اسلام آباد (ماریانہ بابر، اے پی پی) پاکستان اور یورپ نے جی ایس پی پلس انتظامات کے ذریعے تجارت وسرمایہ کاری کے فروغ پر اتفاق کیا ہے۔
استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے تعاون کو توسیع دینے پر اتفاق، عالمی چیلنجز کے لیے مربوط نکتہ نظر کی اہمیت پر زور، یہ پیش رفت پاکستان کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس کیلئے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان 7ویں اسٹرٹیجک ڈائیلاگ کے برسلز میں انعقاد کے موقع پر ہوئی ہے۔
ڈائیلاگ کی مشترکہ صدارت نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ اور نائب صدر کایا کالس نے کی، جی ایس پی پلس مانیٹرنگ مشن کے رواں سال کی آخری سہ ماہی میں دورے کا امکان ہے۔
یورپی مشن پاکستان میں انسانی حقوق، اقلیتی تحفظات، سزائے موت، توہینِ مذہب کے قوانین، جبری گمشدگیوں، خواتین کے حقوق، چائلڈ لیبر اور جبری مشقت سمیت دیگر شعبوں میں تعمیل کا جائزہ لے گا، خصوصی درجہ ملنے کے بعد پاکستان کو ڈیوٹی فری یا انتہائی کم ڈیوٹی برآمدات کے فوائد حاصل ہوں گے، مذاکرات میں روزگار کی تخلیق اور باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی مواقع کو مزید وسعت دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا، اس کے علاوہ افغانستان، مشرق وسطیٰ اور علاقائی وعالمی پیشرفت پر بھی گفتگو کی۔
پاکستانی وفد میں سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ، یورپی یونین، بیلجیئم اور لکسمبرگ کے لیے پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی اور سفارتخانے کے سینئر حکام بھی شامل تھے۔
دفتر خارجہ نے ایک بیان میں ڈار- کالاس ملاقات کی تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ اس ملاقات نے حالیہ اعلیٰ سطحی مصروفیات اور مسلسل ادارہ جاتی تعاملات کی مثبت رفتار کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان- یورپی یونین تعلقات کے مکمل اسپیکٹرم کا جامع جائزہ فراہم کیا۔
سفارتی ذرائع نے’دی نیوز‘ کو بتایا ہے کہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے حوالے سے ایک مشترکہ بیان بھی جاری ہونے کی توقع ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس میں فریقین نے مشترکہ اقدار، اقوام متحدہ کے چارٹر، کثیرالجہتی، باہمی احترام اور تعاون کے اصولوں پر مبنی وسیع البنیاد شراکت داری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات بشمول یورپی یونین کے جی ایس پی پلس انتظامات کے ذریعے پائیدار ترقی، برآمدی تنوع، روزگار کی تخلیق اور باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی مواقع کو مزید وسعت دینے کی اہمیت پر زور دیا۔
اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے جنوبی ایشیا، افغانستان، مشرق وسطیٰ اور وسیع تر جغرافیائی سیاسی پیشرفت سمیت علاقائی اور عالمی پیش رفت پر خیالات کے تبادلے کا موقع بھی فراہم کیا۔
دونوں فریقوں نے امن، استحکام، پائیدار ترقی اور موسمیاتی تبدیلی اور رابطے جیسے عالمی چیلنجز کے لیے مربوط نکتہ نظر کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان کے تحت تعاون کو مضبوط بنانے، جاری بات چیت پر کام کو آگے بڑھانے اور آنے والے سالوں میں تعاون کو بڑھانے کیلئے ٹھوس راستوں کی نشاندہی کرنے پر اتفاق کیا۔