• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

(گزشتہ سے پیوستہ)

امریکہ کی طرف سے اسرائیل کی غیرمعمولی تائیدو حمایت اور معاشی و فوجی امداد کو Justifyکرنے کیلئے یہ بھونڈا جواز بھی پیش کیا جاتا ہے کہ چونکہ اسرائیل مشرق وسطیٰ کا واحد جمہوری ملک ہے جو مغربی اقدار و روایات کا حامل ہے اسلئے امریکہ کو اس صہیونی ریاست کا ساتھ دینا چاہئے۔ مگر یہ تاثر یکسر غلط ہے۔ اسرائیل کا ساتھ دینے کیلئے اکثر Moral Rationale یعنی اخلاقی منطق کو بروئے کار لایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ مغربی اقدار کا حامل جمہوری ملک چاروں طرف سے دشمنوں میں گھرا ہوا ہے،حالانکہ نہ اسرائیل میں حقیقی جمہوریت ہے، نہ امریکہ نے جمہوریت کی بنیاد پر تعلقات کو کبھی اہمیت دی ہے، نہ تو اسرائیل کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں اور نہ ہی یہودی مظلوم ہیں۔The Israel Lobby and US Foreign Policy نامی شاہکار تصنیف میں ایک ایک کرکے ان سب مفروضوں کی حقیقت واضح کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر جس طرح مقامی افراد پر ستم ڈھائے بغیر یورپی شہری امریکہ اور کینیڈا کی بنیاد نہیں رکھ سکتے تھے اسی طرح فلسطینیوں پر ظلم کئے بغیر یہودی یہاں اپنے وطن کی بنیاد نہیں رکھ سکتے تھے۔ اخلاقی دلیل کو ملحوظ خاطر رکھا جائے تو یہودی ظالم اور عرب مظلوم ہیں اور امریکہ کو اسرائیل کے بجائے فلسطین کا ساتھ دینا چاہئے۔ ہمدردی ان سے ہونی چاہئے جن سے انکا وطن چھن گیا۔مگر بدقسمتی سے یہ نئی تاریخ امریکہ میں نہیں پڑھائی جاتی۔

