’’اے خدا ہمارا تیرے سوا اور کون ہے؟ تو ہی مارتابھی ہے۔ اور مردوں کو زندہ بھی کرتا ہے۔ جہاں بپھرے طوفان اٹھتے ہیں اور تند بھنورپڑتے ہیں۔ وہاں سے تو ہی پار لگاتا ہے۔ جہاں جہاز بادمخالف کے تھپیڑوں سے لرزتے ہیں۔ وہاں تو ہی انہیں ساحلِ سلامتی تک پہنچاتا ہے۔ یہ عاجز بندہ تجھ سے کیا مانگے۔ سب کچھ دینے والا تو ہی ہے۔ یہ حیدر تو مانگنے کی بھی استطاعت نہیں رکھتا۔ تو خود ہی مانگنے کی توفیق دیتا ہے اور عطا کرتا ہے۔(نامور سرائیکی شاعر ۔ علی حیدر۔ وحدت افکار۔ علاقائی زبانوں کے قدیم و جدید شعری ادب کا انتخاب۔ ناشر کا نام نہیں لکھا۔)
میں ممنون ہوں ۔ سندھی شعر و ادب کے دلدادگان کا۔ پھر سرائیکی وسیب کے عشاق ِحرف کا۔ واہگہ سے گوادر تک مختلف زبانیں بولنے والے۔ صدیوں سے اپنی اپنی لسانی وادیوں میں رہنے والے۔ بہت ہی پیار کرنے والے لوگ ہیں۔ ان سے محبت کرو تو یہ دوگنی محبت دیتے ہیں۔ لیکن انہیں نظر انداز کریں تو یہ روٹھ جاتے ہیں۔ انہیں ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہئے۔ انکا انتقام جغرافیے کے انتقام سے بھی خطرناک ہوتا ہے۔
آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹوں بیٹیوں، پوتوں پوتیوں، نواسوں نواسیوں سے ملنے۔ سوالات کے جوابات دینے کا دن۔ سوال کرنا ہر ایک کا حق ہے۔ جواب دینا ہم سب کا فرض ہے۔ جن کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا جو دل سے جانتے ہیں کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ وہ جواب دینے کے بجائے صحافی کے چہرے پر تھپڑ جڑ دیتے ہیں۔ یہ رُسوائی پھر ان کا تعاقب عمر بھر کرتی ہے۔ آج ہم حسب وعدہ سرائیکی شاعروں افسانہ نویسوں ۔ ناول نگاروں۔ دانشوروں کا قرض چکانے کی کوشش کریں گے۔ ہماری ان قومی زبانوں میں جو ادب تخلیق ہورہا ہے۔ وہ ہر حوالے سے معیاری آفاقی ادب ہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ منتخب کہانیوں۔ نظموں۔ ناولوں کے تراجم معیاری انگریزی میں کروائے اور انہیں عالمی ادبی ایوارڈزکیلئے بھجوائے۔ چند سو الفاظ پر مشتمل کالم میں ان تخلیقی کوششوں کے تعارف کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔تونسہ کو اگر ’منی یونان‘ کہا جاتا ہے۔ تو لیّہ کی ادبی خدمات بھی بہت سے ضلعوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ انبالہ میں ہماری ملاقات مہندر پرتاب چاند سے ہوئی تھی۔ وہ لیّہ کو یاد کرتے ہیں۔
’وحدت افکار‘ بڑے سائز کے700 صفحات پر مشتمل ہے۔سرکاری پیشکش ہے۔ کہیں محکمے کا نام لکھا ہے اور نہ سال طباعت۔ لیکن بہت اہم کام ہے۔ مندرجات میں وحدت افکار۔ عقیدت۔ تصوّف۔ اسلامی اقدار اور وطن کی محبت نمایاں ہیں۔ اس میں پنجابی۔ سرائیکی۔ پشتو۔ براہوی۔ بلوچی زبانوں میں لکھنے والے شعراء کا کلام اُردو ترجمے کے ساتھ دیا گیا ہے۔ اقبال سوکڑی کہتے ہیں ’’ اپنے ہاتھ میں اپنی قسمت ہے۔ اپنے ہی ہاتھ میں اپنی تقدیر ہے۔ اپنی سر زمین اتنی میٹھی ہے جس طرح ماں کا دودھ میٹھا ہوتا ہے۔‘‘ اللہ بخش یاد کی سطریں ملاحظہ ہوں: ’’ملک کی راہ میں پھیلے ہوئے کانٹوں کو اپنی پلکوں سے جھاڑو دے کر صاف کریں۔ آئو ملک کی شان شوکت کی تعمیر کریں۔‘‘ اس ضخیم کتاب میں سرائیکی شعراء میں غضنفر مہدی، صدیق ظاہر رحیم، ڈاکٹر مہر عبدالحق، ارشد ملتانی، اقبال سوکڑی، کریم بخش جام پورہ، گفتار خیالی، دلدار بلوچ، فائق ملتانی،اللہ بخش یاد ، عبدالکریم، فقیر، اسد ملتانی، شیخ عبداللہ، غلام فقیر، رشید عثمانی، حسن رضا گردیزی، گل محمد عاشق ملتانی، بہار ملتانی، دائی پھاپھل حفظان کا کلام ملتا ہے۔ اُردو ہماری وفاقی زبان ہے۔ ہم ایک دوسرے کے اعلیٰ ادب کو اُردو کے ذریعے ہی جان سکتے ہیں۔
