• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

20 ستمبرم صلاح الدین ایوبی کا محاصرہ یروشلم

حرف بہ حرف۔۔۔۔ رخسانہ رخشی، لندن
ہر وہ عالمی دن جو معاشرتی، تہذیبی اور سماجی و ثقافتی لحاظ سے دنیا میں رائج اور رواج پا جائے اسے پھر باقاعدگی سے عالمی سطح پر منایا جاتا ہے۔ ایشیا، یورپ، امریکہ اور حتیٰ کہ عرب ممالک میں بھی خوشی خوشی منایا جاتا ہے۔ خوشی کے دن، کسی جنگی یادگار کے دن، رشتوں کے دن، تہوار کے دن اور شخصیات کے عالمی دن منانا تو عام سی بات ہے اور یہ بھی شکر ہے کہ کارل مارکس اور اسی لابی کے کچھ فلاسفرز نے مزدور طبقے کے استحصال کے خلاف آواز بلند کی تو یوم مئی بھی رواج پا گیا۔ یورپ و امریکہ کوہیروشیما اورناگاسا پربم گرانے دن بھی شکر ہے کہ یاد تو آہی جاتا ہے یہ دن، یاد رہنا چاہئے اوریہ ضروری ہے۔ یہود قوم اپنے ساتھ بیتے تاریخی واقعے کو بھی عالمی سطح پر یاد رکھنے اور پورے عالم کو اس ’’ہولوکاسٹ‘‘ کی یاد تازہ کرنے میں شامل کرتے ہیں۔ اس فیصلے کا اہتمام بھی یہ ظاہر کرتا ہے اور اس کی حکمت عملی بھی یہی ہے کہ یہودیوں کی مظلو میت کے تاثر کو گہرا رنگ دیا جائے۔ ہولوکاسٹ کی یادیں تازہ کرنے والوں کے وتیرے کو ملاحظہ کیجئے کہ اپنی نوجوان نسل کو ’’ہولوکاسٹ‘‘ کے تاریخی واقعے کی یاد کے تحت پروان چڑھانے والوں نے کبھی فلسطین کے ساتھ جاری استحصال بالجبر، استعماریت ناجائز پر بات کی ہو بلکہ جبراً اور ڈھٹائی سے اس اپنے استعماریت کے جارحانہ عمل دخل کو اپنا حق جانا جبکہ یہ غاصبانہ روش اپنائے ہوئے ہیںلیکن یہ چاہتے ہیں کہ انہیںغزہ جنگ کے تناظر میں نہ دیکھا جائے یہ دیکھا جائے کہ صرف دو میل کی حدود کے اندر 10لاکھ یہودی مارے گئے تھے۔ جنہوں نے مارا تھا ان سے انتقام لینا یہود کے اختیار میں نہیں تھا۔ یہ یہود بھی اکتوبر کے پہلے ہفتے میں ’’ہولوکاسٹ‘‘ کی یاد تازہ کرتے ہیں مگر آج تک وہ گتھی نہ سلجھا سکے اور اس نقطے تک نہ پہنچ سکے کہ یہود سے دشمنی نازی نظریئے کا مرکزی نقطہ کیوں تھا؟ جبکہ نازیوں نے خود یہ نقطہ پیش کردیا تھا کہ یہود سے دشمنی ان کی اولین ترجیح ہے۔ ہم بحیثیت قوم کسی سے یہ استفسار تو نہیں کرسکتے یعنی اہل یورپ و امریکہ سے یا دوسری سپر طاقتوں سے پوچھ نہیں سکتے کہ ایک تاریخ جسے ہم نہایت اہم سمجھتے ہیں وہ ان کے نزدیک اہم کیوں نہیں ہے۔ 20ستمبر 1187کو یروشلم کا محاصرہ کس مرد مجاہد نے کیا تھا؟ وہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے کیا تھا۔ ہم تاریخ دہرانے میں تامل برت رہے ہیں، ہم کھل کر اپنے کامیاب دن نہیں مناتے، ہم کامیاب اور فاتحین کا ذکر فخریہ انداز میں نہیں کرتے، کون ہے جسے 20ستمبر یاد ہے اس حوالے سے کہ یروشلم کا محاصرہ ہوا تھا اس دن! 20ستمبر کو عالمی دن بھلے ہم نہیں کہہ سکتے مگر بحیثیت مسلمان اپنے ایک فاتح کی کامیابی تو یاد کرسکتے ہیں۔ شاید تیسری دنیا کے مسلم مملک اپنی پسماندگی کی وجہ سے کسی اہم دن کو یاد نہیں رکھ سکتے، اس لئے کہ وہ آج مختلف مسائل کا شکار ہیں وہ اپنی گزری ہوئی کل کی داستان بھلا کیسے یاد رکھیں، یہود نے تو اپنی قوم کا پیٹ بھرا ہے تو آج ان کی نوجوان نسل بھی ’’ہولوکاسٹ‘‘ کے واقعہ کو نئے سرے سے اجاگر کر رہی ہے۔ ان کے یہاں اپنے دن کے حوالےسے تقریبات ہوتی ہیں، حتیٰ کہ یہ لوگ تو غزہ میں قید ساتھیوں کا درد بھی اپنے اندر رکھ کر تقریبات مناتے ہیں۔ یکجہتی اگر کسی نے کسی قوم کی دیکھنا ہو تو وہ یہود قوم کی دیکھے۔ جب بھی اسرائیل پر 35ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو قتل کرنے کا معاملہ اٹھایا جاتا ہے تو وہ تواتر اور بڑھ چڑھ کر ’’ہولوکاسٹ‘‘ منانے لگتے ہیں۔ صلاح الدین ایوبی تاریخ اسلام کے عظیم اور معروف و مشہور ترین فاتحین و حکمرانوں میں سےتھے۔ صلاح الدین ایوبی اپنی بہادری، فیاضی، حسن اخلاق، سخاوت اور بردباری کے سبب نہ صرف مسلمانوں میں بلکہ عیسائیوں میں بھی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ان میں جہاد کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔ بیت المقدس کی فتح ان کی زندگی کی اولین خواہش تھی۔ صلاح الدین ایوبی کو فاتح بیت المقدس کہا جاتا ہے۔ صلاح الدین ایوبی نے ستمبر 1187میں صلیبیوں کی متحدہ افواج کو عبرت ناک شکست دےکر یروشلم کا محاصرہ کیا تھا۔ مسلمانوں کےساتھ یوں تو صلیبی جنگیں عرصۂ درازا سے جاری تھی۔ صلیبی اچھے تعلقات کے باوجود مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروفرہتے یہ دیکھتے ہوئے صلاح الدین نے اپنی فوجوں کو 20ستمبر 1187کو بیت المقدس پہنچا دیا۔ صلاح الدین نے صلیبیوں کو مشورہ دیا کہ خون خرابے سے کچھ نہ ہوگا بلکہ پرامن طریقے سے ہتھیار ڈال دیں اور بیت المقدس مسلمانوں کے حوالے کرنے کیلئے بات چیت کی جائے۔ آخر صلیبیوں کو شکست ہوئی اور 88سال بعد بیت المقدس دوبارہ مسلمانوں کے قبضے میں آیا۔ بیت المقدس کی فتح کےبعد صلیبی حکومت بھی ختم ہو گئی جو فلسطین میں 1099سے قائم تھی۔ اس کے بعد یروشلم میں بھی صلیبی حکومت ختم ہوئی۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے بہت سے قوم کےلئے اقوال بھی چھوڑے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہےکہ ’’یاد رکھو! فوج بغیر قوم کے اور قوم بغیر فوج کے دشمن کیلئے آسان شکار ہوتی ہے‘‘۔ اس قدر حکمت عملی ترتیب دینے والا عظیم فاتح کہ جس کی یاد صرف کتابوں تک محدود ہے، وہ جو مسلمانوں کا سپہ سالار تھا، اس کی یاد کیلئے کوئی دن اور کوئی حکمت عملی ہمارے پاس نہیں۔
یورپ سے سے مزید