بصارت کی نعمت سے محروم افراد کے رسم الخط ’بریل ‘کا عالمی دن آج منایا جارہا ہے۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بصارت سے محروم افراد کے رسم الخط ’بریل‘ کے عالمی دن پر لوئس بریل کو خراج تحسین پیش کردیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ شیئر کرتے ہوئے انہوں نے پیغام جاری کیا۔
گورنر سندھ نے اپنے پیغام میں لکھا کہ بین الاقوامی بریل (Braille) ڈے کے موقع پر بصارت سے محروم افراد کی زندگیوں کو روشن کرنے والے لوئس بریل کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے مزید لکھا کہ پاکستان میں بھی بریل نظام کے ذریعے نابینا افراد مستفید ہورہے ہیں، بصارت سے محروم افراد صلاحیتوں میں کسی سے کم نہیں ہیں۔
’بریل ‘کیا ہے اور اس کا عالمی دن کب منایا جاتا ہے؟
بریل رسم الخط ابھرے ہوئے حروف کو پڑھنے کا ایک خاص طریقہ ہے جو بصارت سے محروم افراد کے لیے فرانس کے نابینا استاد لوئس بریل نے 1824 میں ایجاد کیا تھا۔
بنیادی طور پر بریل چھ نقطوں پر مبنی نظام ہے جس میں ان نقطوں پر انگلیاں پھیری جاتی ہیں اور لکھی ہوئی تحریر کا مفہوم سمجھ لیا جاتا ہے۔
آج اس نظام کتابت کو تمام بڑی زبانوں نے اپنا لیا ہے۔ تاہم لوئس نے اپنی زندگی میں حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ اس رسم الخط کو نابینا افراد کی زبان کے طور پر منظوری دی جائے لیکن اس وقت اسے منظوری نہ دی گئی۔
یہ لوئس کی بدقسمتی رہی کہ اس کی کوششوں کو کامیابی نہیں مل سکی اور معاصر ماہرین تعلیم نے اسے زبان کے طور پر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
لوئس کی موت کے بعد 2 برس ماہرین تعلیم نے اسے اس وقت سنجیدگی سے دیکھنا شروع کیا جب اس کی مقبولیت نابینا افراد کے درمیان میں مسلسل بڑھتی رہی، یہ دیکھ کر اسے منظوری دینے پر غور و فکر ہونے لگا۔ 1854 میں اسے صرف پیرس تک مقبولیت حاصل ہوئی پھر آہستہ آہستہ 1965 تک اسے دنیا کے دیگر ممالک میں کافی غور و فکر اور تبدیلی و بہتری کے بعد تسلیم کیا گیا۔
واضح رہے کہ بصارت سے محروم افراد کے رسم الخاط 'بریل' کا عالمی دن، اس کے موجد لوئس بریل کے یوم پیدائش کے موقع پرمنایا جاتا ہے۔