• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’ہماری آزادی بحال کرو۔ ہماری فطرت سے دست درازی بند کرو۔ ہماری ہر وقت نگرانی بند کرو۔ ہماری چیر پھاڑ بند کی جائے۔ جھوٹی وکالت۔ ہائے ہائے۔ جھوٹی ہمدردی۔ اپنی بات ہمارے نام۔ نہیں چلے گی نہیں چلے گی۔(افسانہ۔ سورج اندھا ہوگیا ہے۔ افسانہ نگار۔ کیلاش۔ اُردو میں ترجمہ:شاہد حنائی۔ اکادمی ادبیات پاکستان)‘

مزاحمت، بے خوف، حقیقت پسندی، سندھی افسانے کی طاقت ہے۔’سندھ کیا پڑھ رہا ہے‘۔ ہمیں توقع سے زیادہ پذیرائی ملی ہے۔ کچھ شکوے بھی رہے ہیں۔

آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹوں بیٹیوں ۔پوتوں پوتیوں ۔نواسوں نواسیوں۔ بہوئوں دامادوں کے ساتھ دوپہر کے کھانے پر بیٹھنے اور دنیا جہان کی باتیں کرنے کا دن۔

آفریں ہے 23کروڑ پاکستانیوں پر۔ تاریخ کی سب سے ظالم مہنگائی، سفاک اور بے حس حکمرانی کے باوجود صبر اور شکر سے آئندہ نسلوں کی پرورش۔ اسلام آباد کے شہراقتدار میں تنظیم سازی ۔ تخت لاہور کیلئے داتا کی نگری میں چھوٹے بڑے کھانے ۔ یہ دو تین سو امراء کے چونچلے ہیں۔ ان کا 22کروڑ کی بھوک اور پیاس سے کوئی تعلق نہیں۔طاقت وروں کو دنیا بھر میں سناٹا بہت محبوب ہوتا ہے۔ ان کی زور آزمائی سے تاریخ میں اذیت ناک خموشی رہی ہے۔ اب شقی القلبی ہے۔ جبر و استبداد بھی۔ لیکن مطلوبہ اور متوقع سناٹا نہیں ہے ۔سوشل میڈیا سناٹا نہیں ہونے دے رہا ۔

ہم اس وقت محبت اور مہر کی بات کرنا چاہیں گے۔ کمرشلزم، کرپشن، اقربا نوازی کے باوجود قلمکار لکھ رہے ہیں۔ نوجوان پڑھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر رسول میمن سندھی ادب میں بڑا نام ہے۔ وہ میلوں، نمائشوں میں نہیں جاتے تھے۔ تخلیق اور تحقیق میں مصروف رہتے تھے۔ ان کے 18ناول بہت پڑھے جاتے ہیں۔ حمید سندھی بہت مہربان شخصیت ۔کئی کتابیں۔ لیکن کہانی’ دوریاں‘ بہت گہری سوچ والی۔ شبنم گل کی خود نوشت ’میرا سورج مکھی‘ بھی بہت مقبول رہی۔ وہ بھی 15سے زیادہ کتابوں کے مصنّف ہیں۔ سندھ کے ادبی حلقوں میں یہ ذکر رہتا ہے کہ ادبی میلوں کے نتیجے میں ادبی تحریکیں چلتی ہیں یا نہیں۔ نوجوانوں میں ایک سوچ یہ بھی پائی جاتی ہے کہ ان میلوں کی حکومتی سرپرستی کے باعث اکثر اہل قلم نے سندھ کے غریب عوام کو درپیش الجھنوں پر لکھنے سے گریز شروع کردیا ہےاور یہ خاص طور پر نئی صدی کے آغاز سے ہوا ہے۔ یہ تو ایک سوچ ہے۔ لیکن لکھنے والے لکھ رہے ہیں۔ چاہے میلوں اور کانفرنسوں والے انہیں بلائیں یا نہیں۔ گزشتہ آٹھ دس سال میں تیس سے چالیس ایسے ناول لکھے گئے ہیں۔ جو نئی نسل میں بہت دلچسپی سے پڑھے گئے ہیں۔ افسانوں اور شاعری میں اب دیہی زندگی سے زیادہ شہری زندگی در آئی ہے۔ فلک بوس فلیٹوں میں تنہائی موضوع خاص رہتی ہے۔اب یہ کوشش بھی کی جارہی ہے کہ سندھی افسانوں، ناولوں اور شاعری کو اُردو اور انگریزی میں ترجمہ کرکے زیادہ قارئین تک پہنچایا جائے۔ اس ضمن میں مدد علی سندھی کی کوششیں لائق تحسین ہیں۔ ہمیں امداد حسینی کی یاد ستارہی ہے۔ شمشیر الحیدری، سراج الحق میمن، بشیر موریانی، تنویر عباسی، طارق اشرف ،یوسف شاہین، نسیم کھرل، غلام ربّانی ابڑو، ماہتاب محبوب، نبی بخش بلوچ، تاج بلوچ، تاجل بیوس بھی یاد آتے ہیں۔یہ پہلو بھی قابل ذکر ہے کہ نوجوانوں اور بزرگوں میں قرآن حکیم کو اُردو اور سندھی ترجمے کے ساتھ باقاعدگی سے پڑھنے کا رجحان ہے۔ وظائف اور قصص القرآن سے متعلقہ کتابیں بھی بہت مقبول ہیں۔سندھی کہانی اور سندھی نظم اگر معیاری انگریزی میں منتقل کی جائے تو اعلیٰ آفاقی ادبیات میں شُمار کی جاسکتی ہے۔

