اسلام آ باد ( رانا غلام قادر/نیوز رپورٹر)قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پر بحث کے دوران پیپلز پارٹی رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل نے اپنے روایتی امداز میں طنز و مزاح سے بھر پور خطاب کیا،انہوں نے پی ٹی آئی کے جنید اکبر کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہتے ہیں آپ اداروں کی تعریف کرتے ہیں، ان سے کہتاہوں کہ ہم اداروں کی تعریف کرتے ہیں،ہم آپ کی طرح یہ تو نہیں کہہ رہے کہ آرمی چیف ہمارا باپ ہے،انہوں نے کہا کہ عالمی حالات کے مطابق کردار پر تعریف تو بنتی ہے،آج سیاسی اور عسکری قیادت نے وہ کام کر دکھا یا ہے جو صدیوں یاد رکھا جائے گا ، پاکستان نے دنیا کو تیسری جنگ عظیم سے بچایا ، آپ کو شخصیات سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن اس فلم میں جو ہیرو بن گیا ، وہ ہیرو ہے، آپ مانیں یا نہ مانیں چیف آف ڈیفنس فو رسز فیلڈ مارشل عاصم منیر ا س فلم کے ہیرو ہیں ۔ اس سے پہلے ہم نے اپنے روایتی دشمن کو بھی دھول چٹا ئی،پاکستان نئی پہچا ن لے کر ابھر رہا ہے، نعرہ انہوں نے لگایا تھا نیا پاکستان کا لیکن اصل میں یہ ہے نیا پاکستان ۔یہ ہے اصل میں نیا پاکستان جو انڈیا کو بھی شکست دے سکتا ہے اور دنیا کو جنگ سے بھی بچا سکتا ہے۔عسکری اور سیا سی قیادت نے مل کر اس کامیابی سے ہمکنار کیا،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ارکان کہتے ہیں کہ ہمارا لیڈر اندر ہے ۔ جب آپ کا لیڈر باہر تھا تو کہتا تھا اس کو بھی بند کر دو۔ اسے بھی بند کردو۔ اس وقت یہاں والے اندر تھے ۔آج وہ باہر ہیں اور آپ کا لیڈر اندر ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی پر الزام لگایا جارہا تھا کہ ہم سودے بازی کریں گے ملک کے مفاد میں ہم سارے سودے کریں گےکسی پارٹی کے مفاد میں کوئی سودا نہیں کریں گے، دیکھ لیں،اب این ایف سی اور آئین کو چھیڑے بغیر بجٹ پاس ہونے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہاگر غریب کو کھانا مل رہا ہے تو آپ کے اعداد و شمار ٹھیک ہے آج غریب تکلیف میں ہے تو سارے اعداد و شمار غلط ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ غریب پریشان ہے،ہم سارا ٹیکس اس غریب سے لیتے ہیں جسکو نہ ریٹرن فائل کرنا آتا ہے نہ ری کلیم کرنا آتا ہے۔اس غریب سے سارا ٹیکس لیتے ہیں جسکو اس نظام کا کچھ پتہ نہیں۔