اسلام آباد (ممتاز علوی، آن لائن) شیخ وقاص اکرم نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے الزامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے الزامات کو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان، ان کے خاندان اور پی ٹی آئی کے خلاف بے بنیاد، من گھڑت اور لغو قرار دیا۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ سقوط ڈھاکا سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔
دوسری جانب، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ اور اسد قیصر کا کہنا ہے کہ ملک کو جبر کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا، یہ وقت ہے کہ تمام ریاستی ادارے ایک ساتھ ملکر مکالمہ کریں، عمران خان کو رہا کرنا ملکی مفاد میں ہے، بانی سے ملاقاتوں کی بندش ملک کیلئے خطرناک ہے، ملک کی فلاح کیلئے جمہوریت اور آئین کی بالادستی ضروری ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے آج ایک غیر معمولی پریس کانفرنس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، پارٹی قیادت کیخلاف کارروائیوں اور جمہوریت پر بڑھتے ہوئے حملوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج پی ٹی آئی کی غیر معمولی پریس کانفرنس ہونے جا رہی ہے، ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینے نہیں جا رہے۔ کچھ باتوں کا عوام کو بتانا ضروری ہے کیونکہ ہم پر الزام لگائے جا رہے ہیں، ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ عوام کو بتانا ضروری ہے۔ 180 سیٹوں کے ساتھ 91 سیٹوں پر بیٹھے، ہمارے گھر کی سیٹ چلی گئی۔
انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین کا ہمیشہ سے یہ کہنا ہے کہ ملک بھی ہمارا اور فوج بھی ہماری، جنگ کے وقت میں ہم فوج کے ساتھ کھڑے رہے، ہم سمجھ رہے تھے کہ شاید چیزیں بہتری کی طرف چلے جائیں لیکن کل کی پریس کانفرنس کے بعد بہت افسوس ہوا جو الفاظ استعمال کیے گئے وہ نامناسب تھے، ہم یہ واضح کرنا چاہ رہے ہیں کہ شاید لوگ لڑوانا چاہ رہے ہیں، اپنی انا کو جانے دینا ہو گا، ایک دوسرے کو جگہ دینا ہو گی، ملاقات ہو نہیں رہی کیسز نہیں لگ رہے۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ ہم یہ بیانیہ لے کر جا رہے تھے کہ عمران خان کو رہا کرو اب ہم کہتے ہیں کہ ملاقات کروائو ، جو حالات چل رہے ہیں ان سے جمہوریت کی ایسی تیسی ہو جائے گی۔
پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ملک کو جبر میں دھکیلا گیا ہے اور ہمیشہ یہ کہا جاتا تھا کہ اس ملک کو ڈنڈے کی ضرورت ہے، پھر یہ ملک ترقی کرے گا، پھلے گا پھولے گا، کیا ہوا اس کے بعد ہم جانتے ہیں کراچی میں بوری بند لاشیں ملیں، ہر بار جابر ملک کو پہلے سے کمزور چھوڑ کر گیا۔