لاہور(آصف محمود بٹ )پاکستان میں بیوروکریسی اور سول سروسز کے دو اہم ترین اور اداروں کےسربراہ اورسینئر بیوروکریٹ نے ملک میں درپیش معاشی مشکلات اور بڑھتے ہوئے ماحولیاتی بحران کے تناظر میں ایک نمایاں مثال قائم کرتے ہوئے سرکاری امور کیلئے سائیکل کے استعمال کا آغاز کر دیا ہے۔ فرحان عزیز خواجہ کی سرکاری گاڑی چھوڑ کر سائیکل پر آمدورفت، ذمہ داری ،کفایت شعاری اور ماحول دوستی کا عملی پیغام ہے۔ڈی جی سی ایس اے فرحان عزیز خواجہ نے کہا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ زیر تربیت افسران یہ دیکھیں کہ عوامی خدمت کا تقاضا سادگی، ذمہ داری اور صحت مند زندگی کے اصولوں کو اپنانا بھی ہے۔ سول سروسز اکیڈمی (سی ایس اے) کے ڈائریکٹر جنرل اور نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی (این ایس پی پی) کے ریکٹر فرحان عزیز خواجہ نے اپنے روزمرہ سرکاری سفر اور کیمپس کے اندر نقل و حرکت کیلئے سرکاری گاڑیوں کے بجائے سائیکل کا استعمال شروع کر دیا ہے۔پاکستان سول سروسز اکیڈمی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ موجودہ معاشی حالات، ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ماحولیاتی آلودگی خصوصاً لاہور میں اسموگ کے سنگین مسئلے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد حکومت پاکستان کی کفایت شعاری پالیسیوں، گرین انرجی ٹرانزیشن اور پائیدار شہری ٹرانسپورٹ کے اہداف کی عملی حمایت کرنا بھی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ڈی جی سی ایس اے اور نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے ریکٹر فرحان عزیز خواجہ نے سرکاری گاڑی اور روایتی پروٹوکول کے بجائے سائیکل کو اپنی روزمرہ سرکاری آمدورفت کا ذریعہ بنا کر نہ صرف قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے کا پیغام دیا ہے بلکہ سول سروس میں ماحول دوست طرز فکر اور صحت مند طرز زندگی کے فروغ کی بھی بنیاد رکھی ہے۔