کراچی (ٹی وی رپورٹ) پچیس نومبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے سینئر صحافیوں سے ملکی سلامتی کے امور پر گفتگو کی جس پر جیونیوز کی خصوصی نشریات میں گفتگو کرتے ہوئے دفاعی تجزیہ کاروں بریگیڈیئر (ر) ارشد ولی، ارشد عزیز ملک، میجر جنرل (ر) زاہد محمود اور شاہد رند کا کہنا تھا کہ افغانستان میں غیر مستحکم حکمرانی پاکستان کے لئے بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابی تب ہی ممکن ہے جب وفاق اور صوبے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں۔ پولیس سول انتظامیہ اور انسداد دہشت گردی کے اداروں کو مضبوط کئے بغیر یہ جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ ایک متحد قومی حکمت عملی ہی پاکستان کو اس چیلنج سے نکال سکتی ہے۔دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) راشد ولی نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر مسلسل مختلف فورمز پر یہ چیزیں سامنے لارہے ہیں افغانستان میں اس وقت ایک ایسی حکومت ہے جس کا کنٹرول اس کے علاقے میں نہیں ہے اور پاکستان اس سے متاثر ہو رہا ہے۔ اگر وفاقی حکومت کسی صوبے سے سیاسی اختلافات رکھتی ہے تو فی الحال اس کو ایک طرف رکھ کر ساتھ چلنا چاہئے کیوں کہ اس وقت کسی قسم کا خلاء مناسب نہیں ہوگا پچھلے چند ہفتوں سے پاکستان کی ان کے خلاف کامیابی ہو رہی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے جو اسٹرٹیجی اپنائی ہے وہ ان سے بہتر ہے مگر ا سکے لئے ضروری ہے کہ پولیس اپنا کردار ادا کرے انسداد ہشت گردی کا ڈپارٹمنٹ مضبوط ہونا چاہئے سول ایڈمنسٹریشن کو متحرک ہونا چاہئے جب تک مجموعی کوشش نہیں ہوگی تو کوئی ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیت سکتا۔ ارشد عزیز ملک نے کہا کہ ہمارا بارڈر 2640 کلو میٹر کا ہے اگر بیس سے پچیس کلو میٹر کے فاصلہ سے پوسٹیں ہیں تو یقینا یہ فاصلہ کافی ہے اور پھر دراندازی کی جاتی ہے افغانستان میں اس وقت تیس سے زائد تنظیمیں ہیں پوری دنیا میں جو دہشت گردی کرتی ہیں ۔اب افغانستان سے نہ صرف پاکستان بلکہ چین، تاجکستان بھی ناراض ہوچکا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان میں جو بھی آپریشن ہو رہے ہیں انہیں سیاسی سپورٹ حاصل ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں اس طرح سے تعاون نہیں کیا جارہا ہے۔ سہیل آفریدی جب سے وزیراعلیٰ بنے ہیں اپیکس کمیٹی کا اجلاس نہیں ہوا ہے۔ صوبائی حکومت کو وفاقی حکومت کے ساتھ بیٹھ کر اس معاملے کو حل کرنا چاہئے کیوں کہ جب تک صوبے کی سپورٹ نہیں ہوگی تو کس طرح کارروائی کی جائے گی۔ میجرجنرل (ر) زاہد محمود نے کہا کہ پاکستان نے تو بات چیت کی بہت سنجیدہ کوششیں کی ہیں ثالثین کو بھی شامل کیا گیا لیکن بدقسمتی سے اس وقت کابل میں جو نان اسٹیک ایکٹر کی رجیم ہے اسی پراکسی اسپانسر اسٹیٹ کی مدد بھی حاصل ہوچکی ہے ڈالر کی لت ہر چیز پر حاوی ہوچکی ہے۔ اس گٹھ جوڑ کو توڑنا ہوگا تب ہی معاملات درست ہونا شروع ہوں گے۔ شاہد رند نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں دہشت گردی کا چیلنج دو صوبوں میں زیادہ ہے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں جبکہ ماضی میں بلوچستان میں جو صوبائی حکومتیں رہی ہیں اس میں ہمیں اپروچ نظر آئی ہے جس کے تحت وہ موقف رکھتی تھیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ سیکیورٹی فورسز کی ذمہ داری ہے سیاسی حکومت کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے جبکہ موجودصوبائی حکومت نے اس کنفیوژن کو دور کر کے نیشنل ایکشن پلان کی طرف پر پہلا صوبہ بلوچستان ہے جنہوں نے آپریشن ترتیب دیا ہے جس کے نتیجے ہمیں نظر آرہے ہیں۔