• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رئیل اسٹیٹ سیکٹر، ٹیکس بڑھانے کی تیاری، فائلر، نان فائلر، خریدار اور فروخت کنندہ پر ٹیکس ریٹ میں اضافے کی تجاویز

اسلام آباد( مہتاب حیدر) حکومت رئیل اسٹیٹ سیکٹر کوٹیکس نیٹ میں لانے اور جائیداد بیچنے اور خریدنے والے فائلرز اور نان فائلرز دونوں کےلیے ٹیکس کی شرحوں میں اضافے کی مختلف تجاویزپر غور کر رہی ہے اور اسی طرح کسی بھی عرصے سے قطع نظر گین ٹیکس لینے پر غور کیاجارہا ہے۔ ذاتی غیر منقولہ جائیداد کی تعریف تبدیل کرنے پر بھی غور، مختلف شہروں میں رئیل اسٹیٹ کی قدر کے گوشواروں میں بھی اضافہ کیاجاسکتا ہے۔ 5کروڑ تک کی مالیت کی جائیدادوں پر تین فیصد، 7 کروڑ تک 4 فیصد اور 10 کروڑ کی جائیدادوں پر 7 فیصد ٹیکس جائیداد بیچنے والوں سے لیاجائےگا۔ کیپٹل گین کو انکم میں شامل کرنا زیر غورکرنا ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے پروگریسو ٹیکسیشن کے تقاضوں کے تحت ایف بی آر جائیدادوں کے لین دین پر 5کروڑ تک کی مالیت کی جائیدادوں پر تین فیصد، 7 کروڑ تک کی مالیت کی جائیدادوں پر 4 فیصد اور 10 کروڑ کی جائیدادوں پر 7 فیصد ٹیکس بیچنے والوں سے لیاجائےگا ۔یہ بھی زیر غور ہے کہ کیپیٹل گینز کو آمدنی میں شامل کیا جائے (افراد کے معاملے میں، اس طرح کے گینز کو "جائیداد سے آمدنی" کے تحت اور کارپوریشنز کے معاملے میں، اس طرح کے گینز کو "کاروبار سے آمدنی" کے تحت شامل کیا جائے۔ یہ تجویز کیا گیا ہے کہ انکم ٹیکس کے سیکنڈ شیڈول کے پارٹ I کے کلاز (126D) میں اسپیشل ایکسپورٹ زون میں صنعتی ادارے کے لئے کیپیٹل گینز کی چھوٹ کو ختم کیا جائے۔ریئل اسٹیٹ فیڈریشن کے صدر نے اس پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ دہرے ٹیکسوں کے نفاذ سے گریز کیاجائے، پہلے ہی 25 ارب ڈالرتک سرمایہ کاری کےلیے دوسرے ملکوں میں جاچکے ہیں۔جائیدادوں پر محصولات میں اضافے سے متعلقہ ایک اور تجویز بھی ہے جو کہ اگرچہ براہ راست بجٹ بنانے کی مشق سے براہ راست متعلق تو نہیں ہے لیکن ایف بی آر مختلف شہروں میں املاک کے قیمتوں کے گوشواروں کو بڑھا سکتا ہے تاکہ مارکیٹ ریٹ اور ایف بی آر کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں فرق کو کم کیاجاسکے۔ ایف بی ار بڑے شہروں میں قیمتوں کے گوشواروں پراضافے کےلیے نظر ثانی تو کرتا رہا ہے لیکن ابھی تک اس کااعلان نہیں کیا۔ چنانچہ آئندہ مالی سال کے آغاز پر ان نظر ثانی شدہ نرخوں کااعلان ہوسکتا ہے۔ قدری گوشواروں میں اوپر کی جانب اضافے سے ایف بی آر کو شہروں کے مختلف علاقوں میں موجود پلاٹوں کی قدری شرحوں کی بنیاد پر مزید ٹیکس جمع کرنے کا موقع ملا۔236سی کے تحت غیر منقولہ املاک پر کی فروخت او تبادلے پر ایک پیشگی ( ایڈوانس) ٹیکس عائد ہے۔ اب ایف بی آرانکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 37(1) کے تحت’’ ذاتی منقولہ املاک ‘‘کے معانی میں ترمیم پر غور کر رہا ہےتاکہ اس زمرے میں کسی بھی ایسی املاک کو لایاجاسکے جو کہ سرمایہ کاری کے نقطہ نظر سے رکھی گئی ہو، لیکن اس میں کاروباری حصص اور وہ اثاثےشامل نہیں ہوں گے جو کہ بوسیدگی کا شکار ہوتے ہیں یا انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت جس سے آمدن ہوتی ہے۔ ایف بی آر ریئل اسٹیٹ اور لسٹڈ سیکورٹیز پر کیپٹل گینز کےلیے ٹیکس سلیبز پر نظرثانی کریگا اور یہ یقینی بنائے گاکہ اس قسم کے فوائد پرمحصولات متناسب شرح سے لیے جارہے ہیں اور یہ شق ختم کی جائے گی کہ کیپٹیل گینز پر اس وقت تک ٹیکس نہیں ہوتا جب تک کہ زیرتذکرہ اثاثوں کے حصول کو ایک خاص مدت نہ گزر گئی ہو۔ کیپٹل گینز پر محصولات کو مضبوط بنایاجاسکتا ہے اس کا ایک طریقہ تو اثاثوں کی اقسام کو توسیع دیتا ہے جسا کہ کرپٹو کرنسی وغیرہ جو کہ کیپٹل گینز ٹیکسیشن کے دائرہ کار میں آتی ہے۔ ایک اور چیز ریئل اسٹیٹ اور لسٹڈسکیورٹیز پر کیپٹل گین حاصل کرنا یقینی بنانا ہے قطع نظر اس کے کہ کسی چیز کی مدت ملکیت کیا ہے۔ رئیل اسٹیٹ فیڈ ریشن آف پاکستان کے سردار طاہر محمود سے جب دی نیوز نے رابطہ کیا تو ان کاکہنا تھا کہ پاکستان کے مشکل سے کمائے ہوئے 20 سے 25 ارب ڈالر سرمایہ کاری کیلیے دبئی اور دیگر مقامات پر جاچکے ہیں چناچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ وقت کے اس موڑ پر دہرے محصولات کے نفاذ سے گریز کیاجائے۔ انہوں نے سفارش کی کہ ایف بی آڑ کو چاہیے کہ وہ مختلف شرہوں کےلیے رئیل اسٹیٹ کے متفقہ قدری گوشواروں کا اعلامیہ جاری کرے۔

اہم خبریں سے مزید