فہیم زیدی، دمام، سعودی عرب
دنیا میں جہاں متعدّد ممالک انتشار، افراتفری کا شکار ہیں، وہیں بہت سے ممالک خوش حالی اور اقتصادی استحکام کی جانب بھی گام زن ہیں، کیوں کہ وہاں کی حکومتیں اور باشندے پوری دیانت داری، محنت اور اخلاص سے اپنے وطن کو ایک کے بعد دوسری کام یابی دِلوانے میں اہم کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔
وہاں ذاتی مفادات پسِ پُشت ڈال کر مُلکی استحکام کو اوّلین ترجیح بنایا جاتا ہے۔اور پھر… مسلسل محنت کے بعد مَن چاہتا ہے کہ کچھ تفریح بھی کرلی جائے تاکہ تھکاوٹ سے چُور جسم و دماغ کچھ سکون حاصل کر سکے۔یوں ہر مُلک میں وہاں کے رہن سہن، ثقافت اور مذہبی رجحانات ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے تفریح گاہیں بنائی جاتی ہیں۔
یورپی اور چند ایشیائی ممالک میں تفریحی پارکس، الیکٹرانک دیو ہیکل جھولوں کے ساتھ ساحلِ سمندر ایک بہترین تفریح گاہ ہوتی ہے، جہاں جا کر دن بَھر کی تھکاوٹ دُور کی جاسکتی ہے، مگر دنیا میں کچھ ایسے بھی ممالک ہیں، جہاں ساحلِ سمندر موجود ہی نہیں اور اگر ہیں بھی، تو بہت کم اور دُور افتادہ مقامات پر ہیں، جہاں تک رسائی کے لیے خاصا وقت درکار ہوتا ہے۔گو کہ عرب ممالک میں ساحلِ سمندر ہیں، مگر وہاں کے شہری تفریح کے لیے زیادہ تر صحراؤں ہی کا رُخ کرتے ہیں۔
سعودی عرب، جو تیل اور دیگر قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال ہے، وہاں صحرائوں کا بھی ایک طویل سلسلہ موجود ہے اور مقامی افراد، جو شہری علاقوں سے دُور اور ان صحرائوں سے نسبتاً قریب آباد ہیں، تفریح کی غرض سے ان ہی کا رُخ کرتے ہیں۔
وہ اپنے پالتو اونٹوں کی پُشت پر بیٹھ کر طویل سفر پر روانہ ہوتے ہیں یا پھر صحرا میں بہت اندر تک جانے کی بجائے قریب ہی خیمے لگا کر ایک خُوب صورت ماحول بنا لیتے ہیں۔اِن صحرائی میدانوں میں ہفتہ وار چھٹی کے موقعے پر کافی گہما گہمی اور رونق نظر آتی ہے۔لوگ اپنی فیملیز کے ساتھ رات بَھر اور بسا اوقات کئی کئی دنوں تک ڈیرے ڈالے رہتے ہیں۔ یہاں راتیں جاگتی ہیں۔
ان خیموں میں بیش قیمت قالین بچھے ہوتے ہیں، جن پر چاروں جانب گائو تکیے سجائے جاتے ہیں۔لوگ رات بھر مختلف کھیل کھیلتے ہیں، گپ شپ چلتی رہتی ہے، قہقہے بلند ہوتے ہیں اور عربی قہوے کے ساتھ کھجوروں کا بھی دَور جاری رہتا ہے۔ ایک جانب اونٹ اور دنبے کا گوشت عارضی چولھوں پر بُھن رہا ہوتا ہے، تو دوسری جانب وہ ہاتھوں میں تلواریں تھامے روایتی رقص سے محظوظ ہو رہے ہوتے ہیں۔
خواتین بھی اپنی ثقافت اور رواج کے مطابق مختلف سرگرمیوں میں بھرپور حصّہ لیتی ہیں۔مقامی انتظامیہ کی جانب سے ان میدانی علاقوں میں جگہ جگہ چھوٹے، بڑے سائز کے خیمے لگا دیئے جاتے ہیں، جو دُور دراز علاقوں سے آنے والوں کو مناسب کرائے پر فراہم کیے جاتے ہیں۔نیز، عوام کے لیے باتھ رومز، وضو خانے اور نماز کی جگہ کا بھی انتظام کیا جاتا ہے۔واضح رہے، نماز کی باجماعت ادائی یہاں کے باشندوں کا خاصّہ ہے۔دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد بھی، جو سعودی عرب میں روزگار کے لیے مقیم ہیں، اِن تفریح گاہوں سے بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہیں، وہ اِن مقامات پر چائے، قہوہ اور دیگر مشروبات فروخت کرتے نظر آتے ہیں۔
ایسے مواقع پر بچّے کہاں پیچھے رہتے ہیں۔ وہ چھوٹے سائز کی چار پہیّوں والی بائیک لے کر، جسے عربی زبان میں ’’دباب‘‘ کہا جاتا ہے اور جو صحرائوں میں تیزی سے دوڑتی ہے، صحرا میں نکل جاتے ہیں اور خُوب ہلّا گلّا کرتے ہیں۔اِن بائیکس پر بڑی عُمر کے افراد بھی سواری کرتے ہیں۔ اِسی طرح شہری علاقوں میں بھی جہاں ساحلِ سمندر نہیں، وہاں بھی لوگ چُھٹی کی رات گاڑیوں میں بیٹھ کر قریب کے میدانی علاقوں میں جاکر، جو آبادی سے نسبتاً دُور ہوتے ہیں، صحرا کی مانند خیمے لگا لیتے ہیں۔ اور پھر پوری رات اور دن کا ایک بڑا حصّہ شہر کی ہنگامہ خیز زندگی سے دُور رہ کر اپنی فیملی کے ساتھ گزارتے ہیں۔ بلاشبہ، یہ تفریح گاہیں عرب ثقافت کی بھرپور عکّاسی کرتی ہیں۔