کراچی(نیوز ڈیسک)بھارتی حکومت نے پارلیمنٹ میں مسلم وقف بورڈ سے متعلق ایک متنازع ترمیمی بل پیش کردیا ہے جس کا مقصد مسلم وقف بورڈ کی اراضی پر قبضہ کرنا ہے ، مسلم پرسنل لاء بورڈ نے فیصلے کیخلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کردیا ہے، مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد فضل الرحیم مجددی کہنا ہے کہ متنازع ترمیمی بل میں متنازع ترمیم میں بورڈ میں مسلمان ہونے کی شرط ۜکاخاتمہ، دو ہندوئوں کی لازمی شرکت، انتخاب کے بجائے نامزدگی شامل ہوگی ، وقف املاک کے فیصلے کا اختیار بھی مسلم بورڈ کے بجائے حکومت کو ہوگا، نو مسلم اپنی املاک فوری وقف نہیں کرسکے گا ، اپنی املاک وقف کرنے کیلئےپانچ سال باعمل مسلمان ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ انہون نے کہا کہ اگر یہ متنازع ترامیم واپس نہ لی گئیں تو وہ ملک گیر احتجاج کریں گے ، رہنما مسلم پرسنل لاء کمال فاروقی نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا مسلمانوں کو کوبھی ہندوؤں کے مندروں کے بورڈ میں بھی ایسا ہی ریزرویشن ملے گا؟ ۔ تفصیلات کے مطابق مودی حکومت نے مسلمانوں کی وقف کردہ زمین کے انتظام میں زبردست تبدیلیوں کا منصوبہ بنایا گیا ہے ، جس سے حکومت اور مسلمانوں کے درمیان ممکنہ طور پر کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔زمین اور جائیدادیں وقف کے زمرے میں آتی ہیں، اور مذہبی، تعلیمی یا خیراتی مقاصد کے لیےکسی مسلمان کی جانب سے عطیہ کی گئی ہیں، ایسی اراضی کو منتقل یا فروخت نہیں کیا جا سکتا۔حکومت اور مسلم تنظیموں کا اندازہ ہے کہ وقف بورڈ کے پاس تقریباً8لاکھ 51ہزار5سو35 جائیدادیں اور 9لاکھ ایکڑ اراضی ہے، جس سے وہ بھارت کے سرفہرست تین بڑے زمینداروں میں شامل ہوتےہیں۔وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کا پیش کردہ وقف (ترمیمی) بل میں مرکزی وقف کونسل اور وقف بورڈ میں غیر مسلم اراکین کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے اور اس سےحکومت متنازع وقف املاک کی ملکیت کا تعین کرنے کا اختیار مل جائے گا۔یہ قانون مسلم برادری اور مودی حکومت کے درمیان کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔ حزب اختلاف کے قانون ساز اور اسلامی گروپ اس بل کو مسلمانوں کے اثاثوں کو اپنےتحفظ میں لینے اور بھارتی آئین کے تحت ان کے املاک کے حقوق کو کمزور کرنے کے منصوبے کے طور پر دیکھتے ہیں۔بل پیش کرنے والےاقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ یہ بدعنوانی، بدانتظامی کو ختم کرے گا اور ملکیت کے اصولوں کی جانچ پڑتال کرے گا ،جو بڑے پیمانے پر چند مسلم خاندانوں اور اشرافیہ گروپوں کے زیر کنٹرول ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس بل کو مسلمانوں کی حامی اصلاحات کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ایوان زیریں میں حکمران اتحاد اور حزب اختلاف کے قانون سازوں کا ووٹ بل کی قسمت کا فیصلہ کرے گا۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے عہدیدار کمال فاروقی نے سوال کیا کہ وقف بورڈ میں غیر مسلموں کے لیے دو عہدے مخصوص کرنا ٹھیک ہے لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کوبھی ہندوؤں کے مندروں کے بورڈ میں بھی ایسا ہی ریزرویشن ملے گا؟۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت اسلامی لینڈ بینک کواپنے قبضے میں کرنا چاہتی ہے اور انہیں ہمارے اداروں کو کمزور کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔حکومت کی جانب سے مقرر کردہ سچر کمیٹی کی 2006 کی ایک رپورٹ میں مسلم برادری کے وقف بورڈز کے معائنے اور زیادہ منافع بخش جائیدادوں کی نگرانی پر زور دیا گیا تھا۔پیو ریسرچ سینٹر نے پیش گوئی کی ہے کہ بھارت 2050 تک دنیا کی سب سے زیادہ مسلم آبادی والا ملک ہوگا۔ اس کے باوجودبھارت کی آبادی کا تقریباً 13 فیصد مسلم برادری تعلیم، روزگار اور سیاسی نمائندگی جیسے اشارے پر قومی اوسط سے پیچھے ہے۔مسلم گروپوں کا الزام ہے کہ مودی کی حکمران جماعت اور سخت گیر ہندو تنظیموں نے 2014 سے اسلام مخالف پالیسیوں ،تشددکو فروغ اور مسلمانوں کی زیر ملکیت املاک کو مسمار کیا ہے۔جبکہ مودی اور ان کی پارٹی کے عہدیدار مذہبی امتیاز کے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