• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

اصل تاریخِ پیدائش

اُمید ہے، سب بخیریت ہوں گے۔ شمارہ وصول ہوا، لیکن مطالعہ کرنے میں تاخیر ہوگئی۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں نادیہ سیف کا مضمون ’’مثبت عادات اور اخلاقیات‘‘ کے موضوع پر تھا، تو دوسری طرف علیزہ انور فاسٹ فوڈ گھر ہی پر تیار کر رہی تھیں۔ ’’انٹرویو‘‘ بھی شان دار رہا۔ ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں طوبیٰ سعید اور محمّد مشتاق کی لاجواب تحریریں شامل کی گئیں۔

’’شعراء کرام‘‘ میں فارسی زبان کے سات عظیم شعرا کی آخری قسط بھرپور تھی۔ ’’متفرق‘‘ میں بابر سلیم خان نے اپنی تحریر میں لکھا کہ لیوٹالسٹائی 9؍ ستمبر 1928ء کو پیدا ہوئے، جب کہ لیوٹالسٹائی کی اصل تاریخِ پیدائش 9؍ ستمبر 1828ء ہے۔ اس ہفتے کی اعزازی چٹھی شہزادہ بشیر محمد نقش بندی کی قرار پائی، بہت مبارک ہو۔ (اشوک کمارکولھی، گوٹھ جکھراڑی، کوٹ غلام محمّد)

ج: درستی و اصلاح کا بےحد شکریہ۔ آئندہ بھی ایسی کوئی غلطی نوٹ کریں، تو ضرور آگاہ فرمائیں۔

گھوٹ کر پی لو !!

ہفتے بھر کے انتظار کے بعد ’’سنڈے میگزین‘‘ جیسے ہی ملتا ہے، تو گھنٹہ بَھر بعد ہی ساری تشنگی ختم ہوجاتی ہے۔ والد صاحب کا یہ کہنا کہ ’’اِسے گھوٹ کر پی لو۔‘‘ اچھا لگتا ہے۔ ڈاکٹر قاسمی نے’’توکل علی اللہ‘‘ پرمدلّل مضمون لکھا۔

منوّر مرزا عرب ممالک کی بے بسی و بے حسی پر نوحہ کُناں تھے، تو منوّر راجپوت میاں، بیوی کے مزاحیہ ادبی لطائف پر خُوب صُورت نگارش کے ساتھ آئے۔ اور آپ کی اُجلی تحریر؎ جلوے وپردے کا یہ رنگ دَم نظارہ… جس طرح اَدھ کُھلے گھونگھٹ میں دُلہن، کیا کہنا۔ کے تو واقعی کیا کہنے۔ کتابوں پر تبصرہ بھی عمدگی سے کہا گیا اور اپنے صفحے نے تو دل ہی خوش کردیا۔ (شمائلہ نیاز، دائرہ دین پناہ، تحصیل کوٹ ادّو، ضلع مظفر گڑھ)

کسی صُورت ڈراپ نہ کریں

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی دو ہی شماروں پر تبصرہ کروں گا۔ دونوں میں ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ کے صفحات موجود نہیں تھے۔ آپ سے گزارش ہے کہ پلیز، ’’آپ کا صفحہ‘‘ اور’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ کسی صُورت ڈراپ نہ کیا کریں۔ ’’ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی، ٹرمپ کا نیا دَور اور عالمی قیادت‘‘ منور مرزا کا شان دارتجزیہ پڑھا۔ اللہ کرے، ٹرمپ جو بھی پالیسیاں بنائے، مسلمانوں کے خلاف نہ ہوں۔ ’’مشتری ہوشیار باش! آپ کی جیب اور اکاؤنٹ سب نشانے پر ہیں‘‘۔ 

