• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ستمبر 2024 میں بیرونی قرض 88.57 تھا جواب 133 ارب ڈالرتک پہنچ گیا

اسلام آباد( مہتاب حیدر) کل بیرونی قرضے اور واجبات 133 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، لیکن مالی ذمے داری اور قرض کی حد بندی ایکٹ کی تعریف کے مطابق عوامی بیرونی قرضہ ستمبر 2024 کے اختتام تک 88.578 ارب ڈالر تھا۔پاکستان کے بیرونی قرضوں کا تقریباً 92 فیصد تین بڑے ذرائع یعنی کثیر الجہتی اور دو طرفہ قرض دہندگان کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی بانڈز سے حاصل کیا گیا ہے۔دو طرفہ قرض دہندگان میں، مجموعی بیرونی قرضوں اور واجبات کے تناظر میں چین سرفہرست ہے۔کل قرضوں اور واجبات کے حساب میں اجتماعی فنڈ سے ادا کیا جانے والا ملکی اور بیرونی قرض، ادائیگیوں کے توازن کی معاونت کے لیے آئی ایم ایف کے قرضے،سرکاری اداروں (ایس او ایز) کے قرضے،اجناس کی خریداری کے لیے لیے گئے قرضے،نجی شعبے کے بیرونی قرضے شامل ہیں۔تاہم عوامی قرض میں سرکاری اداروں کا قرض، اجناس کی خریداری کے لیے لیا گیا قرض اور نجی شعبے کا بیرونی قرض شامل نہیں ہوتا۔ عوامی قرض کی کل رقم کا حساب اجتماعی فنڈ سے ادا کیے جانے والے ملکی اور بیرونی قرضوں اور بی او پی کے لیے آئی ایم ایف کے قرضوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔اس وقت کل بیرونی قرضے اور واجبات 133 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، لیکن مالی ذمے داری اور قرض کی حد بندی ایکٹ (FRDLA) کی تعریف کے مطابق عوامی بیرونی قرضہ ستمبر 2024کے اختتام تک 88.578ارب ڈالر تھا۔وزارت خزانہ نے جنوری 2025کے لیے قرضہ پالیسی بیان تیار کر لیا ہے، لیکن تاحال اسے پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا گیا۔ اس کی منظوری کا عمل وفاقی کابینہ میں جاری ہے۔ تاہم، ذرائع کے مطابق حکومت نے ورلڈ بینک کے قرضوں کی شرائط کے تحت ستمبر 2024 کے آخر تک قرض بلیٹن رپورٹ جاری کرنے کی آخری تاریخ کو بھی نظرانداز کیا، تاہم یہ رپورٹ اکتوبر 2024 میں جاری کی گئی۔مالی سال 2025کی پہلی سہ ماہی (Q1-FY25) کے دوران بیرونی قرضوں میں اضافہ جاری رہا، اور ستمبر 2024کے اختتام پر یہ 88.7 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ بیرونی قرضوں کی ساخت کے مطابق، 56 فیصد قرضے کثیر الجہتی قرض دہندگان جیسے ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB)، آئی ایم ایف اور دیگر اداروں سے حاصل کیے گئے۔
اہم خبریں سے مزید