لیے مزید کتنی بیرونی مالیاتی یقین دہانیوں کی ضرورت ہے،رابطہ کرنے پر اعلیٰ سرکاری ذرائع نے کہا کہ پاکستانی حکام کو دو طرفہ شراکت داروں سے مزید 1 بلین ڈالر کا انتظام کرنے کے لیے سخت جدوجہد کرنا پڑے گی تاکہ عملے کی سطح پر معاہدہ کیا جا سکے کیونکہ آئی ایم ایف معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے 4 بلین ڈالر کی یقین دہانی حاصل کرنا چاہتا ہے، پاکستان نے پہلے ہی 3 بلین ڈالر کی اضافی بیرونی فنانسنگ کی یقین دہانی حاصل کر لی ہے جس میں بالترتیب سعودی عرب سے 2 بلین ڈالر اور متحدہ عرب امارات سے 1 بلین ڈالر شامل ہیں، اس سے قبل آئی ایم ایف نے تخمینہ لگایا تھا کہ بیرونی فنانسنگ گیپ 6 بلین ڈالر ہے لیکن پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ رواں مالی سال کے لیے کرنٹ اکائونٹ خسارہ تقریباً 4 بلین ڈالر تک محدود رہے گا لیکن آئی ایم ایف نے اندازہ لگایا کہ یہ 5 بلین ڈالر تک جا سکتا ہے بشرطیکہ حکومت بندرگاہوں پر پھنسے ہوئے کنٹینرز کی کلیئرنس پر پابندیوں کو کم کرنے کا انتخاب کرے،اگر درآمدی پابندیوں میں نرمی کی جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں IMF کے تخمینے کے مطابق خسارہ میں 5 بلین ڈالر تک کا اضافہ ہو سکتا ہے۔