• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میر خلیل الرحمٰن فاؤنڈیشن، ذہنی صحت سے متعلق قومی سطح پر آگہی مہم ’’ملکر آؤ بات کریں‘‘ کا افتتاح

کراچی (رپورٹ : بابر علی اعوان) میر خلیل الرحمان فاؤنڈیشن، برٹش ایشین ٹرسٹ اور پاکستان مینٹل ہیلتھ کوئیلیشن کے تحت قومی سطح پر ذہنی صحت سے متعلق آگہی کیلئے ایک سالہ مہم ’ملکر آو بات کریں‘ شروع کر دی گئی ہے۔ 

مہم کی افتتاحی تقریب جمعے کو آرٹس کونسل کراچی میں منعقد ہوئی جس سے میئر کراچی مرتضی وہاب، سابق وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا، برٹش ایشن ٹرسٹ کی کنٹری ڈائریکٹر کاملہ ماروی ٹپال اور میر خلیل الرحمان فاؤنڈیشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر شاہ رخ حسن نے خطاب کیا۔

 تقریب کی نظامت کے فرائض سدرہ اقبال نے سرانجام دیئے۔ میئر کراچی مرتضی وہاب نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ ہمارے لئے صحت وہی ہے جو نظر آرہی ہے لیکن جس صحت کو لوگ دیکھ نہیں سکتے وہ دماغی صحت ہے، صحت صرف ظاہری صحت نہیں بلکہ ذہنی بھی ہے، ایسے مسائل میں مبتلا افراد کو حوصلہ دینا چاہیے، ہمارے ہاں اگر کسی کے بھائی یا بہن مسائل کا شکار ہوتے ہیں تو اس کو چھپایا جاتا ہے حالانکہ اس کو دور کرنا چاہیے۔

 انہوں نے کہا کہ مجھے مہم کا نام ’مل کر‘ پسند آیا کہ ملکر کام کریں گے، اس کو ہینڈل کرینگے، یہ لو مڈل کلاس کا نہیں سب کا مسئلہ ہے۔

انہوں نے مذید کہا کہ میں آفر کرتا ہوں کہ سیاسی مدد کریں گے کے ایم سی پارٹنر بنے گی سٹی کاؤنسل کی جگہ چاہیے ہوگی ڈائیلاگ کیلئے تو کاؤنسل ہال کا استعمال کریں،عوام کو بتائیں کہ ہم ایک نارمل سوسائٹی ہیں،جب تک بات نہیں کرینگے مسئلہ حل نہیں ہو گا جب تک انکی حوصلہ افزائی نہیں کرینگے یہ بیماری سے نکلیں گے نہیں۔

 سابق وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ پاکستان میں ذہنی صحت کے حوالے سے آج تاریخی دن ہے کہ اتنے اہم ادارے اکھٹے ہوئے ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ عالمی اداروں کیلئے 1948 میں یہ بڑا چیلنج تھا کہ صحت کی کیا تعریف کی جائے لیکن انہوں نے تعریف کی کہ ذہنی صحت کے بغیر کوئی صحت نہیں۔ صحت کا ذہنی صحت کے بغیر کوئی کانسیپٹ ہی نہیں۔

 انہوں نے بتایا کہ دو صدیوں پہلے ذہنی امراض میں مبتلا افراد کو گناہ گارسمجھا جاتا تھا، اگلی صدی میں انہیں پاگل کہا جانے لگا، دوسری جنگ عظیم کے بعد انکے بارے میں اداس ہوا جانے لگا جبکہ اس صدی میں انہیں مرکزی اسٹریم میں لایا جا رہا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ آج بھی پاکستان کے کئی حصوں میں ذہنی بیمار افراد کو گناہ گار اور پاگل سمجھا جاتا ہے، ملک میں ہر پانچویں بندے کے ساتھ کسی نہ کسی طرح کا ساتھ ذہنی صحت کا مسئلہ ہے اور ہر پانچ میں سے نوے فیصد کو صحت کی سہولت میسر نہیں، ملک میں ہر چوتھی حاملہ عورت ذہنی مسائل کا شکار ہے جس میں سے نوے فیصد کو صحت کی سہولت میسر نہیں، ہر پانچواں اسکول جانے والا بچہ جذباتی اور رویہ جاتی مسائل کا شکار ہے جبکہ ساٹھ فیصد سے زیادہ ذہنی عارضہ کا شکار بالغ افراد بچپن سے ان مسائل کا شکار ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے بعد ہماری ذہنی صحت کی طرف توجہ زیادہ راغب ہوئی کیونکہ اس نے ہمیں سکھایا کہ اکیلا رہنا کیسا ہوتا ہے،اب بہت ساری پالیسیز بنائی جا رہی ہیں، بہت سارے اقدامات کیے جارہے ہیں، پاکستان مینٹل کوئیلیشن کا سو سے زیادہ آرگنائیزیشن اور افراد حصہ ہیں، صحت کے نظام کو کو بہتر کریں،جب تک مینٹل ہیلتھ اور عام سہولیات کوانٹی گریڈ نہیں کیا جائے گا بہتری نہیں آہے گی۔

 ان کا مذید کہنا تھا کہ ایک سال کی مہم یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ کافی نہیں دعا ہے کہ ایک سال کی نہیں ساری زندگی کی مہم بنے۔