اکادمی ادبیات پاکستان کی ایک اہم تالیف ’پاکستانی زبانیں اور بولیاں‘ بھی ان ہماری کاوشوں میں بہت معاون رہی ہے۔ ڈاکٹر منظور علی ویسریو نے پاکستان کے گلدستے میں 80زبانوں اور بولیوں کی خوشبو شامل کردی ہے۔ اس پر بھی کسی وقت بات کریں گے۔ ہر زبان سے ہم اندازہ کرسکتے ہیں کونسا علاقہ کتنا مہذب کتنا متمدن ہے۔ سرائیکی زبان کی قدامت انہوں نے کئی ہزار سال پہلے تک تلاش کی ہے۔ وہ کہتے ہیں جدید شعری روایت میں دوہڑے، کافی، گیت، نظم، آزاد نظم، پابند نظم، غزل ہائیکو میں شعرا اپنے خیال کا اظہار کررہے ہیں۔ یہاں ہمیں اقبال بانو، سہر رومانی، نصر اللہ خان ناصر، ممتاز حیدر ڈائر، دلشاد کلانچوی،سعید اختر،طاہر شیرازی، ابرار عقیل، گل عباس، عصمت اللہ شاہ کے مزید نام ملتے ہیں۔
شروع میں کچھ احباب نے مایوسی ظاہر کی تھی کہ سرائیکی میں پڑھنے والے کم ہیں۔ لیکن جوں جوں میرے رابطے ہورہے ہیں۔ تو مایوسی چھٹ رہی ہے۔ ہمارے نوجوان اسمارٹ فون کی الفت میں گم ہونے کے باوجود کتاب سے رشتہ نہیں توڑ رہے ہیں۔ سرائیکی میں شاعری زیادہ پڑھی جاتی ہے۔ مخمور قلندری، مومن مولائی، منشو بھٹہ سر فہرست ہیں۔ رفعت عباس اور اشو لال نے نئی نسل کو بہت متاثر کیا ہے۔ رومانی شاعری میں تہذیب حافی اورعمیر نجمی بھی سنے جارہے ہیں۔ حفیظ خان کا نیا ناول ’’مرما جیون دی‘‘ پسند کیا جارہا ہے۔ جعفر عباس بزدار کی سائنسی حوالے سے تصنیف ’کائنات دا سفر‘ کی مقبولیت نئی سرائیکی نسل کی سنجیدگی کی گواہی دیتی ہے۔ پرویز منیر کی ’تھل دی مونجھی ریت‘ ظفر حسین ظفر فریدی کی ’عشق دے پندھ‘۔ شاکرمہروی کی ’دوہڑے‘ بھی نوجوانوں کے ہاتھوں میں دکھائی دیتی ہے۔
ابھی ایک نوجوان رانا عبدالرب سے لیہ کے حوالے سے رابطہ ہوا۔ وہ ’جنگ‘ اخبار بچپن سے پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے ہماری معلومات میں اضافہ کیا کہ مہر عبدالحق سمرا نے قرآن مجید کا ترجمہ سرائیکی میں کیا ہے۔ ڈاکٹرخیال امروہوی نے لیّہ میں ادب کی مشعلیں روشن رکھیں۔ نسیم لیّہ، شہباز نقوی،ڈاکٹر افتخار بیگ،شفقت بزدار، احسن بٹ، ریاض راہی، رئوف کلاسرا، مہر اختر وہاب، ارمان عثمانی، طاہرہ امان، کاشف مجید، خضر کلاسرا،شاکر کاشف، جسارت خیالی،جمشید ساحل،احمد اعجاز، ناصر ملک، یونس بزدار، ایم بی راشد، حسرت خان، عارش گیلانی، شعیب بخاری، ظفر عدم، منشو بھٹہ،ڈاکٹر گل عباس اعوان، ڈاکٹر مزمل حسین، ڈاکٹر حمید الفت ملغانی نے ادب اور ثقافت کیلئےتخلیقی اور تحقیقی جدو جہد کی ہے۔
’جنگ‘ کے قارئین اپنی قومی زبانوں کے ادب میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ میں ان کا بھی شکر گزار ہوں۔ ’پاکستان میں کیا پڑھا جارہا ہے‘ کا یہ سلسلہ اس لیے سنجیدہ مطالعے اور تحقیق کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنے مستقبل کے بارے میں جائزہ اس حوالے سے لے سکتے ہیں۔ عام طور پر کہا جارہا ہے کہ کتاب کا وقت گزر گیا۔ اخبارات جلد ہی قصۂ پارینہ ہوجائیں گے۔ اصل ضروری عنصر ہے حرف، عبارت، متن، اس کی ضرورت پرنٹ میں بھی ہے۔ ڈیجیٹل میں بھی۔ حرف انسان کی انفرادیت ہے۔ حرف تہذیب کی بنیاد ہے۔ اب ہماری اگلی منزل ہے۔ ’پنجابی میں کیا پڑھا جارہا ہے‘۔ پنجاب ہزاروں سال سے حرف کا ترنجن ہے۔