• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

دورہ آسٹریلیا، قومی کرکٹرز کو ایک اور مشکل چیلنج کا سامنا

سال ختم ہونے سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بدل گئے، کوچنگ اسٹاف میں زیادہ تر نئے چہرے آگئے۔ غیر ملکیوں کو نکالتے نکالتے مزید دو غیر ملکیوں کو رکھ لیا گیااس بار بھی کوچز غیر معروف ہیں۔ ورلڈ کپ اور ایشیا کپ میں ناکامیاں سمیٹنے کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم سب سے مشکل دورے پر نئے کپتان شان مسعود کی کپتانی میں آسٹریلیا پہنچ چکی ہے۔ پاکستانی ٹیم نے1995سے آسٹریلیا میں ٹیسٹ میچ نہیں جیتا ہے اور اسے 14ٹیسٹ میچوں میں شکست ہوئی ہے۔ بابر اعظم اب قیادت سے ہٹ گئے اور عام کھلاڑی کی حیثیت سے کھیلیں گے۔

شان مسعود کے کندھوں پر بھاری ذمے داری عائد کی گئی۔پی سی بی نے ورلڈ کپ کی ناکامیوں کا ملبہ مکی آرتھر اور ان کے ساتھ کام کرنے والے غیر ملکی اور ملکی کوچز پر ڈال دیا ہے۔ وہاب ریاض ،انضمام الحق کی جگہ چیف سلیکٹر بنے ہیں جبکہ ہیڈ کوچ کا عہدہ ختم کرکے محمد حفیظ کو ڈائریکٹر کرکٹ بنایا گیا ہے۔نئے کپتان شان مسعود نے کہا ہے کہ آسٹریلیا کے خلاف سیریز ہمارے لیے چیلنج ہے، بابر اعظم ہمارے بہترین بیٹر ہیں، ان کی پوزیشن کو کوئی نہیں چھیڑے گا، ان کا نمبر 4 ہے اور ٹیم ہمیشہ اپنے بہترین بیٹرز کے ساتھ بنتی ہے۔

آسٹریلیا کے خلاف سیریز ہمارے لیے چیلنج ہے، ایسا نہیں ہے کہ نئی ٹیم بنی ہے، ہم ایک نئی شروعات کر رہے ہیں، کوشش یہی ہوتی ہے کہ جو چیز طے شدہ ہے اس کو ایسے ہی لے کر چلیں، چاہے وہ ڈومیسٹک کرکٹ ہو یا بین الاقوامی کرکٹ ۔میں نے نمبر تین پر کرکٹ کھیلی اور میری کوشش ہوتی ہے کہ جو بھی ڈومیسٹک کرکٹ کھیلوں، تیسرے نمبر پر ہی کھیلوں تاکہ مجھے اس پوزیشن کی عادت ہوجائے۔ شان مسعود نے بتایا کہ صائم ایوب نے پوری ڈومیسٹک کرکٹ کو کھیلنے کے آئیڈیل طریقے کے حوالے سے ایک میسیج دیا تو ہم چاہیں گے کہ جو بھی ڈومیسٹک کرکٹ میں بیٹنگ کر رہے ہیں، ان کی بلے بازی کا طرز عمل اس طرح کا ہونا چاہئے۔

صائم ایوب کو ایک طریقے سے اس محنت کا پھل ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹرز کو پیغام ہے کہ جب ٹیم کو ضرورت ہوگی، جگہ بنے گی، آپ ٹاپ کریں گے تو اس کا پھل آپ کو ضرور ملے گا، یہی انعام میر حمزہ کو بھی ملا ہے۔ انعام شان مسعود کو بھی ملا ہے۔ٹیسٹ ٹیم کی قیادت ملنے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان کے ٹیسٹ کپتان شان مسعود کے سینٹرل کنٹریکٹ میں انہیں ڈی سےبی کیٹگری میں کردیا ہے۔