 برٹش ایشن ٹرسٹ کی کنٹری ڈائریکٹر کاملہ ماروی ٹپال نے کہا کہ برٹش ایشین ٹرسٹ نے ذہنی صحت پر پندرہ سال قبل کام شروع کیا جب اس پر کوئی بات بھی نہیں کرتا تھا۔ 

اس مہم کے حوالے سے جب شاہ رخ حسن نے بات کرنا شروع کی تو ہمیں چھ ماہ لگے ہم نے سوچا کہ یہ بہت مشکل ہے لیکن آج کر دکھایا یہ ایک خواب ہے جس کا کافی لوگ سوچتے نہیں، یہ صرف ایک مہم نہیں بلکہ ایک جامع اپرووچ ہے جو معاشرے کے ہر حصے میں جائے گی، ہم نے ذہنی صحت کے متعلق عوام کی معلومات میں اضافہ کرنا، انہیں آگہی دینا اور ان کے رویے تبدیل کرنا ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ لوگ اپنے اردگرد توجہ اور سپورٹ کے ذریعے ایسے افراد کو ٹھیک کر سکتےہیں۔

 انہوں نے بتایا کہ میڈیا کے ذریعے پورے سال پیغامات دینگے، ماہانہ سپلیمنٹ،روزانہ پرومو اور ٹکرز چلائیں گے، یو ٹیوب، ٹوئیٹر اور سوشل میڈیا پر پیغامات چلائیں گے۔ پرائم ٹائم کے دوران ذہنی صحت سے متعلق 60 پروگرام کرینگے۔ 

انکا کہنا تھا کہ پاکستان میں مینٹل ہیلتھ سروسز کی کمی ہے جس کیلئے آگہی چلائیں گے، ویب سائیٹ اور ڈائریکٹری بنائیں گے اور جو ماہرین اپنی سروسز دینا چاہیں وہ ویب سائیٹ کے ذریعے عوام تک رسائی کر سکیں گے۔

 انکا مذید کہنا تھا کہ ہم نے گیلپ کے ساتھ تعاون کیا ہے، ہم سروے کرینگے دیکھیں گے کہ کیا صورتحال ہے اور اور مہم کے بعد بھی دوبارہ سروے کرائیں گے تاکہ دیکھ سکیں کہ عوام پر کیا اثر ہوا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ یہ مہم لاکھوں افراد کیلئے امید کی کرن ہے، اس اسٹگما کو توڑیں اور ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔

شاہ رخ حسن نے کہا کہ میر خلیل الرحمان فاؤنڈیشن ایک ایڈویکیسی پلیٹ فام ہے جو مختلف مہمات چلاتی کر عوام کو آگہی دیتی رہی ہے اور اس سے تبدیلی لاتی ہے۔

امن کی آشا اور ذرا سوچیئے سمیت کئی مہمات چلائی گئیں جبکہ پولیو اور کورونا وائرس سے بچاؤ کی آگہی مہم بھی چلائی گئی۔ یہ مہم بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور یہ صرف مہم نہیں بلکہ ذہنی صحت سے متعلق حقیقی تبدیلی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

 انہوں نے کہا کہ یہ ایک جامع مہم ہے جو پوری دنیا میں چلائی جانے والی ذہنی صحت کی آگہی کی سب سے بڑی مہم ہوگی جس میں بارہ مہینے کام کیا جائیگا۔ اسکے پہلے مرحلے پر اعداد وشمار دیئے جائیں گے کیونکہ پاکستان میں لاکھوں افراد خاموشی سے اس بیماری کے ساتھ زندہ رہ رہے ہیں۔

 ایک اندازے کے مطابق پچاس ملین افراد کسی نہ کسی طرح ذہنی امراض سے متاثر ہیں یعنی ہر پانچواں شخص اس کا شکار ہے۔ مہم کے دوسرے مرحلے پر اس کی آگہی اور خطرات کے بارے میں بتائیں گے۔

 تیسرے مرحلے پر اسٹگما کو ختم کرنے کیلئے اس بیماری سے صحت یاب ہونے والوں کی کہانیاں سنائیں گے جبکہ آخری مرحلہ اس پر عمل کا ہوگا کہ اب اس کا خاتمہ کیا جائے۔ 

انہوں نے مذید کہا کہ یہ وقت ہے کہ ذہنی صحت کو بنیادی ضرورت قرار دیا جائے اس سلسلے میں اگلے بارہ ماہ ہم میڈیا کے ذریعے اپنا کردار ادا کریں گے اور ملکر ذہنی صحت کو بحال کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے ڈونرز وٹول فاؤنڈیشن اور کیئر ٹیک فاؤنڈیشن کا شکریہ ادا کیا۔ 

اس موقع پر پینل ڈسکشن کا بھی انعقاد کیا گیا جس کے میزبان عبداللہ سلطان تھے جبکہ پینالسٹس میں سینئر صحافی حامد میر، برٹش ایشین ٹرسٹ کی ذہنی صحت کیلئے سفیرصنم سعید اور براڈ کاسٹ جنرلسٹ اور میزبان سدرہ اقبال شامل تھیں۔

اہم خبریں سے مزید