جی ہاں! اپنا موبائل بھی استعمال کریں، تو دیکھ بھال کر کریں، کیوں کہ یہاں قدم قدم پر لالچی بھیڑئیے تعاقب میں ہیں، تو ہوشیار ہی رہیں۔ سابق آئی جی ذوالفقار احمد چیمہ کی ’’خودنوشت‘‘ کی نویں، دسویں اقساط بھی شان دار تھیں۔ ڈائریکٹر جنرل زراعت شماریات، بلوچستان، محمد اختر بزدار اور بلوچستان کی نوجوان باصلاحیت قانون دان طیّبہ کاکڑ کے ’’انٹرویوز‘‘ خوب رہے۔

بلاشبہ، تباہ حال فلسطینی لفظی نہیں، عملی اظہارِ یک جہتی کے منتظر ہیں۔ ہم مسلمانوں پر واجب ہے کہ دامے درمے سخنے اُن کی مدد کریں۔ ’’پی ٹی وی کے عروج و زوال کے ساٹھ سال‘‘ کے ذریعے بہترین معلومات ملیں۔ کچھ دیر کے لیے تو ہم اپنے بچپن ہی میں چلے گئے۔ اپنے خطوط میں ہمیں یاد کرنے پر شمائلہ ناز اور نازلی فیصل کا بہت بہت شکریہ۔ اور بےشک، بے کار ملک کو اب واقعی اپنا نام بہت بےکار ملک یا سردرد ملک ہی رکھ لینا چاہیے۔ (پرنس افضل شاہین، نادر شاہ بازار، بہاول نگر)

ج: جریدے سے جو بھی صفحہ ڈراپ کیا جاتا ہے، کسی نہ کسی ناگزیر وجہ ہی کے سبب ہوتا ہے۔

سانس رُک جائے گی

’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا لبنان کی جنگ بندی سے متعلق عُمدہ تبصرہ دے رہے تھے۔ کوئی شک نہیں کہ عالمی حالات و واقعات پر انہیں عبور حاصل ہے۔ ’’جہانِ دیگر‘‘ میں ’’14 روزہ امریکا یاترا‘‘ ایک اور قسط وار سلسلہ؟ ارے بھئی، ایک سلسلہ پہلے سے چل رہا ہے۔ آخر میگزین یہ قسط وار سلسلے کب تک برداشت کرے گا، اِس طرح تو جریدے کی سانس رُک جائے گی۔

اِس بار ناقابلِ اشاعت کی لسٹ بہت اچھے انداز سے پیش کی گئی کہ ناقابلِ فراموش، متفرق اور اِک رشتہ، اِک کہانی، سب کی الگ الگ فہرست بنائی گئی تھی، دیکھ کے اچھا لگا۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں رفعت سلطانہ نے ناقابلِ اشاعت کی لسٹ میں اپنا نام دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا۔ 

ویسے سچ بھی یہی ہے کہ جریدے میں نام شائع ہونا خوشی ہی کی بات ہے۔ اور ہاں، ’’گوشہ برقی خطوط‘‘ میں سلیم راجا کا خط پڑھ کر دلی خوشی ہوئی۔ (رونق افرزو برقی، دستگیر کالونی، کراچی)

ج: ارے بھئی، قسط وار سلسلوں سے متعلق پہلے بھی وضاحت کی تھی کہ متعدّد قارئین ایسی تحریریں بصد شوق پڑھتے ہیں اور پھر بعض تحاریرکو ایک آدھ صفحے پرسمیٹنا تو اُن کے ساتھ صریحاً ناانصافی ہوتی ہے۔ دوم، یہ کہ اگر کوئی ناول، سوانح عُمری، خودنوشت وغیرہ شائع ہوگی، تو لازماً قسط وار ہی ہوگی۔ خُود سوچیے، بھلا ایک قسط میں کسی کی پوری زندگی کیسے سموئی جاسکتی ہے۔

