• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اوس کا چیلنج تھا، ٹاس جیتتے تو کہانی مختلف ہوسکتی تھی، سلمان علی آغا

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستانی کپتانی سلما ن علی آغا نے کہا کہ اوس کی وجہ سے ٹاس ہارنے کے بعد ہمیشہ چیلنج تھا۔ اگر ہم ٹاس جیتتے تو ایک مختلف کہانی ہو سکتی تھی۔ اوس ایک عنصر تھا۔ ہم منصوبوں پر عمل نہیں کر سکے۔ عثمان کا آف ڈے تھا، ایسا ہو سکتا ہےلیکم ہم اچھا نہیں کھیلے۔پورے ٹورنامنٹ میں ہم نے انڈر پرفارم کیا ہے۔ ہم نے 18 اوورز اچھے کھیلے دوسری ٹیم بھی دو اوورز اچھے کر سکتی ہے پریشر میں فنشنگ اچھا کرنے کی ضرورت ہے۔ چار ٹورنامنٹس میں ہم سیمی فائنل میں نہیں پہنچے انڈر پریشر آ کر ہم اچھے فیصلے نہیں کر پا رہے۔ اس چیز پر قابو پانے کی ضرورت ہے اگر انڈر پریشر آتے رہیں گے تو یہی کچھ ہو گا ۔شکست کی ذمہ داری ہم ہی لیں گے کپتان اور کوچ دونوں ذمہ داری لیں گے۔ ہم سلیکشن میں بھی شامل تھے پلئینگ الیون بھی ہم نے کھلائی ۔کنڈیشنز کو دیکھ کر پلئینگ الیون بناتے ہیں ہم کوچ کے ساتھ مل کر پی کمبی نیشن بناتے ہیں ۔میں تین نمبر آ کر اچھا پرفارم نہیں کر سکا ۔صاحبزادہ فرحان کے علاوہ بیٹنگ میں کوئی کامیاب نہیں ہوا ۔میں اپنی کپتانی کا اس وقت فیصلہ کروں گا تو یہ جذباتی پن ہو گا واپس جا کر دو چار دن لوں گا پھر دیکھتے ہیں کیا فیصلہ کرتا ہوں ۔فخر زمان نے غیر معمولی بیٹنگ کی ہمیں پاور پلے میں ایسی ہی بیٹنگ کی ضرورت تھی ۔ہمیں میچ سے پہلے ہی علم تھا کہ ہمیں کیسے پلان کرنا ہے تاکہ سیمی فائنل میں پہنچیں اسی کے مطابق کمبی نیشن بنایا ۔آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے اور پلیئر آف دی میچ صاحبزادہ فرحان نے کہا کہ پاکستان ٹیم کے لیے اچھا کرنا چاہتے تھے۔ میں چاہتا تھا کہ فخر حقیقت میں سنچری بنائے۔ میری سنچری نے ٹیم کے لیے کام نہیں کیا، اس لیے میں اداس ہوں۔ میں ٹھیک محسوس کر رہا ہوں، اس سے اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ جانتا تھا کہ میں جو کچھ بھی میرے بس میں تھا اسے کر سکتا ہوں۔ تمام کریڈٹ ڈومیسٹک کرکٹ کو جاتا ہے، اس نے رفتار سے اسکور کرنے اور بڑا اسکور کرنے کی عادت کو سامنے لایا ۔سری لنکا کے کپتان داسن شناکا نے کہا کہ میں کپتان کی حیثیت سے اپنی ٹیم کو جتوانا چاہتا تھا ۔لیکن ہم قریب آکر جیت نہ سکے۔ میں اسے ختم کر سکتا تھا۔ شاہین کی خوب پٹائی کی پاکستانی کپتان سخت پریشان رہے۔ ہاں ہم مایوس ہیں۔ میں مداحوں سے معذرت چاہتا ہوں۔ بدقسمتی سے ہم زخمیوں میں گر گئے. مستقبل میں مجھے امید ہے کہ کوئی زخم نہیں ہوگا۔

اسپورٹس سے مزید