اسلام آباد (ایجنسیاں)پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد کو بتائے بغیر نئی دہلی مغربی دریاؤں پرکوئی منصوبہ نہیں بناسکتا‘ سندھ طاس معاہدے کے تحت اہم سوالات کے جواب فراہم کرے ‘انڈیا خطے میں تناؤ بڑھانے کی کسی بھی کوشش سے باز رہے‘ڈھاکا میں اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے درمیان مصافحے کی تصویر تصویر دیکھی ہے اور اس معاملے پر ایاز صادق خود وضاحت بھی دے چکے ہیں‘اس بیان میں وہ مزید کوئی اضافہ یا کمی نہیں کر سکتے‘پاکستان یمن تنازع کے پرامن حل کی حمایت اور خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے‘ افغان علما کی جانب سے جاری فتویٰ اور افغان قیادت کے حالیہ بیانات مثبت پیش رفت ہیں تاہم پاکستان اب بھی افغانستان کی جانب سے عملی ضمانتوں کا انتظار کر رہا ہے‘پاک چین اسٹریٹجک مذاکرات 4جنوری سے بیجنگ میں ہوں گے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ نئے سال کے آغاز پر پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا باقاعدہ تبادلہ کیا گیا‘پاکستان میں موجود 257 بھارتی قیدیوں کی فہرست بھارت کے حوالے کی گئی۔ اسی طرح جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا سالانہ تبادلہ بھی یکم جنوری کو کیا جاتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان برادر اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان تائیوان سمیت تمام بنیادی اور حساس امور پر چین کی مکمل حمایت کرتا ہے۔بھارت سے متعلق سوالات کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے دولہتی اسٹیٹ پراجیکٹ سے متعلق رپورٹس دیکھی گئی ہیں اور پاکستان اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے‘پاکستان بھارت سے سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کرتا ہے۔ترجمان کے مطابق پاکستانی انڈس واٹر کمشنر نے اپنے بھارتی ہم منصب کو متعدد سوالات ارسال کیے ہیں اور پاکستان ان سوالات کے بروقت اور تسلی بخش جواب کا منتظر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ افغان سرزمین کسی بھی صورت پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ترجمان نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کے لیے انسانی امداد کا ایک قافلہ بھیجا گیا تھا، تاہم افغان حکام نے وزیراعظم کے اعلان کردہ اس امدادی قافلے کو روک لیا۔