لندن (جنگ نیوز) مردوں اور خواتین کے ٹاپ 20 ٹینس کھلاڑیوں نے چاروں گرینڈ سلمز ٹورنامنٹس کے منتظمین سے انعامی رقم بڑھانے کا مطالبہ کردیا۔ فرانسیسی اخبار کے مطابق کھلاڑیوں نے خط کے ذریعے آسٹریلین اوپن، فرنچ اوپن، ومبلڈن اور یو ایس اوپن کی آمدنی میں سے زیادہ شیئر مانگا ہے ۔ ورلڈ نمبر 11 ایما ناوارو نے غیر منصفانہ معاوضوں کو اس خط پر اپنے دستخط کرنے کی وجہ قرار دیا۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے دوسرے کھلاڑیوں سے اس بارے میں تھوڑی بات کی اور مجھے لگا کہ دستخط کرنا ٹھیک ہے ۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ اچھا مقصد ہے کہ ہم سب کھلاڑی ایک ساتھ آئیں اور اس بات کو یقینی بنائیں ۔ پچھلے سال کے ومبلڈن کی انعامی رقم 50 ملین پاؤنڈ تھی ۔ اس 10 سالہ عرصے میں پہلے راؤنڈ کے ہارنے والے کھلاڑیوں کے لیے انعامی رقم 27000 پاؤنڈ سے بڑھ کر 60000 پاؤنڈ ہوگئی تھی۔ لیکن کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس کا کہیں زیادہ حصہ ملنا چاہیے۔ جولائی 2023 تک کی مدت میں، آل انگلینڈ کلب کا ٹرن اوور 380 ملین پاؤنڈ تھا۔ لیکن چیمپئن شپ چلانے کے اخراجات نکالنے کے بعد منافع صرف 54 ملین پاؤنڈ کے قریب تھا۔ اس میں سے تقریباً 49 ملین پاؤنڈ لیزن ٹینس ایسوسی ایشن کو منتقل کر دیے گئے۔ اخراجات میں انعامی رقم، 8000 سے زائد عملے کی تنخواہیں، مقام کی تیاری اور دیگر گراس کورٹ ایونٹس کی حمایت شامل ہیں۔ اولمپک چیمپئن ژینگ قن ون نے کہا کہ انعامی رقم میں اضافہ خاص طور پر کم رینک والے کھلاڑیوں کے لیے خوش آئند ہوگا، جو دوسرے اوقات میں اپنی روزمرہ کی زندگی گزارنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ چینی ورلڈ نمبر آٹھ نے مزید کہا کہ ہم جو کچھ بھی کر سکتے ہیں کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب پروفیشنل ٹینس پلیئرز ایسوسی ایشن نے دو ہفتے قبل ٹینس کے حکومتی اداروں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی تھی ۔ یہ مقدمہ جو نوواک جوکووچ کی مشترکہ قائم کی گئی کھلاڑیوں کی تنظیم نے دائر کیا ہے ۔