• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بچوں میں بڑھتا ’اسکرین ٹائم‘ اور دل کی صحت سے متعلق نئی تحقیق سے تشویشناک انکشافات

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق کے نتائج میں انکشاف ہوا ہے کہ بچوں اور کم عمر طالبِ علموں میں ہر اضافی گھنٹے کا غیر ضروری اسکرین ٹائم اِن کے دل اور معدے کی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، خاص طور پر جب اِن کی نیند بھی متاثر ہو۔

یہ مطالعہ ’جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن‘ میں شائع کیا گیا ہے۔

تحقیق میں ڈنمارک کے دو بڑے گروپس کی بطور رضاکار معلومات اکٹھی کی گئیں جن میں ایک ہزار سے زائد ماؤں اور بچوں پر مشتمل جوڑے شامل تھے۔

اسکرین ٹائم والدین یا بچوں کی رپورٹنگ پر مبنی تھا جبکہ نیند اور جسمانی سرگرمیوں کو جدید آلات کے ذریعے مانیٹر کیا گیا۔ 

تحقیق کے نتائج کے مطابق ہر اضافی گھنٹے کے اسکرین ٹائم سے بچوں (6 سے 10 سال) میں کارڈیو میٹابولک رِسک تقریباً 0.08 پوائنٹ اور نوعمر طالبِ علموں میں (18 سال) میں 0.13 پوائنٹ بڑھ گیا تھا۔

کم نیند یا رات گئے جاگنے والے بچوں میں یہ خطرہ زیادہ شدت سے ظاہر ہوا۔

محققین نے خون میں 37 بائیو مارکرز کی ایک مخصوص ’اسکرین ٹائم فنگرپرنٹ‘ بھی دریافت کی جو میٹابولک تبدیلیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔

نوعمر بچوں میں آئندہ دس سال میں دل کے امراض کا خطرہ بھی بڑھا ہوا پایا گیا۔ اگرچہ یہ تحقیق یورپ میں کی گئی ہے لیکن اس کے نتائج دنیا بھر پر لاگو ہوتے ہیں۔

پاکستان  میں آن لائن کلاسز، موبائل فون اور گیمنگ کے بڑھتے رجحان کے باعث بچوں کا اسکرین ٹائم تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی نیند کی کمی، موٹاپا اور انسولین ریزیسٹَنس (ڈائیبٹیز ٹو)  جیسے مسائل بھی عام ہو رہے ہیں۔

بچوں کے دل کی حفاظت کے لیے عملی تجاویز

ماہرین کی جانب سے بچوں کے والدین کو تجویز دی گئی ہے کہ روزانہ اسکرین ٹائم کی حد مقرر کریں، اسکول سے ہٹ کر صرف دو گھنٹے یا اس سے بھی کم  وقت بچے موبائل کا استعمال کریں۔

اسکرین فری زون بنائیں، بچوں کو کھانے کی میز پر مصروف رکھیں، سونے سے ایک گھنٹہ پہلے اسکرین سے پرہیز کروائیں۔

نیند کو ترجیح دیں، بچوں کے لیے باقاعدہ سونے جاگنے کا وقت طے کریں اور بیڈ روم میں موبائل یا ٹی وی نہ رکھیں۔

جسمانی سرگرمیاں بڑھائیں، باہر کھیلنے، رسی کودنے، یا گھر پر ہی مختلف ورزشوں جیسی سرگرمیوں کو معمول بنائیں۔

والدین خود مثال قائم کریں، بچوں کے سامنے فون کم استعمال کریں اور فیملی کو وقت دیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں پر صرف پابندی نہ لگائیں بلکہ آسان زبان میں سمجھائیں اور ان سے ہر موضوع پر کھل کر بات کریں۔

صحت سے مزید