اسلام آباد (قاسم عباسی) مارچ 2023میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے سیمی فائنل سے قبل ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان کو مبینہ طور پر فرنچائز انتظامیہ اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ انہوں نے ایک متبادل (سروگیٹ) جوئے کی کمپنی کا لوگو پہننے سے انکار کر دیا تھا۔یہ تنازعہ اس وقت کی یاد دلاتا ہے جب بڑے کھلاڑیوں اور پی سی بی کے درمیان جوئے کی سے منسلک اسپانسرشپ پر اختلافات سامنے آئے تھے۔ اسی سال دی نیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ بابر اعظم اور محمد رضوان دونوں نے جوئے کی کمپنیوں کی بھاری رقوم کی پیشکشیں ٹھکرا دی تھیں، جبکہ پی سی بی نے مبینہ طور پر رضوان کو ہدایت کی تھی کہ وہ فلسطینیوں کے حق میں کیے گئے ایک ٹویٹ کو حذف کریں، جو انہوں نے ورلڈ کپ سنچری کے بعد پوسٹ کیا تھا۔اندرونی ذرائع کے مطابق ملتان سلطانز کے اس وقت کے جنرل مینیجر حیدر اظہر نے رضوان کو خبردار کیا تھا کہ معاہدے کی خلاف ورزی پر انہیں بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن رضوان نے جواب دیا کہ وہ یہ جرمانہ برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں کپتانی سے ہٹانے یا اچانک انجری کا بہانہ بنا کر سیمی فائنل سے باہر کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔اطلاعات کے مطابق دباؤ صرف فرنچائز تک محدود نہیں تھا۔ ایک معتبر پی سی بی ذریعے نے دی نیوز کو تصدیق کی کہ بورڈ نے بھی ملتان سلطانز پر زور دیا کہ رضوان اسپانسر شپ کے تقاضوں پر عمل کریں کیونکہ انکار سے اسپانسر کے لیے "برا تاثر" پیدا ہو سکتا ہے۔ یہاں تک کہ انہیں مذہبی دلائل سے قائل کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں۔تاہم، اس وقت کے ملتان سلطانز کے مالک، عالمگیر خان ترین، نے مداخلت کرتے ہوئے واضح کیا کہ جو بھی محمد رضوان چاہیں گے وہی ہوگا۔ اس کے بعد رضوان کو منانے کی تمام کوششیں ختم ہو گئیں۔یہ واقعات متعدد ذرائع نے دی نیوز کو تصدیق کیے۔ اس حوالے سے حیدر اظہر کا کہنا تھا کہ پی سی بی حکام رضوان کے مؤقف پر "فکرمند" تھے مگر انہوں نے کسی قسم کی دھمکی دینے کی تردید کی۔ "میں نے کبھی انہیں مجبور نہیں کیا، بس معاہدے کی وضاحت کی تھی۔ میں اپنے پسندیدہ کپتان کو سیمی فائنل سے پہلے کیوں ڈراپ کرتا؟"پی سی بی نے بھی باضابطہ ردعمل دیتے ہوئے کہا: "پی سی بی نے کبھی رضوان یا کسی دوسرے کھلاڑی کو کوئی لوگو پہننے پر مجبور نہیں کیا۔ یہ معاملہ کھلاڑی اور اس کی فرنچائز کے درمیان ہے۔"