اِمزا کرن، حیدرآباد
’’چند سال قبل مَیں نے12ہزار روپے بطور قرض لیے تھے۔ سوچا تھا،جلد ہی چُکا دوں گی، مگر آج پانچ لاکھ کا بوجھ اُٹھائے پِھر رہی ہوں۔‘‘ ارشاد بی بی نے مٹی میں لت پت اپنی چادر کے پلّوسے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا۔ پھر کچھ توقف کے بعد روتے ہوئے بولیں۔ ’’یہ ہاتھ دیکھو… چھالے پڑگئے ہیں اِن پر۔ انگلیاں سُن ہوچُکی ہیں، مگر قرض ہے، کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی جا رہا ہے۔
ہم جیسے لوگوں کے پاس دوسرا کوئی راستہ بھی نہیں ہے۔ لگتا ہے، دُھواں، گرمی اور اَن گنت اینٹیں جوڑنے کی مشقّت ہمارے مقدر میں لکھ دی گئی ہے۔‘‘ یہ الفاظ برسوں سے بَھٹّا خِشت پر مزدوری کرنے والی ایک مجبور و لاچار خاتون کے ہیں۔
بدقسمتی سے جو مزدوردوسروں کے عالی شان گھروں کی تعمیر کے لیے بَھٹّوں پر اینٹیں تیار کرتے ہیں، وہ خود کُھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں اور جن ننّھے ہاتھوں، آنکھوں میں کتابیں اور خواب ہونے چاہیے تھے، وہ اینٹوں کا بوجھ اُٹھا رہے ہیں۔ کیا مزدوری ہی ان کا مقدّر ہے، کیا یہ نظام ان کو ہمیشہ غلام رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے، کیا ان کے پسینے کی قیمت محض چند روپے ہے یا ان کے خوابوں کی بھی کوئی وقعت ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں، جو برسوں سے ہمارے اذہان میں کلبلا رہے ہیں، مگر ان کا جواب آج تک نہیں ملا۔
یہ محنت کَش دِن بَھر کی محنت و مشقّت کے باوجود جُھلسا دینے والی گرمی، دُھویں کی کالک اور دُھول مٹی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، لیکن ان کے حقوق آج تک تسلیم نہیں کیے گئے۔ یہ مزدور روزانہ بارہ گھنٹے سے زائد کام کرتے ہیں، مگر انہیں زندگی کی بنیادی سہولتیں تک دست یاب نہیں۔ اس ضمن میں مختلف اوقات میں کیے جانے والے سرویز سے پتا چلتا ہے کہ بَھٹا خِشت مزدوروں کے نصف سے زائد خاندان کُھلے آسمان تلے یاغیر محفوظ مکانات میں رہائش پذیر ہیں۔
نیز، ان میں سے بیش ترمزدور پیشگی قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور کئی مزدوروں کو اُن کی پوری اُجرت بھی ادا نہیں کی جاتی، جس کی وجہ سے اُن کا معیارِ زندگی مزید پست ہوتا جا رہا ہے۔ سو، ان حالات میں ان مزدوروں کو ان کے قانونی حقوق کی فراہمی محض اخلاقی تقاضا ہی نہیں، بلکہ ان کی بنیادی ضرورت بھی ہے۔
دوسری جانب بلند شرحِ سود، کم اُجرتوں، کٹوتیوں اور جعلی اندراجات کی وجہ سے ان پر قرض کا بوجھ مسلسل بڑھتا جارہا ہے۔ یہ قرض نہ صرف ان مزدوروں کی زندگیاں متاثر کرتا ہے، بلکہ ان کی آئندہ نسلوں کے لیے بھی ایک بوجھ بن جاتا ہے۔ ایسے میں ہمارے ذہن میں یہ سوال بھی اُبھرتا ہے کہ کیا ہم بحیثیتِ قوم ان مزدوروں کی حالت زار کو بہتر کرنے کے لیے کوئی مؤثراورحقیقی اقدامات کر رہے ہیں یا پھر ہم نے ہمیشہ کے لیےاس طبقے کو نظرانداز کر دیا ہے۔
پھر انتہائی نامساعد حالات میں کام کرنے کی وجہ سے ان مزدوروں کو مختلف امراض کا بھی سامنا ہے۔ مثال کے طور پر یہ اینٹیں تیار کرنے کے لیے جوآلودہ پانی استعمال کرتے ہیں، اُس سےانہیں جِلد کی مختلف بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں، جب کہ بَھٹّوں سے اُٹھنے والا سیاہ، خطرناک دُھواں دمے سمیت دیگر امراض کا باعث بنتا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق، بَھٹّوں سے خارج ہونے والے دھویں نے ان مزدوروں کے خُون میں بھاری دھاتوں کی مقدار خطرناک حد تک بڑھا دی ہے، جو صحت کے سنگین مسائل جنم دیتی ہے۔ گرچہ پاکستان میں 16برس سے کم عُمر بچّوں کو خطرناک صنعتوں میں ملازم رکھنا قانوناً جرم ہے، مگر موجودہ اعداد و شمار یہی بتاتے ہیں کہ ہمارے مُلک میں آج بھی لاکھوں بچّے اینٹوں کے بَھٹّوں پر کام کرنے پر مجبور ہیں، جب کہ مختلف مقامی اور غیرمُلکی این جی اوز کی رپورٹس کے مطابق بھٹّا خِشت پر مزدوری کرنے والوں میں بچّوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
