• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹیرف پر امریکی نمائندے سے ملاقات میں مثبت پیشرفت ہوئی، پاکستانی سفیر امریکا

اوکلاہوما(رپورٹ: راجہ زاہد اختر خانزادہ) امریکہ کی ریاست اوکلاہوما میں پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم “اپنا” کے اسپرنگ کنونشن کے موقع پر امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے جنگ سے خصوصی گفتگو میں امریکہ اور پاکستان کے تجارتی تعلقات، داخلی سیاست، سوشل میڈیا پر گردش کرتی خبروں اور دیگر اہم امور پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اسسٹنٹ ٹریڈ رپریزنٹیٹو سے ملاقات کی ہے جس میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے،، انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے جو نیا ٹیرف سسٹم متعارف کروایا گیا ہے، وہ ایک باقاعدہ فارمولے کے تحت ہے، جو تمام ممالک پر یکساں اصولوں کی بنیاد پر لاگو ہوتا ہے، تاہم ہر ملک کی برآمدات، مصنوعات اور تجارتی حجم مختلف ہونے کی وجہ سے اس پالیسی کے اثرات بھی ہر ملک پر مختلف ہوتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت دونوں پر یہ ٹیرف مختلف شرحوں سے لاگو ہوئے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ امریکہ ایک وسیع و عریض منڈی ہے ،جس کی طلب کو کوئی ایک ملک یا چند ممالک بھی مکمل طور پر پورا نہیں کر سکتے۔ جنوبی ایشیائی ممالک، خصوصاً پاکستان اور بھارت، اس طلب کو پورا کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔‎سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ یہ امریکی حکومت، بالخصوص صدر کا اختیار ہوتا ہے کہ وہ مقامی صنعت کو فروغ دے کر زیادہ سے زیادہ روزگار پیدا کریں۔ اسی مقصد کے تحت یہ ٹیرف متعارف کروائے گئے ہیں۔ تاہم، پاکستان اس معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے امریکی اسسٹنٹ ٹریڈ رپریزنٹیٹو سے ملاقات کی ہے جس میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے، اور پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ ایسی نرمی حاصل کی جائے جو دونوں ممالک کے لیے تجارتی لحاظ سے مفید ہو۔‎بھارت اور پاکستان کے درمیان تجارتی پالیسی کے حوالے سے تقابلی جائزے کو انہوں نے غیر موزوں قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر ملک کی اپنی مخصوص مصنوعات، پالیسیز اور تجارتی حکمت عملی ہوتی ہے۔ اگرچہ بھارت آئی ٹی کے شعبے میں ایک مستحکم حیثیت رکھتا ہے، پاکستان بھی اب ایک ابھرتا ہوا مثبت کھلاڑی بن کر سامنے آ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی پیداواری صلاحیت، قومی مفاد اور مہارت کو مدِنظر رکھتے ہوئے عالمی سطح پر تعلقات قائم کرے، نہ کہ یہ سوچے کہ دوسرے ممالک کیا کر رہے ہیں۔ پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے جس کی آبادی پچیس کروڑ سے زائد ہے، اور اس کی پالیسیاں اس کی اپنی قومی ضرورتوں کے مطابق ہونی چاہئیں۔‎امریکہ میں پی ٹی آئی سے منسلک افراد کی سرگرمیوں اور قانون شکنی کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ قانون کی پاسداری لازمی ہے۔ اگر کوئی شخص امریکی یا کسی بھی ملک کے قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس سے قانون کے طابق ہی نمٹا جانا چاہیے۔ ان کا مؤقف تھا کہ بطور سفیر وہ بین الاقوامی اور داخلی قوانین کے احترام کو ضروری سمجھتے ہیں، اور یہی طرزِ عمل دنیا کو منظم اور پرامن سمت میں لے جا سکتا ہے۔‎پاکستانی سیاست کے اثرات اور امریکہ میں سرگرمیوں سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاست اس کا داخلی معاملہ ہے، اور ہر ملک کی طرح پاکستان کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے داخلی معاملات خود حل کرے۔

ملک بھر سے سے مزید