یہ فیصلہ آسٹریلیا روانگی سے چند گھنٹے بعد کیا گیا جس وقت یہ اعلان کیا گیا شان دبئی سے سڈنی کی فلائٹ میں تھے۔ اس سے قبل پی سی بی نے سابق کپتان سرفراز احمد کے ساتھ ہونے والی انصافی کے بعد ان کی کٹیگری بھی اسی طرح تبدیل کی تھی جبکہ نعمان علی ،ابرار احمد اور زہد محمود کو بھی سینٹرل کنٹریکٹ دیا گیا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ فیصلہ اپنی اس پالیسی کے تحت کیا ہے کہ اگر سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل کوئی بھی کھلاڑی جو اے یا بی کیٹگری سے نیچے ہے اور وہ کپتان بنتا ہے تو اس کا کنٹریکٹ اس وقت تک بی کیٹگری میں کردیا جائے گا جب تک وہ کپتانی کررہا ہے۔34 سالہ شان مسعود کو پندرہ نومبر کو پاکستان ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیاگیا تھا اور وہ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ25-2023 تک کپتان بنائے گئے ہیں۔

بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے شان مسعود 30 ٹیسٹ میچوں میں 1597 رنز بناچکے ہیں اور بحیثیت کپتان ان کا پہلا اسائنمنٹ آسٹریلیا کے خلاف ہونے والی تین میچوں کی ٹیسٹ سیریز ہے ۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے حال ہی میں مکی آرتھر سمیت تین غیر ملکی کوچز کو فارغ کیا ہے لیکن آسٹریلیا میں دو غیر ملکی کوچز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان میں ایک انگلینڈ کے سابق کرکٹر ایڈم ہولیک ہیں جو ان دنوں برسبین میں رہتے ہیں۔ایڈم ہولیک کو آسٹریلیا کی ٹیسٹ سیریز میں بیٹنگ کوچ مقرر کیا جارہا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے دورۂ آسٹریلیا کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم کی ٹیم منیجمنٹ اور کوچنگ اسٹاف کا اعلان کیا ہے۔اسٹنٹ کوچ عبدالرحمن اور فیلڈنگ کوچ آفتاب خان کو بھی فارغ کردیا گیا ہے۔ایڈم ہولیک نے انگلینڈ کی جانب سےدو ٹیسٹ35ون ڈے انٹر نیشنل ایسسکس اورسرے کاونٹی کی جانب سے173فرسٹ کلاس میچ کھیلے ہیں۔ 52 سالہ ہولیک میلبرن میں پیدا ہوئے اس وقت وہ برسبین میں ڈومیسٹک کوچنگ کرتے ہیں۔اس سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ رمیز راجا کے دور میں ایک اور آسٹریلوی میتھیو ہیڈ ن کو بھی بیٹنگ کسلٹنٹ مقرر کرچکا ہے۔ 

پاکستان ٹیم کےڈائریکٹر محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ اب ہمارے پلان میں ہیڈ کوچ کی جگہ نہیں۔ ان کوچز کی تقرری کی گئی ہے جو حالیہ سالوں میں پاکستان کی جانب سے کارکردگی دکھا چکے ہیں۔ ہم مارڈرن ڈے کوچنگ سے دور ہیں۔ اپنے کوچز کی موجودگی میں غیر ملکی کوچز کی جانب جانے کی کیا ضرورت ہے لیکن محمد حفیظ نے آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں آسٹریلوی کوچ کو لانے کا عندیہ دے دیا ان کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا سے ہم نے کوچز کو ساتھ شامل کیا ہے جلد ان کوچز کے نام سامنے آجائیں گے۔وہاں کے کوچز کا مقصد ان کے وہاں کی کنڈیشنز کا تجربہ ہے ڈائریکٹر کی حیثیت سے میں تمام ناکامیوں کی ذمے داری لینے والوں میں سب سے آگے ہوں گا۔