نوجوانوں کے ذہن پر مثبت نقوش سے براہ راست رابطےکیلئے میں نے ایک جواں سال صحافی فرحان خان تونیو کو زحمت دی۔ انہوں نے خوشدلی سے تعاون کیا۔ ان کے بقول سندھ دھرتی کے باسیوں کی جانب سے علم سے محبت کا یہ ہزاروں برس پرانا تسلسل آج بھی جاری ہے اور سندھ کے لوگ بالخصوص نوجوان عصر حاضر کے تمام تقاضوں کو مدّنظر رکھتے ہوئے علم کی جوت جلاکر نئی منازل کی تگ و دو میں مصروف نظر آتے ہیں۔ ہم جب یہ سوال کہ’’ سندھ کیا پڑھ رہا ہے ‘‘لے کر نوجوانوں کی جانب گئے تو ایک خوشگوار سی حیرت نے خوش آمدید کہا کہ سندھ کے نوجوان ادب، تاریخ، مذہب، سیاست ، سماجیات سمیت آرٹیفشل انٹیلی جنس سمیت دیگر موضوعات پر شائع کردہ مواد اخبارات، جرائد اور کتب بڑی دلچسپی کیساتھ پڑھ رہے ہیں۔25سالہ عاقب احمد تنیو سر شاہنواز بھٹو لائبریری لاڑکانہ میں روزانہ جاتے ہیں اور وہاں تمام روزنامے پڑھ کر ملک کی مجموعی صورتحال پر معلومات حاصل کرنا پسند کرتے ہیں جبکہ امر جلیل کی کتابوں کا مطالعہ بھی ان کے شوق میں شامل ہے۔28 سالہ وکیل عبدالقدوس جتوئی کراچی میں پریکٹس کر رہے ہیں ۔ وہ سندھی، اردو اور انگریزی زبانوں میں تخلیقی مواد پڑھتے ہیں ۔

29 سالہ سرتاج احمد سمجھتے ہیں کہ اسمارٹ فونز پر انٹرنیٹ پیکیجز کی سہولت میسر ہونے سے کتابیں پڑھنے کا رجحان کم ہوا ہے مگر پڑھنے کا عمل اپنی جگہ جاری ہے۔گریجویشن کے 20سالہ طالب علم عبدالرحیم مینو ، امر جلیل اورزیب سندھی کی کہانیاں باقاعدگی سے پڑھتے ہیں ۔میڈیا سے تعلق رکھنے والے نوجوان دلدار لاشاری شاعری زیادہ پسند کرتے ہیں۔شیخ ایاز کی انقلابی شاعری سب سے زیادہ متاثرکرتی ہے۔ فیض احمد فیض اور حبیب جالب بھی پسندیدہ ہیں۔18سالہ مزمل اسد پیرزادہ کہتے ہیںوہ آرٹیفشل انٹیلی جنس، آئی ٹی سمیت دیگر جدید موضوعات پر شائع ہونے والا مواد دلچسپی سے پڑھتے ہیں۔22سالہ محمد ثاقب امر جلیل، شیخ ایاز کی تصانیف پسند کرتے ہیں۔ زیادہ تر نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ای کتاب پڑھتے ہیں۔ تقریباً ہر موضوع پر شائع ہونے والی کتب انٹرنیٹ پر بآسانی دستیاب ہیں ۔شکریہ فرحان ۔

میں تو علامہ اقبال کا یہ شعر ہمیشہ مدّ نظر رکھتا ہوں:

نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

کتابیں لکھی جارہی ہیں۔ پڑھی جارہی ہیں۔ رسالے آن لائن ہوتے جارہے ہیں۔ سندھی نوجوان صرف سندھی ادب اور تحقیقی مواد ہی نہیں پڑھتا ۔ اُردو ادب سے بھی تعلق خاطر رکھتا ہے۔ آکاش انصاری، انور مہرانوی، مشتاق مہر اُردو سندھی دونوں میں شاعری کرتے ہیں۔ شاہد حنائی اُردو اور سندھی کے درمیان پل بنے ہوئے ہیں۔ ان کے ترجمے کی زبان سے لگتا ہے کہ جیسے کہانی اسی زبان میں لکھی گئی ہے۔ سندھ نے جمہوریت کی بحالی اور فرد کی آزادی کیلئے طویل جدو جہد کی ہے۔ اگرچہ جمہوریت اور آزادی حقیقی معنوں میں انہیں میسر نہیں آئی۔ اُردو لکھنے والے جو سندھ میں آکر آباد ہوئے۔ انہوں نے بھی اُردو سندھی ادب میں قابل قدر اضافہ کیا۔ فہمیدہ ریاض، مسلم شمیم، محسن بھوپالی، آفاق صدیقی، انوار احمد زئی اوررضوانہ انصاری کی کوششیں کیسے فراموش کی جا سکتی ہیں۔ اب ہم جنوبی پنجاب کا رُخ کریں گے۔ آشکے تعاون کے ساتھ ۔

تازہ ترین