کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے کمسن بچی کے مبینہ اغوا اور شادی سے متعلق آئندہ سماعت پر چائلڈ میرج سے قانون میں ترمیمی رپورٹ طلب کرلی۔ ہائی کورٹ میں کمسن بچی کے مبینہ اغوا اور کم عمری میں شادی سے متعلق مدعی مقدمہ کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ قانون میں ترمیم کب ہوگی سیکریٹری پارلیمنٹ سے پوچھنا پڑے گا۔ لیکن بہت جلد اس قانون میں ترمیم ہونے والی ہے۔ ترمیم کے بعد کم عمری میں شادی کے بعد ساتھ میں رہنا بھی چائلڈ ابیوز ہے۔ اس سے متعلق واضح قانونی ترمیم ہونا ابھی باقی ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ قانون موجود ہے کہ 18سال سے کم عمر کی شادی غیر قانونی ہے۔ درخواست گزار کی بیٹی 15سال کی ہے۔ بچی اس وقت مبینہ شوہر کے ساتھ پنجاب میں ہے۔ جب تک بچی 18 سال کی نہیں ہوتی مبینہ شوہر کے ساتھ بھی نہیں رہ سکی۔