جو کردار کا اثر ہے، وہ گفتارکا نہیں

شمارہ ’’اسموگ‘‘ کے جلو میں ملا۔ لاہور سے یہ اسموگ اب دیگر شہروں کا رُخ کرچکی ہے۔ حالاتِ حاضرہ پر منور مرزا مستقل امن کے لیے فلسطین تنازعے کے حل کے حوالے سے لکھ رہے ہیں۔ میرے خیال میں تو اس تنازعے کا حل عالم اسلام یا کم ازکم عرب اتحاد سے بھی ممکن ہے، مگر شاید برسوں پہلے جمال الدین افغانی کی کہی یہ بات عالمِ اسلام نے ذہن نشین کرلی ہے کہ ’’ہم نےاِس بات پر اتفاق کرلیا ہے کہ ہم نے اتفاق سے نہیں رہنا۔‘‘ ڈاکٹر عزیزہ انجم نے کینیڈا سے دعوتِ دین کے پروگرام کی رُوداد پیش کی۔ 

یقیناً مغربی ماحول میں دعوتِ دین کے لیے ایسے پروگرام گرمیٔ ایماں کا ساماں کرتے ہیں۔ مگر ہمارا کردار بھی ہماری دعوت و تبلیغ کی طرح ہونا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ سماج پر جو اثر کردار کا ہوتا ہے، وہ گفتار کا نہیں۔ اقصیٰ پرویز کی کراچی کے اَن گنت مسائل پر مختصر تحریر پڑھتے ہوئے 30 سال پہلے کا کراچی یاد آتا رہا۔ حافظ بلال بشیر نے طلبہ تنظیموں کی بحالی پر معلوماتی تحریر لکھی۔ 

ان تنظیموں نے یقیناً کئی بڑے سیاسی رہنما دیئے ہیں۔ ڈاکٹر ناظر محمود نے منفرد ایرانی فلم ساز داریوش مہرجوئی کی فلمی خدمات پر دل چسپ تحریر لکھی۔’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں آپ کی مختصر تحریر کا پہلا جملہ اور مبارک صدیقی کی خوب صورت غزل خوش گوار زندگی کا حاصل ہے۔ ؎ وہ جِس کو دیکھے، تو دُکھ کا لشکر بھی لڑکھڑائے، شکست کھائے … لبوں پہ اپنے، وہ مسکراہٹ سجا کے رکھنا، کمال یہ ہے۔ 

یہ سچ ہے کہ خواتین و حضرات اس منہگائی اور نفسانفسی کے ماحول میں سخت پریشان ہیں۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، سیدال خان ناصر نے سیاست میں پی ٹی آئی کی بدتہذیبی اور گالم گلوچ کا کہا، تو سو فی صد درست ہی کہا۔ مَیں خود متعدّد بار اس رویّے کا شکار ہوا۔ 

سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ ہے کہ ان کے نوجوان ورکرز سے دلائل کے ساتھ بات کرتے ہوئے تنقید کریں، تو جواب میں نہ صرف مخالف سیاست دانوں کی کردار کُشی کرتے ہیں بلکہ آپ کی بھی کردارکُشی کرڈالتے ہیں۔ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ میں اس بار قرأت نقوی منفرد رشتے کے ساتھ نظر آئیں اور وہ رشتہ ہے، اُن کا ’’سنڈے میگزین‘‘ کے ساتھ۔ تحریر پڑھتے ہُوئےخواہش پیدا ہوئی کہ ہم بھی ’’سنڈے میگزین‘‘ کی یادوں پر کچھ لکھیں۔ (رانا محمد شاہد، 26گلستان کالونی، بورے والا)

ج: ضرور لکھیں۔

صفحہ جگمگا رہا تھا

منور مرزا ’’حالات و واقعات‘‘ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’مشرقِ وسطی میں کسی بڑی جنگ کا امکان نہیں‘‘ اللہ کا شُکر ہے۔ بلال بشیر نے طلبہ تنظیموں کے ماضی، حال اور مستقبل سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا، تو منٰی جاوید نے ماحولیاتی تحفّظ کی اہمیت اجاگر کی۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں ڈاکٹر مظیر احمد چکن گونیا کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ مچھروں کو قرار دے رہے تھے اور یقیناً درست ہی قرار دے رہے ہوں گے۔ ’’رپورٹ‘‘ میں ڈاکٹر عزیزہ انجم نے کینیڈا کے دو روزہ کنونشن کی رُوداد شان دار انداز سے پیش کی۔ اقصٰی پرویز نے بھی اپنی تحریر میں اہم مسائل اجاگر کیے۔ 

