سڈنی، آسٹریلیا (شکیل یامین کانگا) فیفا ویمنز فٹ بال ورلڈ کپ کی فاتح کو ن سی ٹیم ہوگی؟ کس کے سر آئندہ چار سال کیلئے ٹورنامنٹ کی فتح کا تاج سجے گا، اس کا فیصلہ اتوار 20اگست کوانگلینڈ اور اسپین کے درمیان ہونے والے فائنل میں ہوگا۔اس میچ کو دلچسپ اور سنسنی خیز قراردیا جارہا ہےکیونکہ دونوں ٹیموں نے ایونٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی بار فائنل کیلئے کوالیفائی کیا ہے۔انگلینڈ نے آسٹریلیا کو جبکہ اسپین نے سوئیڈن کو شکست دیکر پہلی بار ٹورنامنٹ کے فائنل میں رسائی حاصل کی ہے۔ چار بار کی فاتح امریکی ٹیم پری کوارٹر فائنل میں سوئیڈن کے ہاتھوں پینلٹی ککس پر ایونٹ سے آئوٹ ہوئی جبکہ سوئیڈن کی ٹیم کو سیمی فائنل میں اسپین نے شکست دی۔ دوبار کی چیمپئن جرمنی اور میزبان نیوزی لینڈ کی ٹیم پہلے رائونڈ میں ہی جبکہ دوسری میزبان آسٹریلوی ٹیم سیمی فائنل میں شکست کے بعد فارغ ہوگئیں تھیں ۔ انگلینڈ اور اسپین کی ٹیمیں ورلڈ چیمپئن بننے کیلئے پرامید ہیں، ٹاپ کھلاڑی اپنی اپنی ٹیموں کی جیت کا دعوی کررہےہیں، انگلینڈ کی ٹیم نے فیفا ویمنز ورلڈ کپ فٹ بال میں2015ءکے ورلڈ کپ میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی جبکہ اسپین پہلی بار فائنل میں پہنچنے میں کامیاب رہی ہے۔ انگلینڈ کی ٹیم کو ٹورنامنٹ میں اب تک کھیلے گئے میچز میں اسپین پر برتری حاصل ہے۔ فائنل میچ سے قبل انگلینڈکی عالمی رینکنگ نمبر چارجبکہ اسپین کی نمبر چھ ہے۔ انگلینڈ کی ٹیم ٹورنامنٹ کے گروپ ڈی میں شامل تھی اس نے گروپ کے تمام میچزمیں فتح حاصل کی۔ دریں اثناءسوئیڈن نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میزبان آسٹریلیا کو2-0سے شکست دیکرفیفا ورلڈ کپ فٹ بال میں تیسری پوزیشن حاصل کرلی۔کوارٹر تک عمدہ کارکردگی دکھانے والی آسٹریلوی ٹیم کی اگلے میچز میں خراب کارکردگی پر آسٹریلوی شائقین نے افسردگی کا اظہار کیا۔برسبین کے سنکارپ اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے میچ کے پہلے منٹ میں سوئیڈن کی کھلاڑی کو گول کرنے کا آسان موقع ملا لیکن گول کیپر نے شاندار دفاع کیا،پہلے ہاف میں آسٹریلیا نے گول برابر کرنے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ملی ،سوئیڈن کی رولفو نے پینلٹی کک پر میچ کا پہلا گول کرکے ٹیم کو ایک صفر کی برتری دلا دی۔ دوسرے ہاف میں سوئیڈن کےکوسوواری نے شاندار ہٹ لگا کر گیند کو جال میں پھینک کر سوئیدن کو 2-0کی کامیابی دلوادی۔ سوئیڈن نے اس سے قبل 1991، 2011ء اور 2019ء کے ورلڈ کپ میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی۔ آسٹریلیا پہلی بار ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں پہنچنے میں کامیاب ہوئی تھی جبکہ سوئیڈن کی ٹیم نے پانچویں بارسیمی فائنل میں رسائی حاصل کی تھی۔