میہڑ/پڈعیدن/ڈگری(نامہ نگاران)عید کے دوران بھی دریائے سندھ سے متنازع کینال نکالنے اور زمینیں فارمنگ کمپنی کو دینے کیخلاف احتجاج جاری ہے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے اقتدار کے لالچ میں سندھ سے دشمنی کی ہے ۔ فیڈریشن کی مظبوطی کیلئے کینال نکالنے کا منصوبہ روکا جائے۔تفصیلات کے مطابق دریائے سندھ سے 6کینال نکالنے اور زمینیں کارپوریٹ فارمنگ کمپنی کو دینے کیخلاف جی ڈی اے،آبادگاروں،کسانوں قومی عوامی تحریک، سوسائٹی سمیت مختلف تنظیموں کی جانب 7الگ الگ احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں جبکہ ریلیوں کے شرکاء نے 10کلومیٹر تک پیدل مارچ بھی کیا گیا ۔ گاؤں بیٹو جتوئی سے جی ڈی اے کے مرکزی رہنما سابق صوبائی ایم پی اے احسان علی جتوئی، انجنیئر ظفر علی جتوئی اور سابقہ ضلعی ناظم کریم علی جتوئی کی قیادت میں جبکہ قومی عوامی تحریک کی طرف سے مرکزی رہنما منور جتوئی ایڈوو کیٹ، ضلعی صدر میر کہوسو اور علی نواز سومرو،صوفی جماعت اور جھتیال اتحاد کی جانب اور دیگر سول سوسائٹی کی طرف سے7احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں مقرین نے خطاب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی ہماری زندگی ہے۔ پانی سے ہی جینا ہے۔ دریائے سندھ سے کینال نکالنے سے سندھ کی تباہی ہوجائیگی زمینیں کارپوریٹ فارمنگ کمپنی کو دینے کے بجائے کسانوں کو دی جائیں۔ دریائے سندھ سے کینال نکالنے نہیں دینگے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اقتدار کےلالچ میں سندھ سے دشمنی کی ہے۔ فیڈریشن کی مظبوطی کیلئے کینال نکالنے کا منصوبہروکا جائے۔ ورنہ احتجاج جاری رہیگا۔ پڈ عیدن سے نامہ نگار کے مطابق دریائے سندھ سے چھ کینالز نکالنے کیخلاف راجپر اتحاد،پی پی شہید بھٹو،جسقم،پی ٹی آئی،عوامی تحریک سمیت دیگر پارٹیوں کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں خشک فصلیں اٹھا کر انوکھا احتجاج کیا، شرکاء کی شدید نعرے بازی کر رہے تھے، متنازعہ کینالز منصوبہ سے قبل ہی سندھ میں پانی کی شدید قلت سے فصلیں خشک ہوگئی، راجپر مرکزی تنظیم کے رہنما رئیس شفیق میاں راجپر، رئیس حاجی عبدالرحمن راجپر، پی پی شہید بھٹو سچل راجپر، ساجد راجپر، ستار سونارا، امداد مغل، رمضان آرائیں، پی ٹی آئی کے رہنما امتیاز راجپر، عوامی تحریک کے عبدالسلام سومرو دیگر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھو سے کینالز نکال کر سندھ کو خشک اور بنجر بنانے کی سازش کی جا رہی ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ سندھ کا بچہ بچہ کینال کے خلاف سراپا احتجاج ہے وفاق کینالز منصوبہ واپس لے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ متنازعہ کینالز منصوبہ رد نہ کیا گیا تو سندھ میں احتجاجی تحریک مزید تیز کی جائیگی۔ ڈگری سے نامہ نگار کے مطابق عید کے دو دنوں کے دوران متعدد تنظیموں کی جانب سے دریائے سندھ سے چھ نئے کینال نکالنے کے خلاف احتجاجی ریلیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ مقررین نے کہا کہ یہ سندھ کے خلاف سازش ہے اور سرسبز سندھ کو تباہ و برباد اور ویران کرنے کا منصوبہ ہے۔ سندھ کے باشندے ان کینال کو کسی صورت نہیں بننے دیں گے حکومت فوری طور پر ان منصوبوں کو ختم کرنے کا اعلان کرے ورنہ سندھ میں شروع یہ احتجاج شدت اختیار کر جائے گا۔ خیر پور ناتھن شاہ سے نامہ نگار کے مطابق میں بھی عوامی تحریک اور سندھیانی تحریک کا نئے کینال منصوبے کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ سجاول سے نامہ نگار کے مطابق دیائے سندھ سے نئے کینال نکالنے کے خلاف احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔ ٹنڈو الہ یار سے نامہ نگار کے مطابق نئے کینال نکالنے اور سندھ کی زمینیں فارمنگ کمپنیوں کو دینے کے خلاف احتجاج کا سلسلہ برقرار ہے۔ میرپورخاص سے نامہ نگار کے مطابق سندھ سے 6نئی کینالز نکالنے کے منصوبےکے خلاف میرپورخاص میں پیپلز پارٹی کے زیراہتمام مشعل بردار ریلی نکالی گئی جس میں مقامی عہدیداروں اور کارکنوں کے علاوہ خواتین نے بڑی تعدادمیں شرکت کی۔