ذوالفقار چیمہ کی ’’خُودنوشت‘‘ کے تو کیا ہی کہنے۔ بلوچستان سے انٹرویوز بھی اچھے کیے جارہے ہیں۔ ڈاکٹر ناظر محمود کی تحریریں بھی پسند آتی ہیں۔ اور ہاں، ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ میں قرات نقوی کی منفرد کہانی کا جواب نہ تھا۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں شگفتہ ضیاء نے بھی اقبال ڈے کے حوالے سے شان دارافسانہ تحریر کیا۔ اگلے جریدے کے ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا کا ایک اور بہترین تجزیہ پڑھنے کو ملا۔ 

رؤف ظفر نے فراڈیوں سے متعلق لاجواب ’’فیچر‘‘ تحریر کیا۔ ڈاکٹر یاسمین شیخ کا الرجی کے موضوع پر مضمون معلومات سے بھرپور تھا۔ ’’خُودنوشت‘‘ تو اب ہردل عزیز سلسلے کی شکل اختیار کرگئی ہے۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں محمد حارث بشیر کا افسانہ تو بس رُلادینے والا تھا۔ اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ ہمارے خط کے بغیر بھی جگمگا رہا تھا کہ خادم ملک کا خط جو موجود تھا۔ (سید زاہد علی، شاہ فیصل کالونی، کراچی)

ج: حالاں کہ خادم ملک کے خط سے صفحہ جگمگاتا کم، ڈگمگاتا زیادہ ہے۔ مگر وہ کیا ہے کہ یہاں تو ؎ خِرد کا نام جُنوں پڑگیا، جُنوں کا خرد… جو چاہے آپ کا حُسنِ کرشمہ ساز کرے۔

مکمل ایڈریسز، فون نمبر

براہِ نوازش کتابوں کا تعارف کرواتے وقت ناشرین کے مکمل پتا جات اور موبائل نمبرز ضرور دیا کریں تاکہ کتابیں حاصل کرنے میں آسانی ہو۔ (سعید احمد انور چشتی، فیضانِ مدینہ، اسٹریٹ36، جی سیون،نزد ستارہ مارکیٹ، اسلام آباد)

ج: عمومی طور پر تبصروں کے لیے موصول ہونے والی کتب بذریعہ ڈاک آتی ہیں۔ اور اُن کتابوں پر اُن کے ملنے کا پتا، فون نمبرز وغیرہ جس طرح درج ہوتے ہیں، تبصرے کے ساتھ بعینیہ شائع کر دیئےجاتے ہیں۔ اب اگر کسی کتاب پر تفصیل موجود ہی نہ ہو، تو ہم اپنے طور پر کیا اور کیسے شائع کردیں۔

               فی امان اللہ

اس ہفتے کی چٹھی

اگرچہ آج کل سوفی صد امن و امان کی زندگی گزارنا ناممکن ہی لگتا ہے، لیکن ’’اُمید پر دنیا قائم ہے‘‘ کا اصول مدِنظر رکھتے ہوئے اُمید کرتی ہوں کہ آپ اور آپ کی ٹیم ایمان و صحت کی بہترین حالت میں ہوگی، امن وامان سے زندگی سے لُطف اندوز ہو رہی ہوگی۔ خیر، وقت کم، مقابلہ سخت ہے۔ الفاظ کم اور خیالات بہت ہیں۔ اور توقع بھرپور ہے کہ ایک طویل عرصے کی غیرحاضری کے بعد خوش آمدید ہی کہیں گی۔ 

کسی نے مجھے یاد کیا یا نہیں، لیکن مَیں نے’’آپ کا صفحہ‘‘ کو بہت مِس کیا۔ ویسے اس بَھری دنیا میں کوئی کہاں کسی کو یاد رکھتا ہے۔ ’’سنڈے میگزین‘‘ مستقلاً زیرِ مطالعہ رہا، البتہ خاموشی کے ساتھ کہ جب انسان کچھ عجیب وغریب قسم کے حالات میں پھنس جائے، مسائل حل ہونے کا نام ہی نہ لے رہے ہوں، تو اِک موڑ پر آکر اُسے بےفکر ہوجانا چاہیے کہ جو ہوگا، بہتر ہی ہوگا۔ 

لہٰذا مَیں نے بھی وہی کیا اور دوبارہ ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں شریکِ محفل ہوں۔ زیرِ نظر جریدہ اپنی تمام تر تحاریر کی روشنی میں ’’لاجواب‘‘ ہے۔ ؎ ’’فسوں طراز ہے، یہ کس کا رنگِ پیراہن…‘‘ کی عکّاسی کرتا میگزین اپنے قارئین کو خُود میں گم ہونے، کھوجانے کی دعوتِ عام دیتا محسوس ہوا، جیسا کہ کچھ مناظر، کچھ لوگ یا کچھ تحریریں انسان کی زندگی کا حاصل ہوتی ہیں، ایسے ہی ڈاکٹر حافظ محمّد ثانی کی تمام تحریروں کا حاصل اُن کی حالیہ قسط وار تحریر بعنوان ’’مسجد‘‘ ٹھہری۔ 

خصوصاً یہ الفاظ کہ ’’اسلام وہ پہلا مذہب ہے، جس نے جمہوریت کا درس دیا اوراس پرعمل بھی کیا۔ جب مینارۂ مسجد سے اذان کی صدا گونجتی ہے اور پرستارانِ حق مسجد میں جمع ہوتے ہیں، تو دن میں پانچ بار جمہوریتِ اسلام اپنی عملی صُورت میں جلوہ گرنظرآتی ہے۔ شاہ وگدا، دوش بدوش، سربسجود ہوتے اور پکار پکار کر اللہ اکبر کہتے ہیں، تو یہ وحدت و یگانگت واقعی انسانوں کو بھائی بھائی بنادیتی ہے۔‘‘

بےشک، اِن الفاظ نے تحریر میں گویا رُوح پھونک دی، جان ڈال دی بلکہ شاید اب میرے قلم و قرطاس کو بھی حُسن بخش دیا ہے۔ یہ وہ جملے ہیں کہ اگر ایک مسلمان اِن کی حقیقت و فضیلت سمجھ لے، تو شاید تمام ترفساداتِ شیطانی ہی بندہو جائیں، ایک دوسرے کا نوالہ چھین کر کھانے والے اپنے نوالے تک قربان کردیں اور یہ دنیا خطۂ امن، خطۂ اسلام اور خطہ محمد ﷺ بن جائے۔ 

حافظ بلال بشیر کی بزرگوں سے متعلق تحریر، آپ کے تربیتی پروگرام کے ضمن میں اچھا اضافہ معلوم ہوئی، منور راجپوت کی سیلانی ٹرسٹ کے بانی سربراہ، مولانا بشیر فاروق سے بات چیت بھی لاجواب تھی اور مرکزی صفحات تو مَ صرف یں اس لیے پڑھتی ہوں کہ آپ کی خُوب صُورت تحریر سے مرصّع ہوتے ہیں۔ دلی دُعا ہے، اللہ آپ کے قلم کی جولانیاں برقرار رکھے اور مجھے بھی کبھی ایسی اثر آفریں تحریر لکھنے کی توفیق دے دے۔ 

ہاں، ’’ناقابلِ فراموش‘‘ واقعات بھی بہت عُمدگی سے مرتب کیے جاتے ہیں اور اب اگر بات کی جائے، ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی، تو اس بار لگ بھگ تمام ہی خطوط خاصے معقول تھے۔ ویسے آپ کے لیے ایک مفت مشورہ ہے کہ یہ نواب زادہ بےکار ملک جان بوجھ کر اوٹ پٹانگ باتیں کرتے ہیں، لہٰذا آپ اِن کی باتوں کا جواب ہی مت دیا کریں۔ کیا پتا، خُود ہی سدھرجائیں۔ ہاں، ایک اوربات آپ کی ماڈلز کچھ خاص پیاری نہیں ہوتیں، مگر آپ ہر بار اُن پر اتنی حسین و دل نشین تحریریں لکھ دیتی ہیں کہ اُن سے بھی پیار ہونے لگتا ہے۔ (ایمن علی منصور)