شکست کے بعد سب سے پہلے محمد حفیظ کو آگے پائیں گے ٹیم کی کامیابیوں کا سارا کریڈٹ کھلاڑیوں کا ہے بطور کوچنگ اور مینجمنٹ اسٹاف اور حتیٰ کہ سلیکٹر کا انتخاب بھی ذکا اشرف نے اچھی سوچ کے ساتھ کیا ہے کیونکہ اس مینجمنٹ میں وہ نوجوان باصلاحیت کرکٹرز ہیں جنہوں نے ماضی قریب میں پاکستان کے لیے بہت شاندار پرفارمنس دی ہیں، ان کو ایک نئی سوچ کے ساتھ نیا کردار دیا جا رہا ہے تاکہ جدید دور کی کرکٹ کے حساب سے سارا عمل انجام دیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ بات ماننی پڑے گی کہ ہم جدید دور کی کرکٹ سے پیچھے رہ گئے ہیں اور ہمارے نتائج صحیح نہیں آئے کیونکہ ہم منصوبہ بندی کے حساب سے پیچھے رہ گئے اور اب اس بات کو تسلیم کیا جا رہا ہے کیونکہ جب تک آپ اپنی ناکامیوں کو تسلیم کر کے درست حکمت عملی نہ بنائیں، آپ کامیاب نہیں ہو سکتے۔ ہمارے سپورٹ اسٹاف بالکل صحیح مائنڈ سیٹ کے ساتھ اپنی تیاری کی ہے اور سلیکشن بہت اچھی ہوئی ہے، ڈومیسٹک میں پرفارمنس دکھانے والے کو عزت دی گئی ، ڈومیسٹک میں اچھی کارکردگی دکھانے والوں کے لے کر آئے، ہم سب کو لے کر نہیں آ سکتے، ہر ایک کا ایک وقت ہے۔

محمد حفیظ اور وہاب ریاض غیر ملکی لیگز کے بارے میں سخت پالیسی بنانے جا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اب سب سے پہلے پاکستان کی پالیسی بنائی جارہی ہے۔ سینٹرل کنٹریکٹ اور ڈومیسٹک سینٹرل کنٹریکٹ والوں کے لئے پاکستان کے لئے کھیلنا اور ریڈ بال کھیلنا اولین ترجیح قرار دی جارہی ہے۔

پاکستان کے نمائندگی کے لئے فرسٹ کلاس کرکٹ کو لازمی قرار دے کر پالیسی کا حصہ بنایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ طویل دورانیے کی فرسٹ کلاس کرکٹ سے ٹیلنٹ پا لش ہوتا ہے۔اس وقت یہ تاثر سامنے آرہا ہے کہ کھلاڑی فرسٹ کلاس کرکٹ سے دوری اختیار کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حارث روف کے بارے میں فزیو کی رپورٹ ہمارے پاس موجود ہے اس رپورٹ کے مطابق کوئی ایسا ایشو نہیں تھا کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیل سکتا تھا حارث نے ایک دن پہلے چیف سلیکٹر وہاب ریاض سے بات کرکے اگلے دن منع کردیا۔ محمد حفیظ نے کہا کہ ہم کسی کھلاڑی کوزبردستی نہیں کھلاسکتے۔ سینٹرل کنٹریکٹ والے کھلاڑیوں کو ہر کٹیگری میں کھیلنا ہوگا۔

سینٹرل کنٹریکٹ کی کٹیگری فیوچر ٹور پروگرام پر بنتی ہے۔ سنٹرل کنٹریکٹ اس لیے دیا جاتا ہے کہ وہ ہر فارمیٹ کے لیے دستیاب ہوں گے۔اگر حارث رؤف ریڈبال نہیں کھیلنا چاہتے تو یہ سب ان کے کنٹریکٹ مطابق دیکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ سینٹرل کنٹریکٹ دینے کی خاص وجہ سے ملتا ہے اس کے مطابق آپ کو ٹیم کے لیے دستیاب ہونا ہوتا ہے لیگز کے حوالے سے ورک لوڈاور تھکاوٹ کی چیزیں سامنے آئیں این او سی پالیسی میں ہم نے بہت چیزیں دیکھنا ہے۔ ریڈ بال کرکٹ کی طرف راغب کرنے کے لیے اقدامات کریں گے ہو سکتا ہے کہ ان سے کسی کو اعتراض ہو لیکن ہمیں ریڈبال کرکٹ کو اہمیت دینا ہے۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید