وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ بار بار معافی کی بات ہو رہی ہے، معافی کس سے مانگوں اور کیوں مانگوں؟ پہلے معافی مجھ سے مانگیں۔
ویڈیو لنک پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو گرفتار کرنے پر معافی مانگیں، پُرامن احتجاج میں میرے لوگوں پر ظلم ہوا، میرے لوگوں کو شہید کیا گیا، اس کی معافی کون مانگے گا؟
علی امین گنڈاپور نے آئی جی پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ظل شاہ کی شہادت کی معافی کون مانگے گا؟، معافی ظرف والے لوگ مانگتے ہیں، ہم پہلے تمام مظالم کی معافی منگوائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ زیادتیاں ہوئیں اور ابھی تک ہو رہی ہیں، معافیوں والی باتیں نہیں کرو، معافیوں پر بات گئی ہے تو جو زندگی بچی ہے اس پر آپ معافیاں مانگتے پھرو گے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ نہ پنجاب حکومت کا غلام ہوں نہ کسی اور کا کہ میں معافی مانگوں، میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس پر میں معافی مانگوں۔ پرچے کاٹنے ہیں جو کرنا ہے کرلو، معافی نہیں ہے۔
وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ آئندہ اتوار کو میانوالی میں جلسہ کروں گا، میانوالی کے بعد پنڈی میں جلسہ کریں گے، ان کو ہم بتائیں گے کہ جلسے کیا ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو رہا کرکے وزیر اعظم بنائیں گے۔ علامہ اقبال نے جس ریاست کا خواب دیکھا تھا، پاکستان کو وہ ریاست بنائیں گے۔ آئین کی بالادستی اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی تک تحریک چلائیں گے۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ لاہور کے لوگوں کا شکریہ کہ خوف کا بت توڑ کر بھرپور جلسہ کیا۔ پنجاب حکومت نے کل جلسے میں اسٹینڈرڈ ٹائم کی جو حرکت کی اس کی بھرپور مذمت کرتا ہوں، اس ملک میں تو اسٹینڈرڈ رولز بھی نہیں ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ ’ہمارا مطالبہ ہے کہ دو نہیں ایک پاکستان ہمیں چاہیے، ایک ریاست دو دستور نامنظور نامنظور۔‘
وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ کل راستے بند تھے، کنٹینرز رکھے گئے تھے، جھوٹا بیانیہ بنایا کہ راستے کھلے تھے، جلسہ گاہ کے دو کلومیٹر تک باڑ لگائی گئی کہ لوگ نہ جا سکیں، ساڑھے 5 بجے لاہور پہنچ گیا تھا، سوشل میڈیا پر ریکارڈ موجود ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ اتنے جمہوری ہیں تو مینار پاکستان میں اجازت دیتے، اگر جمہوری ہو تو دوبارہ مینار پاکستان میں جلسہ کی اجازت دے دیں، رکاوٹوں کے باوجود لوگ نکلے ان کو سلام پیش کرتا ہوں۔