کراچی( اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت کو ہر ہفتے عوام پر پٹرول بم نہیں گرانے دیں گے۔یہ بات انھوں نے پیر ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔پریس کانفرنس میں امیر کراچی منعم ظفر خان، سیکریٹری کراچی توفیق الدین صدیقی، سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری اور سینئر ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات صہیب احمد بھی موجود تھے۔حافظ نعیم نے کہا کہ اگر اسرائیل ایران میں کامیاب ہوجاتاہے تو اس کی سرحد پاکستان تک آجائے گی، ہم محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا،جنرل پرویز مشرف نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی تذلیل کی،پاکستان کو ٹرمپ کے پیس بورڈ سے باہر آنا چاہیے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ شہباز شریف کو ٹرمپ کو نوبل پرائز کے لیے نامزد کرنے پر قوم سے معافی مانگنی چاہیے،جماعت اسلامی کے علاوہ کسی نے کراچی میں امریکی قونصل خانے سے فائرنگ اور 10افراد کی شہادت پر امریکی میرینز کی مذمت نہیں کی، اس وقت جو بھی شیعہ سنی تفریق پیدا کرنا چاہتا ہے یا ایران کے خلاف بات کررہا ہے وہ امریکہ اور اسرائیل کے ایجنٹ کا کردار ادا کررہا ہے، پوری پاکستانی قوم ایران کے ساتھ ہے، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جنگ بند ہونی چاہیے،چین اور روس کوبھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔خطے کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے ملک میں جو بحران پیدا ہوا ہے اس پر حکومت نے عوام پر تو پیٹرول کا بم گرادیا ہم خیبر پختونخواہ حکومت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جس نے2200 روپے ماہانہ نوجوانوں کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے، دس ارب روپے میں پوری پی آئی اے بیچ دی اور گیارہ ارب روپے کا مریم نواز کا نیا جہاز آگیا، ہمارا مطالبہ ہے کہ کسی بھی سرکاری افسر،ایم پی اے،ایم این اے،وزیر،مشیر کی گاڑی بھی 1300 سی سی سے بڑی نہیں ہونی چاہیے، حکومت کو سرکاری گاڑیوں کا فری پیٹرول بھی ختم کرنا چاہیے،جماعت اسلامی کے کسی بھی ٹاؤن چیئرمین، وائس چیئرمین جو سرکاری گاڑی استعمال کررہاہے، اگر 1300سی سی سے بڑی گاڑی موجود ہے توفوری طور پر اسے تبدیل کیا جائے، 1300سی سی سے بڑی گاڑی کوئی استعمال نہیں کرے گا،حکومت بتائے کہ جب پاکستان میں پیٹرول کا اسٹاک 28دن کا موجود تھا تو نرخوں میں اضافہ کیوں کیا گیا؟ تماشہ یہ ہے کہ20روپے لیوی میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے، اس موقع سے بھی فائدہ اٹھاکر ایف بی آر کی نااہلی کوختم کرنے کے بجائے عوام سے براہ راست ٹیکس وصول کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