کراچی(اسٹاف رپورٹر)اورنگی ٹاؤن میں داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر ثمرین پر فائرنگ کی گئی ، مسلح ملزمان گاڑی پر فائرنگ کرکے فرار ہوگئے ۔ تفصیلات کے مطابق اورنگی ٹاؤن نمبر 11 میں 14 اگست یوم آزادی کے حوالے سے گرلز کالج میں ایک تقریب منعقدکرانے کے سلسلے میں کی داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر ثمرین وجہ موجود تھیں ۔داؤد یونیورسٹی نے یوم آزادی کے حوالے سے اپنی تقریب کا انعقاد گرلز کالج میں کرنا تھا اور وائس چانسلر وہاں انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے پرو وائس چانسلر ، رجسٹرار ، کنٹرولر اور دیگر عملے کے ساتھ موجود تھیں کہ نہ معلوم مسلح ملزم نے فائرنگ کردی جس سے پیپلز پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عاصم حسین کی اہلیہ اور وائس چانسلر ڈاکٹر ثمرین حسین اور ان کا عملہ محفوظ رہا ،ڈاکٹر ثمرین کے مطابق جشن آزادی کی تقریب کے سلسلے میں میں وہ دو روز سے اورنگی ٹاؤن کے اسکول جارہی تھیں۔گولی گاڑی کے ریڈی ایٹر پر لگی،اس حوالے سے ایس ایس پی ویسٹ حفیظ بگٹی نے بتایا کہ اورنگی ٹاؤن میں داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی کی وائس چانسلر کی گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے ، ابتدائی تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ گاڑی گرلز کالج کے اندر موجود تھی جس پر ایک مسلح ملزم نے دو فائر کیے ہیں یہ واقعہ اسٹریٹ کرائم کا نہیں بلکہ معاملہ کچھ اور ہے جس کی تحقیقات کی جارہی ہے ، پولیس کو عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ مسلح ملزمان ایک سفید رنگ کی گاڑی میں سوار تھے ایک ملزم گرلز کالج کے اندر داخل ہوا ہے اور اُس نے ڈاکٹر ثمرین کی گاڑی پر فائرنگ کی ہے ۔ اس حوالے سے ڈاکٹر ثمرین حسین کا کہنا ہے کہ وہ داؤد یونیورسٹی کی 14اگست کی تقریب اورنگی گرلز کالج میں منعقد کرانے کے سلسلے میں وہاں موجود تھیں کہ مسلح ملزمان نے فائرنگ کی جس کے بعد عملے نے انہیں محفوظ مقام پر منتقل کیا ہے ۔ واقعے کا وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے نوٹس لے لیا اور ڈی آئی جی ویسٹ سے تفصیلات طلب کرلی ہیں ۔ وزیر داخلہ سندھ کا کہنا ہے کہ اہم شخصیات کی سکیورٹی کے حوالے سے مضبوط اور مربوط پلان ترتیب دیا جائے اور اس حوالے سے آگاہ بھی کیا جائے جبکہ ملزمان کی گرفتاری کو جلد از جلد یقینی بنایا جائے ۔جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر امجد سراج میمن نے داؤد یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر ثمرین حسین پر ہونے والے بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیم کے شعبے کے رہنماؤں کے خلاف ایسے تشدد کے واقعات، نہ صرف ایک فرد پر حملہ ہیں بلکہ تعلیم اور ترقی کے اصولوں پر بھی حملہ ہیں۔ انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ وہ فوری اور فیصلہ کن کارروائی کریں تاکہ انصاف کو یقینی بنایا جا سکے اور تعلیمی اداروں کی حرمت کی حفاظت ہو سکے۔ ادھر ناظم اسلامی جمعیت طلبہ کراچی حافظ آبش صدیقی نے داؤد انجینئرنگ کی وائس چانسلر ڈاکٹر ثمرین پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کسی بھی معاشرے کی بہترین صورت گری میں انتہائی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، یہ اساتذہ ہیں جو ملک و قوم کا مستقبل طلبہ و طالبات کو تراش کر معاشرے کا قابل اور مفید انسان بناتے ہیں، اساتذہ کے ساتھ ایسے واقعات پیش آنا نہایت ہی افسوس اور تشویشناک عمل ہے۔