ج: ایمن! دراصل خادم ملک کا بھی اپنا ہی ایک swag ہے۔ کئی لوگ اُن کے مخصوص انداز اور ہمارے اُن کو کرارے جوابات کے سبب ہی جریدے سے جڑےہوئے ہیں، تو ہم اُن لوگوں کو بھی مایوس نہیں کرنا چاہتے۔

گوشہ برقی خطوط

* مَیں نے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی، جہاں زیادہ تر لوگ تعلیم یافتہ تھے۔ میرے دادا کا تو ایک انگلش میڈیم اسکول تھا، جس میں کئی غریب بچّوں کو مفت تعلیم دی جاتی۔ ہمارے یہاں جنگ اخبار کب سے آتا تھا، یاد بھی نہیں، مَیں نے تو جب آنکھ کھولی، اخبار اور سنڈے میگزین گھر آتے ہی دیکھا۔ تب مجھے پڑھنا بھی نہیں آتا تھا، بس تصویریں ہی دیکھتی تھی۔ مگر تب سے اِس کی محبّت میری رگوں میں سرایت کی ہوئی ہے۔ جب پڑھنےلکھنےکےقابل ہوئی، تو دادا اخبار سے سنڈے میگزین نکال کر سب سے پہلے مجھے ہی دیتے۔

شادی کے بعد مَیں اسلام آباد آگئی۔ یہاں اخبارنہیں آتا، تو مَیں اب میگزین اپنے موبائل ہی میں پڑھتی ہوں، مگروہ لُطف نہیں آتا۔ کبھی بہت شوق ہوتا تھا، لکھنے لکھانے کا، مگر کچھ لکھا نہیں۔ آج پہلی بار آپ کو یہ ای میل کر رہی ہوں۔ میری طرف سے آپ کی پوری ٹیم کی خدمت میں سلام پیش ہے۔ (یسریٰ رضوان)

ج: وعلیکم السلام! اپنی ایک دیرینہ قاریہ سے نصف برقی ملاقات اچھی لگی۔ ویسے اگر آپ کو موبائل پر میگزین پڑھنےکا لُطف نہیں آتا، تو آپ کم ازکم ایک اتوارکا اخبار ہی خرید کے پڑھ لیا کریں۔ اسلام آباد بیاہی گئی ہیں، تو اب یہ تو ممکن نہیں کہ50روپے کا اخبارخریدنے کی سکت نہ رکھتی ہوں۔

* لوگوں کو میری بھیجی ہوئی کھانوں کی تراکیب پسند آرہی ہیں، مَیں لوگوں کے خطوط میں پڑھتی رہتی ہوں۔ اِسی لیے آج ایک اور ترکیب ای میل کر رہی ہوں، امید کرتی ہوں کہ یہ بھی پسند آئے گی۔ (قراۃالعین فاروق، حیدرآباد)

* ’’اسلامی دنیا میں جمہوریت‘‘ سے متعلق منور مرزا کا تجزیہ لاجواب تھا۔ اسلامی ممالک میں جمہوریت اسی لیے نہیں پنپ سکی کہ مسلمان صدیوں تک تو خلافت و بادشاہت کے زیرِ اثر رہے۔ اور اب بھی مسلم ممالک میں جس قسم کی جمہوریت نافذ ہے، اِسے’’کنٹرولڈ جمہوریت‘‘ ہی کہا جاسکتا ہے (محمّد کاشف، کراچی)

ج: جی… ؎ مستند ہے ’’آپ کا‘‘ فرمایا ہوا۔

قارئینِ کرام کے نام !

ہمارے ہر صفحے ، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ہمارا پتا یہ ہے۔

نرجس ملک

ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘

روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی

sundaymagazine@janggroup.com.pk