• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پارکنسن کی نئی دوا پروڈوڈوپا بیماری میں مبتلا تقریباً 1000 افراد کو NHS پر دستیاب ہوگی

لندن (پی اے) پارکنسن کی نئی دوا پروڈوڈوپا این ایچ ایس پر دستیاب ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق پارکنسن کی بیماری میں مبتلا تقریباً 1000 افراد ایک نئے علاج سے مستفید ہوں گے، جس میں 24 گھنٹے پورٹیبل کٹ پہننا ہوتی ہے۔ این ایچ ایس انگلینڈ نے علاج شروع کرنا ہے، چوبیس گھنٹے خون کے دھارے میں دوا کو مستقل طور پر چھوڑنے کے لئے پروڈوڈوپا ایک پمپ کا استعمال کرتا ہے۔ بہت سے لوگوں کو فی الحال اپنی علامات پر قابو پانے کے لئے ایک دن میں 20سے زیادہ گولیاں لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک غیر متضاد اثر کے ساتھ اس کا علاج مستقل فیڈنگ ٹیوب کے ذریعے کرنا پڑتا ہے۔ پروڈوڈوپا دو دوائیوں کا مجموعہ ہے، جس میں فوسلیوڈوپا اور فوسکاربیڈوپا شامل ہیں۔ یہ فوسلیوڈوپا کو کیمیائی ڈوپامائن میں تبدیل کر کے کام کرتا ہے، جو دماغ کے ان حصوں اور اعصاب کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں مدد کرتا ہے، جو تحریک کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اس سے پارکنسن کی علامات، جیسے بہت زیادہ حرکت یا جھٹکے کو منظم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ انفیوژن جلد کے نیچے کینول کے ذریعے مریض کے خون کے دھارے میں داخل ہوتا ہے اور اسے ایک چھوٹے، خودکار پمپ کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے، جو علامات کے رہنے پر 24 گھنٹے علاج کا ایک مستقل بہاؤ جاری کرتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر اس میں مینوئل بوسٹ کا آپشن بھی ہے۔ بہت سے مریض، جو اس وقت اپنی علامات کو کنٹرول کرنے کے لئے بڑی تعداد میں گولیاں لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ دن میں اور رات کے وقت خراب ہو جاتی ہیں۔ این ایچ ایس انگلینڈ کے میڈیکل ڈائریکٹر برائے خصوصی خدمات ایمز پالمر نے کہا ہے کہ دوا کا اجراء بہت اچھی خبر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اہم تھراپی اب این ایچ ایس میں ان لوگوں کے لئے ایک اہم نیا آپشن پیش کرے گی، جو دیگر علاج جیسے کہ گہری دماغی تحریک کے لئے موزوں نہیں ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ تقریباً 1000 مریضوں کو اپنی علامات کو زیادہ مؤثر طریقے سے منظم کرنے اور زندگی کے بہتر معیار کے ساتھ اپنا دن گزارنے میں مدد کرے گی۔ اس دوا کو حال ہی میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسی لینس نے کامیاب کلینیکل ٹرائلز کے بعد این ایچ ایس میں استعمال کے لئے منظور کیا ہے۔ 70 سالہ جان وہپس نے تحقیق میں حصہ لیا اور اب کہا ہےکہ نئے علاج کے ذریعے ان کی زندگی اب بہت زیادہ منصوبہ بندی کے قابل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی پارکنسن کی علامات کو کنٹرول کرنے کے لئے پہلے میں ایک دن میں تقریباً 20 گولیاں کھاتا تھا۔ میں اکثر آدھی رات کو اندرونی جھٹکے کے ساتھ جاگتا اور مزید گولیاں کھاتا لیکن یہ پمپ رات بھر چلتا رہتا ہے۔ ریسرچ میں شریک ایک اور شخص کارن وال سے تعلق رکھنے والے 52 سالہ فل نے کہا کہ اسے پہلے روزانہ 25 گولیاں کھانی پڑتی تھیں اور دن بھر اس کی علامات میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا تھا اور رات کو بدتر ہو جاتا تھا۔ رات کے وقت میں عام طور پر بستر پر کروٹ لینے یا بیت الخلا کے لئے اٹھنے کے قابل نہیں تھا اور مجھے گرنے کا خطرہ تھا۔ پمپ پہننے کے دوران مجھے سوتے وقت دوا مل جاتی ہے، جس سے میں رات کو کروٹ لینے اور بیت الخلا کے لئے اٹھنے کے قابل ہوگیا ہوں۔ امید ہے کہ نئے علاج سے ان مریضوں کو بھی کچھ فائدہ پہنچے گا جن کو فی الحال مستقل طور پر لگائی ہوئی فیڈنگ ٹیوب کے ذریعے دوا ملتی ہے۔ این ایچ ایس کے مطابق پارکنسن کی بیماری ایک ایسی حالت ہے، جس میں دماغ کے کچھ حصوں کو کئی برسوں میں بتدریج نقصان پہنچتا ہے۔ انگلینڈ میں تقریباً 128000 افراد اس مرض سے متاثر ہیں۔ پارکنسنز یو کے نے اسے دنیا میں سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی اعصابی حالت کے طور پر بیان کیا ہے۔ چیرٹی سے تعلق رکھنے والی لورا کوکرم نے کہا کہ پروڈوڈوپا کچھ لوگوں کی زندگی بدلنے والا آپشن ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا اگرچہ یہ سب کے لئے موزوں نہیں ہوگا اور پارکنسن کے شکار لوگوں کو اپنے کنسلٹنٹ یا پارکنسن نرس سے بات کرنی چاہئے کہ آیا یہ ان کے لئے ایک آپشن ہے۔

یورپ سے سے مزید