اسلام آباد (محمد صالح ظافر/خصوصی تجزیہ نگار) جمعیت العلمائے اسلام (ف) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم کے مطالعے کیلئے ایک ماہ کا وقت چاہیے، چیف جسٹس فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ سے کوئی فرق نہیں پڑتا، جج ریٹائر ہوتے اور آتے جاتے رہتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے توار کی شب یہاں پارلیمنٹ ہاؤس میں جنگ / دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ دوسری جانب نواز شریف سہ پہر لاہور سے اسلام آباد آئے اور کسی اہم ملاقات کے بغیر رات کو واپس لاہور چلے گئے، جس پر لیگی ارکان افسردہ ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کسی بھی ایوان میں نہیں آئے، قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے کےبعد آج تک انکا رخ ایوان کی طرف نہیں ہوا۔ غفور حیدری نے جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انکی جماعت کو آئینی ترامیم کا کوئی مسودہ نہیں ملا یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی مسودہ اپنی جیب میں رکھ کر اس پر غور کی دعوت دے اور حمایت کا تقاضا بھی کرے۔ انہوں نے کہا کہ ان ترامیم کے بارے ذہن بنانے اور انکے بارے غور و فکر کیلئے انہیں کم از کم ایک مہینہ درکار ہوگا جسکے بعد ہی اسکے بارے کوئی رائے قائم کی جاسکے گی کیونکہ آئینی ترمیم ایسا معاملہ ہے کہ اس کی ہر ہر سطر ہی نہیں ہر لفظ پر غور و فکر کی ضرورت ہوتی ہے جب انکی توجہ اس امر کی جانب دلائی گئی کہ ایک مہینے کا مطلب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بطور چیف جسٹس ریٹائر ہوجائیں گے تو انہوں نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں ہوگا، جج ریٹائر ہوتے اور آتے جاتے رہتے ہیں اس دوران پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر میاں نوازشریف جو اتوار کی سہ پہر لاہور سے یہاں پہنچے تھے پنجاب ہاؤس میں تقریبات سات گھنٹے قیام کےبعد واپس عازم لاہور ہوگئے توقع تھی کہ آئینی ترامیم قومی اسمبلی میں پیش ہونے کی صورت میں وہ ایوان میں آئینگے اجلاس نصف شب سے قدرے پہلے ملتوی کردیا گیا تاہم نوازشریف لاہور کیلئے واپس جاچکے تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومتی اتحاد بالخصوص پاکستان مسلم لیگ نون کے ارکان کو اپنی جماعت کے صدر سابق وزیراعظم نواز شریف کی اچانک لاہور واپسی کی اطلاع ملی تو وہ افسردہ ہوئے، متعدد ارکان نے آج (پیر) ان سے ملاقات کرنے کا پروگرام بنایا تھا حکومت کی حلیف جماعتوں کے بعد اکابرین نوازشریف سے آج ملنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ مسلم لیگ نون کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف آئینی ترامیم کے ضمن میں تعطل پر بہت کبیدہ خاطر تھے ان کا خیال ہے کہ جمعیت علمائے اسلام اور مولانا فضل الرحمٰن سے معاملات طے کرنے میں انتظامیہ نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا انکے خیال میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ تائید کرنے کیلئے مطلوبہ تعداد پوری کرنے کے بعد اس مشن کا اعلان کیا جانا چاہئے تھا۔ مولانا فضل الرحمٰن اتوار کی رات پارلیمنٹ ہاؤس پہنچےتو وہ ہشاش بشاش تاہم قدرے متذبذب دکھائی دے رہے تھے ایک استفسار کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ وہ دو راتوں سے مناسب طورپر سو نہیں سکے اور بے آرامی کا شکار ہیں اس دورن قابل اعتماد حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ اگر حلیف جماعتیں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت میں تائید حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتیں تو وہ آئینی ترامیم کے ان نکات کو منظور کرالیں گی جن کے بارے اتفاق رائے ہوچکا ہے دوسری دفعات کو آئندہ کیلئے چھوڑ دیا جائے گا۔ اتوار کی شام مولانا فضل الرحمٰن سے نوازشریف کی ملاقات طے ہورہی تھی کہ مولانا اچانک پارلیمنٹ ہاؤس کیلئے روانہ ہوگئے جہاں انہوں نے توسیع شدہ قواعدوضوابط اور نظام کار کی پارلیمنٹ ہاؤس کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرنا تھی نوازشریف کو یہ اطلاع ملی تو انہوں نے تاسف کا اظہار کیا کہ اس سے مولانا کے ساتھ ان کی ملاقات ممکن نہیں ہوسکی۔ مسلم لیگ نون کے ذرائع نے قومی اسمبلی، سینیٹ اور پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ملتوی ہونے پر اس حد تک خفگی کا اظہار کیا ہے کہ ارکان کو ایوان میں کسی مقصد کے بغیر موجود رہنے پر قلق تھا کہ اس ماں انکا ایک دن ضائع ہوگیا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں دن بھر سیاسی بڑوں کی آمدورفت اور دیگر مصروفیات کو دیکھنے کے سوا انہیں کرنے کیلئے کوئی کام نہیں تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف اجلاس کا تیسرا ہفتہ مکمل ہونے کے باوجود ایک روز کیلئے بھی ایوان میں نہیں آئے۔ آئینی ترامیم کا مسودہ انہیں (آج) قومی اسمبلی میں لانے کا باعث بن سکتا ہے۔ ارکان ایوان میں ان کی عدم دلچسپی پر تحفظات رکھتے ہیں اور اس ضمن میں وہ اپنی شکایات کھول کر بیان کرنے لگے ہیں۔