پیرس (اے ایف پی) سائنس دانوں نے گزشتہ روز کہا کہ انہوں نے دنیا کا سب سے چھوٹا پیس میکر تیار کیا ہے، یہ دل کی دھڑکن کا عارضی ریگولیٹر ہے ،جو چاول کے ایک دانے سے بھی چھوٹا ہے، جسے تحلیل ہونےسے پہلےروشنی کے ذریعے جسم میں داخل اور کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔جب کہ ابھی یہ انسانوں پر تجربہ سے کئی برس دور ہیں، وائرلیس پیس میکر کو ایک انقالب پذیر پیش رفت کے طور پر سراہا گیاہے، جو طب کے دیگر شعبوں میں پیشرفت کا باعث بن سکتا ہے۔دنیا بھر میں لاکھوں افراد میں مستقل پیس میکر لگا ہواہیں، جو قلب کو بجلی کی دھڑکنوں سے متحرک کرتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ معمول کے مطابق دھڑکتے رہیں۔نئی ڈیوائس پر تحقیق کرنے والوں کی امریکی کی زیر قیادت ٹیم نے کہا کہ پیدائشی طور پر دل کی خرابیوں کے ساتھ پیدا ہونے والے ایک فیصد بچوں کی مدد کےجذبے نے انہیں تحریک دی، جنہیں سرجری کے بعد ایک ہفتے میں عارضی پیس میکر کی ضرورت ہوتی ہے۔پیس میکر کو دل کی سرجری سے صحت یاب ہونے والے افراد کے دل کی معمول کی دھڑکن بحال کرنے میں بھی مدد کر سکتا ہے۔فی الحال، عارضی پیس میکرز کیلئے دل کے پٹھوں پر الیکٹروڈ سلائی کرنے کے لیے سرجری کی ضرورت ہوتی ہے، جس میں مریض کے سینے پر ایک طاقتور ڈیوائس سے تاریں جڑتی ہیں۔جب پیس میکر کی مزید ضرورت نہیں رہتی ہے، تو ڈاکٹر یا نرسیں تاروں کو کھینچ لیتے ہیں، جو بعض اوقات نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔یاد رہے کہ چاند پر چلنے والے پہلے شخص نیل آرمسٹرانگ کی موت 2012 میں عارضی پیس میکر کے ہٹائے جانے کے بعد اندرونی طور پر خون بہنے سے ہوئی تھی۔لیکن نیا تیار کردہ پیس میکر وائرلیس ہے۔ اور صرف ایک ملی میٹر موٹی اور 3.5 ملی میٹر لمبا سرنج کی نوک میں فٹ ہو سکتاہے۔اسے جسم میں تحلیل ہونے کے لیے بھی ڈیزائن کیا گیا ہے جب مزید ضرورت نہ ہو،تاکہ مریضوں کی ناگوار سرجری سے بچا جائے۔جرنل نیچر میں ڈیوائس کی وضاحت کرنے والے ایک مطالعہ کے مطابق، پیس میکر مریض کے سینے پر پہننے والے نرم پیچ سے منسلک ہوتا ہے۔جب پیچ بے ترتیب دل کی دھڑکنوں کا پتہ لگاتا ہے، تو اس سے خودبخود روشنی نکلتیہے جو پیس میکر کو بتاتی ہے کہ اسے دل کی کس دھڑکن کو متحرک کرنا چاہیے۔پیس میکر گیلوینک سیل سے چلتا ہے، جو جسم کے سیالوں کو کیمیائی توانائی کو برقی دالوں میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے جو دل کو متحرک کرتی ہے۔