دبئی (عبدالماجد بھٹی) سپر فور میں پاکستانی ٹیم آخری اور اہم ترین میچ بنگلہ دیش کے خلاف جمعرات کو دبئی اسٹیڈیم میں کھیلے گی ۔ پاکستان کو فائنل کا دروازہ کھولنے کیلئے ہر صورت میں ٹائیگرز کو زیر کرنا ہوگا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان اب تک 16ٹی ٹوئنٹی انٹر نیشنل ہوئے ہیں، پاکستان نے14اور بنگلہ دیش نے دو جیتے ہیں۔ پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا اور صائم ایوب فارم میں نہیں، میچ میں حسن نواز کی شمولیت کا امکان ہے۔ فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کا کہنا ہے کہ فائنل میں بھارت ہو یا کوئی اور ٹیم یقینی طور پر ہم ہی جیتیں گے۔ حالیہ مہینوں میں سلمان آغا کی کپتانی اور مائیک ہیسن کی کوچنگ میں دونوں ٹیموں کے درمیان چھ ٹی ٹوئنٹی ہوئے ہیں جن میں چار پاکستان اور دو میں بنگلہ دیش نے اپنے نام کیے ہیں ۔ منگل کو پاکستان نے سری لنکا کو پانچ وکٹوں سے ہرا یا۔80رنز پر پانچ کھلاڑی آؤٹ ہونے کے بعد پلیئر آف دی میچ حسین طلعت اور محمد نواز نے بغیر کسی مزید نقصان کے 12 گیند قبل ہی مطلوبہ ہدف حاصل کر لیا۔ سپر4 مرحلے کی ٹاپ 2 ٹیمیں فائنل کھیلیں گی ۔ سری لنکا کے خلاف پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹر نیشنل کھیلنے والے شاہین آفریدی نے تین وکٹیں حاصل کرکے سری لنکن بیٹنگ کو مشکلات سے دوچار کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ میچوں بڑی ٹیموں سے نہیں جیت پائے لیکن فتوحات حاصل کیں، ایشیاکپ جیتنے آئے ہیں۔ میں چاہتا ہوں تمام 5 فاسٹ بولرز ٹیم میں کھیلیں، ٹی ٹوئنٹی میں ایک دو کھلاڑی پرفارمنس دیتے ہیں، سب ایک ساتھ نہیں۔ پاکستان کے فاسٹ بولرز جارحانہ مزاج کے ہیں، وکٹیں لینا اور جارحانہ مزاج سے بولنگ کرنا ہمارا کام ہے لیکن دبئی میں فاسٹ بولرز کو اتنی سوئنگ نہیں ملتی۔ ابھی فائنل تک نہیں پہنچے جب پہنچیں گے تب دیکھیں گے ۔ میرا کام ٹیم کا مورال بلند رکھنا اور کرکٹ کھیلنا ہے۔ جو کردار ملے گا ٹیم کیلئے سو فیصد دوں گا بیمار ہوں یا انجرڈ، اپنی ٹیم کیلئے ہر وقت تیار رہوں گا، محنت مکمل کریں گے ۔ انہوں نے کہا ایسا نہیں کہ محمد حارث ، صائم ایوب کو بیٹنگ نہیں آتی، ماضی میں پرفارمنس دے چکے ہیں، حسین طلعت بینچ پر انتظار کر رہے تھے، موقع ملا تو کارکردگی دکھائی۔