بعض اسٹڈیز میں یہ شرح 70 فی صد تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ اپنے دن کا بیش تر حصّہ بَھٹّوں پر گزارنے کی وجہ سے ان بچّوں کے لیے تعلیم کا حصول تقریباً ناممکن ہوجاتا ہے اور اکثر بچّے اپنے والدین کے قرض کے بوجھ کے وارث بن جاتے ہیں۔ نتیجتاً، اگر والدین بَھٹّوں کو چھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں، تو اُن کے بچّوں کو ضمانت کے طور پر روک لیاجاتا ہے اور یوں غلامی کا یہ چکر مزید مضبوط ہوجاتا ہے۔
بَھٹّے پر مزدوری کرنے والوں میں 14سالہ اسما بھی شامل ہے۔ گرچہ اس عُمر میں اس کے ہاتھوں میں کتابیں ہونی چاہیے تھیں، لیکن اس کے ہاتھ گیلی مٹی میں لتھڑے ہوئے ہیں۔ اسما کے مطابق، اُس کے والد نے موذی مرض میں مبتلا اس کی والدہ کے علاج کے لیے قرض لیا تھا، مگر وہ بچ نہ سکیں۔ پھر اُس نے اسکول کو خیرباد کہہ کر قرض اُتارنے اورگھرچلانے کے لیے مزدوری شروع کر دی اور یوں اُس کا تعلیم حاصل کرنے کا خواب چکنا چُور ہوگیا۔ اب اُس کا پورا دن اینٹوں کے ڈھیر میں گزرتا ہے۔
چاہے بخار ہو یا کوئی اور تکلیف، اُسے ہر دُکھ، درد فراموش کر کے ہرصُورت صبح سویرے محض یہ سوال لیے بَھٹّے پر آنا پڑتا ہے کہ ’’آج مُجھے کتنی اینٹیں تیار کرنی ہیں؟‘‘ یہ الفاظ صرف اسما ہی کے نہیں، بلکہ اُن ہزاروں بچّوں کے ہونٹوں پر ہوتے ہیں، جو کھیلنے کُودنے اور پڑھنے لکھنے کی عُمر میں بَھٹّوں میں جلتے خوابوں کے ساتھ جی رہے ہیں۔
یاد رہے، اگر ہم جبری مشقّت اور دَورِ جدید کی اس غلامی سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو اس ضمن میں محض زبانی دعوے، اعلانات کافی نہیں، بلکہ قانون کا مؤثر نفاذ، سیاسی عزم اور سماجی کاوشیں لازمی ہیں۔
ہمارے مُلک کی تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ محض روایتی نعروں پر انحصار کرنے کی بجائے جبری مشقّت کے خاتمے کو اپنے انتخابی منشور میں ایک واضح اور قابلِ عمل ترجیح کے طور پر شامل کریں، تاکہ یہ مسئلہ فلاحی بیانیے سے نکل کر قومی پالیسی ایجنڈے کا حصّہ بن سکے، لیکن یہ جدوجہد محض یہاں تک محدود نہیں رہ سکتی، بلکہ اس میں رائے عامّہ کی تشکیل کرنے والے اداروں کا کردار بھی فیصلہ کُن حیثیت رکھتا ہے۔
بَھٹّا خِشت میں مزدوری کرنے والے افراد اور جبری مشقت کے شکار بچّوں کی حالتِ زار معاشرتی انصاف اور انسانی حقوق کے دعوے داروں کے لیے ایک کُھلا چیلنج ہے۔ ’’گلوبل سلیوری انڈیکس 2020ء‘‘ کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان دُنیا کے ایسے ممالک میں شامل ہے، جہاں تقریباً 6.5 ملین افراد جبری مشقّت کا شکار ہیں اور اُس وقت ہمارا مُلک اس فہرست میں آٹھویں نمبر پر تھا، جب کہ تازہ ترین سروے بتاتے ہیں کہ پاکستان اب اس فہرست میں چھٹے نمبرپرہے، جب کہ متاثرین کی تعداد ابھی بھی لاکھوں میں ہے۔
مزید برآں، پاکستان بَھر میں 20 ہزار سےزائد بَھٹّےفعال ہیں اورتقریباً نصف کروڑ افراد اس صنعت سے براہِ راست وابستہ ہیں، جن میں سے 90 فی صد سے زائد مزدور پیشگی قرض کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہمارا میڈیا اگر اپنی وقتی ترجیحات سے بالاتر ہو کران دبے ہوئے المیوں کو قومی بیانیے کے طور پرجگہ دے، تو غلامی کی یہ جدید شکل پس منظر میں نہیں رہ سکے گی، لیکن اگر یہ آوازیں دبا دی گئیں، تو یہ ناانصافی وراثتی زنجیر کی صُورت اختیار کرلے گی اور پاکستان نہ صرف اپنی اخلاقی ساکھ، حیثیت کھودے گا بلکہ انسانی وقار کے عالمی پیمانے پرکسی صُورت پورا نہیں اُترے گا۔ نیز، پاکستان اُس وقت تک انسانی حقوق کے محاذ پر ترقّی کا دعویٰ نہیں کرسکتا کہ جب تک اس کے بَھٹّوں میں ہزاروں لوگ غلام ہیں۔