Moral Rationale کے حوالے سے ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ چونکہ ماضی میں یہودیوں سے ناروا سلوک کیا گیا اسلئے ازالے کے طور پر اب انکا ساتھ دیا جائے،لیکن اگر ظلم کا شکار رہنے والی قوم خود ظالم بن جائے تو اخلاقی بنیادوں پر اس کا ساتھ کیسے دیا جا سکتا ہے؟امریکی مصنفین نے حقائق کی روشنی میں بتایا ہے کہ جب انیسویں صدی کے اختتام پر صہیونیت کی سیاسی تحریک شروع ہوئی تو فلسطین میں محض15سے17ہزار یہودی آباد تھے۔1893ء میں فلسطین کی آبادی 95فیصد مسلمانوں پر مشتمل تھی اور خلافت عثمانیہ میں شامل یہ علاقہ گزشتہ 1300سال سے انکے پاس تھا۔صہیونی تحریک کو امید تھی کہ یورپ سے ہجرت کرنیوالے یہودی یہاں آئیں گے تو انہیں عددی برتری حاصل ہوجائے گی لیکن زیادہ تر یہودیوں نے امریکہ کا رُخ کیا اور صرف ایک لاکھ یہودی فلسطین آئے۔ 1947ء میں جب اسرائیل کے قیام کا اعلان کیا گیا تب6لاکھ 50ہزار یہودی فلسطین کے 7فیصد رقبے پر آباد تھے اور مجموعی آبادی کے تناسب سے انکی نمائندگی صرف 35فیصد تھی جبکہ مسلمانوں کی آبادی تب بھی65فیصد تھی۔یہودیوں نے یہاں صدیوں سے آباد عرب باشندوں کو نقل مکانی پرمجبور کیا اور اس خطے پر قابض ہوتے چلے گئے۔ صہیونیوں نے ظلم وستم کی بنیاد پرایک نیا وطن تعمیر کیا اور خود اسرائیلی رہنما بعض اوقات اس ناانصافی اورزیادتی کا اعتراف کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر Ben - Gurionنے 1956ء میں ورلڈ جیوش کانگرس کے صدر Nahum Goldmann کو کہا،اگر میں عرب باشندوں کا رہنما ہوتا تو کسی صورت اسرائیل کیساتھ سمجھوتہ نہ کرتا۔ فطری سی بات ہے،ہم نے انکے ملک پر قبضہ کیا ہے۔ یقیناً خداوند نے یہ سرزمین ہمیں لوٹانے کا وعدہ کیا تھا مگر اس سے انہیں کیا فرق پڑتا ہے۔ ہمارا خدا انکا خدا تو نہیں ہے ناں۔ ہم 2000سال پہلے اسرائیل سے نکالے گئے مگر ان عربوں کا اس سے کیا لینا دینا۔ یہودیوں کی مخالفت رہی، نازیوں اور ہٹلر نے ظلم ڈھائے مگر اس میں ان مسلمانوں کا کیا قصور؟ وہ تو بس یہ جانتے ہیں کہ ہم آئے اور انکے ملک پر قابض ہوگئے۔تو وہ اس صورتحال کو قبول کیوں کریں ؟ امریکی مصنفین لکھتے ہیں کہ آج اسرائیل مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہے۔نہ صرف روایتی جنگ کے حوالے سے اسرائیل کے پاس ہمسایہ ممالک کی نسبت بہترین فوج ہے بلکہ اسرائیل اس خطے کی اکلوتی ایٹمی طاقت بھی ہے۔ اردن اور مصر اسرائیل کیساتھ امن معاہدے پر دستخط کرچکے ہیں جبکہ سعود ی عرب نے بھی امن کی پیشکش کی ہے۔ عراق تین تباہ کن جنگوں کے نتیجے میں ختم ہوچکا ہے،شام روس کی سرپرستی سے محروم ہوچکا ہے،رہا ایران تو وہ نہ صرف سینکڑوں میل دور ہے بلکہ اس نے آج تک کبھی اسرائیل پر براہ راست حملہ نہیں کیا۔فلسطینی آپس کے اختلافات کے باعث تقسیم کا شکار ہیں ۔اسرائیل نے آج تک کوئی جنگ نہیں ہاری۔ اسرائیل کے قیام اور آزادی کے بعد شروع ہونے والی باقاعدہ لڑائی میں عربوں کو شکست ہوئی۔ جون1967ءکی6روزہ عرب اسرائیل جنگ میں مصر، اردن ،شام اور عراق ملکر بھی اسرائیل کا کچھ نہیں بگاڑ سکے، اکتوبر 1973ء کی یوم کپور جنگ میں اسرائیل کو غیر متوقع حملے کے باعث آغاز میں پریشانی ضرور ہوئی لیکن مجموعی طور پر اس لڑائی میں بھی اسرائیل کا پلہ بھاری رہا۔بیشتر عرب ممالک یا تو انتہائی کمزور ہو چکے ہیں یا پھر اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرچکے ہیں تو ان حالات میں یہ دعویٰ کیسے کیا جا سکتا ہے کہ اسرائیل دشمنوں میں گھرا ہوا ہے اور اس کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں ۔

یہودی لابی کی طرف سے ایک اور دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اسرائیل چونکہ اس خطے کا واحد جمہوری ملک ہے اسلئے امریکی امداد کا مستحق ہے۔ حالانکہ جمہوریت کبھی امریکی انتظامیہ کی اولین ترجیح نہیں رہی ۔امریکہ اپنے مفادات کے پیش نظر نہ صرف ڈکٹیٹروں کی حمایت کرتا رہا ہے بلکہ امریکی ایما پر کئی ممالک میں جمہوری حکومتوں کا تختہ اُلٹ دیا گیا ۔ آئزن ہاور صدر تھے تو 1953ء میں ایرانی وزیراعظم محمد مصدق کا تختہ اُلٹ کر شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کی صورت میں ڈکٹیٹر کو مسلط کردیا گیا۔ فلسطین میں حماس کی منتخب حکومت نہیں چلنے دی گئی۔ (جاری ہے)

تازہ ترین