گزشتہ دنوں ایک ای میل موصول ہوئی۔ بھیجنے والے کو نہیں جانتا مگر وہ جو بھی کوئی ہے اُس پر اللہ کی لعنت ہو کیوں کہ اُس نے ایک ایسی مقدس ہستی کی شان میں گستاخی کی جسے کوئی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا۔ میں نے ایف آئی اے سے رابطہ کیا تو مجھے بتایا گیا کہ یہ جرم تو ایف آئی اے اور سائبر کرائم کے دائرہ میں آتا ہی نہیں۔ مجھے مشورہ دیا گیا کہ پولیس سے رابطہ کروں۔ اسلام آباد پولیس کے ایس ایس پی کو باقاعدہ تمام ثبوتوں کے ساتھ درخواست لکھ بھیجی مگر ابھی تک کوئی جواب ملا نہ ہی کسی نے رابطہ کیا۔ اپنی شکایت کی کاپی میں نے آئی جی اسلام آباد کو بھی بھیجی جنہوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے میری درخواست ایف آئی اے کو بھجوا دی تا کہ یہ پتا لگایا جا سکے کہ ای میل بھیجنے والا کون ہے اور کہاں کا رہنے والا ہے۔ ایف آئی اے سے بھی ابھی تک مجھ سے کسی نے رابطہ نہیں کیا۔ نہیں معلوم ایس ایس پی اسلام آباد کو میری درخواست دیکھنے کا ٹائم بھی ملا کہ نہیں۔اگر وزیر اعظم، آرمی چیف یا کسی دوسرے ’’با اثر شخصیت‘‘ کے خلاف موبائل پیغام یا ای میل کے ذریعے کوئی ایسی شکایت ملتی تو پولیس اور ایف آئی اے اب تک ملزم کو گرفتار بھی کر چکے ہوتے چاہے قانون کچھ بھی کہتا۔ بحرحال میں اب بھی امید کرتا ہوں کہ اسلام آباد پولیس کے ذمہ داران اس معاملہ کو سنجیدگی سے لیں گے اور ایف آئی اے بھی اس گستاخی کے مرتکب فرد کو ڈھونڈ نکالے گی تا کہ اُسے دوسروں کے لیے نشان عبرت بنایا جا سکے۔ میرے ساتھ ایک ایسا ہی معاملہ کوئی چار پانچ سال پہلے پیش آیا۔ کسی شخص نے میرے ایک کالم کے جواب میں انتہائی گستاخانہ ای میل بھیجی۔ مجھے نہیں معلوم وہ کون تھا اور کہاں کا رہنے والا تھا۔ میں نے اُس وقت ایف آئی اے کو معاملہ سے آگاہ کیا تو ایک آدھ دن میں ہی وہ ملزم تک پہنچ گئے اور اُسے تمام ثبوتوں کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا۔ وہ معاملہ اب عدالت کے سامنے ہے۔ان دو واقعات کا یہاں تذکرہ کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ انٹرنیٹ کو اسلام مخالف پروپیگنڈہ کے لئے تو بہت استعمال کیا جا رہا مگر ہمارے موجودہ سائبر کرائم کے متعلق سسٹم میں انبیاء کرام بشمول نبی کریمﷺ کی ناموس کے تحفظ کی کوئی شق نہیں۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ایف آئی اے میں ایک سائبر کرائم ونگ تو ہے مگر جو سائبر قانون ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ناٖفذ کیا گیا تھا وہ کب کا اپنی مدت پوری کر چکا۔ حال ہی میں موجودہ حکومت کی وزارت انفارمیشن ٹکنالوجی نے ایک ڈرافٹ قانون اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا جس کے بارے میں کہا گیا کہ اُسے جلد ہی کابینہ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اس ڈرافٹ قانون کے بارے میں ہمارے رپورٹر وسیم عباسی نے حال ہی میں ایک خبر شائع کی جس سے معلوم ہوا کہ کچھ دوسرے بنیادی نقائص کے علاوہ اس قانون میں ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے کوئی تدبیر نہیں کی گئی۔ ہو سکتا ہے کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بڑے مغرب کے خوف اور سوشل میڈیا میں لبرل فاشسٹوں اور این جی او مافیاکی ممکنہ تنقید سے ڈر کی وجہ سے اس سنگین جرم کو سائبر کرائم کے دائرہ کار سے نکال رہے ہوں مگر یاد رہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو مغرب کی طرح پاکستان میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کو مسلمانوں کی مقدس شخصیات کی گستاخی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ٹیوٹر اور سوشل میڈیا میں اسلام مخالفوںکے ڈر سے سہمے سہمے ہمارے سیاستدان اور وزراء کو سمجھنا چاہیے کہ ناموس رسالت کا مسئلہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی طرح پاکستانیوں کے لیے بھی انتہائی نازک معاملہ ہے۔ سائبر کرائم کے لیے بنائے جانے والے مسودہ قانون میں اس سنگین جرم کو شامل نہ کرنا بہت بڑی غلطی ہو گی۔ ویسے تو مغرب اور پاکستان میں موجودمغرب زدہ گروہ اور ڈالرز پر اپنا سب کچھ بیچنے والی این جی اوز قانون ناموس رسالت کے ہی خاتمہ کی کوششوں میں ہیں اور اس کے لیے یہ توجیہ بیان کرتے ہیں کہ اس قانون کی وجہ سے اقلیتوں پر حملے ہوتے ہیں جو سراسر لغو اور فضول بات ہے۔ حقیقت میں قانون ناموس رسالت تو اس جرم کے مرتکب ملزم کو قانون اور عدالت کے ذریعہ سزا دینے یا اُسے بریت کا موقع دیتا ہے۔اگر یہ قانون نہیں ہو گا تو پھر گستاخی کرنے والوںکے منہ بند کرنے کا کوئی قانونی رستہ نہ ہو گا جس سے معاشرہ میں اشتعال پھیلے گا اور لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور ہوں گے۔ اگر کوئی یہ سبق پڑھانے کی کوشش کرتا ہے کہ گستاخی کے ایسے معاملات پر صبر، خاموشی اور برداشت سے کام لیا جائے اور گستاخی کرنے والوں کی گستاخی کو ان کی آزادی رائے کا حق تسلیم کرتے ہوے ایسی بکواس کی اجازت دی جائے تو اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان میں کم از کم ایسا ممکن نہیں ہو سکتا۔یہاں یہ بھی وضاحت کرتا چلوں کہ حکومت کے سائبر کرائم کے مسودہ قانون میں سوشل میڈیا اور انٹر نیٹ کے ذریعے کسی کے متعلق بھی جھوٹ، بہتان تراشنا کوئی جرم نہیں۔ یعنی انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا جو مرضی میں آئے کرتا رہے۔ جس کے متعلق جو مرضی آئے الزام لگا دے مگر کوئی پوچھنے والا نہ تھا، نہ ہے اور نہ ہی ہو گا۔ کوئی حکومت سے پوچھے اگر یہی کچھ کرنا تھا تو پھر قانون بنانے کی ضرورت کیا ہے۔